- فتوی نمبر: 32-217
- تاریخ: 06 مئی 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
امام ابوحنیفہؒ کو “ابو حنیفہ” کیوں کہتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
امام اعظم ابوحنیفہؒ کو “ابو حنیفہ” کہنے کی دو وجہیں منقول ہیں:
1۔ حنفیہ “حنف” سے واحد مؤنث کا صیغہ ہے جس کا موصوف محذوف ہے جو کہ ملت ہے اور حنف کا مطلب ہے “سب سے کٹ کر کسی ایک طرف کا ہوجانا” لہذا حنیفہ کا مطلب ایسی ملت ہے جو اپنے پیروکاروں کو سب سے کٹ کر ایک اللہ اور اس کے دین کی طرف ہو رہنے کا کہتی ہے۔
امام صاحبؒ نے چونکہ ساری زندگی اسی ملت حنیفہ کی خدمت کی تھی اس لیے انہوں نے اپنے لیے یہ کنیت اختیار فرمائی۔
2۔ حنیفہ کا ایک معنیٰ اہل عراق کی لغت ( زبان ) میں “دوات” کے ہیں اور امام صاحب کی مجلس میں بیٹھنے والے ہر وقت قلم اور دوات لے کر بیٹھتے تھے تاکہ امام صاحبؒ کے علوم کو مرتب کریں اس وجہ سے امام صاحبؒ کی کنیت “ابو حنیفہ” پڑ گئی۔
الخیرات الحسان ، شہاب الدین احمد بن محمد بن علی بن حجر الہیثمی الشافعی (ت:974ھ) میں ہے:
أن كنيته ابوحنيفة مؤنث حنيف وهو الناسك او المسلم لان الحنف الميل والمسلم مائل الى الدين الحق وقيل: سبب تكنيته بذلك ملازمته للدواة المسماة حنيفة بلغة العراق وقيل: كانت له بنت تسمى بذلك ورد بانه لا يعلم له ولد ذكر ولا انثى غير حماد.أنظر الخيرات الحسان [ص:44]
خیر الفتاویٰ (1/492) میں ہے:
سوال: امام اعظم ابوحنیفہؒ کو ابوحنیفہ کہنے کی کیا وجہ ہے؟ اس کنیت کی وجہ مطلوب ہے؟
جواب:حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جو سب سے کٹ کر صرف اللہ کا ہو رہے۔ اسلام کو دین حینف اور ملت حنیفہ کہتے ہیں کیونکہ اسلام بھی اپنے پیروکاروں کو یہ تعلیم دیتا ہے امام صاحب نے چونکہ زندگی ہی ملت حنیفہ کی خدمت کے لیے وقف کی ہوئی تھی اس لیے ابو حنیفہ کنیت اختیار فرمائی جس کا معنیٰ ہے ملت حنیفہ والا۔ حقیقت یہی ہے۔ اس کے علاوہ لوگ جو وجوہ بیان کرتے ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ نہ حنیفہ امام صاحب کی کوئی لڑکی تھی اور نہ ہی حنیفہ نامی کسی لڑکی کی موجودگی میں کوئی سوال وجواب کا قصہ پیش آیا۔[الخيرات الحسان، للعلامہ ابن الحجر المكى الشافعى]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved