• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

اس شرط پر رقم لینا کہ بعد میں مکان واپس کروں گا

استفتاء

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ماموں کو پیسوں کی ضرورت تھی اور میرا بحریہ آرچرڈ میں ایک پلاٹ ہے جو کہ تقریبا ساڑھے چھ مرلے کا ہے میرے ماموں نے کہا کہ تم یہ پلاٹ بیچ کر مجھے پیسے دےدو اور بدلے میں  جب میری زمین سیل ہو جائے گی توساڑھے چھ مرلے کا پلاٹ *** میں آپ کو لے دوں گا اور اوپر کے جو اضافی تیس یا چالیس ہزار لگیں گے وہ ڈال دوں گا کیونکہ بحریہ ٹاؤن کا پلاٹ بحریہ آرچرڈ سے مہنگا ہے کیا ایسا کرنا شرعا جائز ہے؟ اگر یہ صورت جائز نہیں  تو متبادل کیا صورت ہو گی؟

جواب فتوے کی صورت میں چاہیے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت جائز نہیں۔ متبادل صورت یہ ہے کہ آپ اپنا  پلاٹ فروخت کر کے اپنے ماموں کو رقم بطور قرض دے دیں اور بعد میں اتنی ہی رقم واپس لے لیں یا پھر اپنا پلاٹ  اپنے ماموں کو ہی ادھار  فروخت کر دیں  اور وہ یہ پلاٹ  فروخت کر کے اپنی ضرورت پوری کر لیں اور جتنی قیمت طے ہوجائے وہ ان کے ذمے واپس کرنا ہوگا اور باہمی رضامندی سے کچھ بھی قیمت طے کی جاسکتی ہے۔

توجیہ: مذکورہ صورت قرض کی تو بنتی نہیں کیونکہ  پہلےسے یہ طے ہے کہ واپسی پر پلاٹ ملے گا  اور اسے بیع پر بھی محمول نہیں کرسکتے کیونکہ بیع کی صورت میں یہ بیع سلم بنے گی جبکہ زمین چونکہ قیمی اشیاء میں سے ہے لہٰذا  اس  میں  بیع سلم جائز نہیں اس لیے مذکورہ صورت جائز نہیں۔

تنوير الابصار(7/406)میں ہے:

القرض هو عقد مخصوص يرد على دفع مال مثلي لآخر ليرد مثله وصح في مثلي لا في غيره فيصح استقراض الدراهم والدنانير.

الدر المختار (7/49) میں ہے:

(وصح بثمن حال) وهو الاصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضى إلى النزاع

الدر المختار(7/ 478)میں ہے:

هو بيع آجل بعاجل ۔۔۔۔۔ ويصح فيما امكن ضبط صفته ومعرفة قدره كمكيل وموزون ومثمن وعددي متقارب.

مجمع الانہر فی شرح ملتقى الابحر (2/ 488) میں ہے:

(والمبادلة) أي الإعطاء من الجانبين (أغلب في غيرها) أي في غير المثليات من ‌العقار وسائر المنقولات للتفاوت بين أبعاضها.

فقہ البیوع (1/570) میں ہے:

أن يكون المسلم فيه من المثليات فيجوز السلم في المكيلات أو الموزونات أو المذروعات أو العدديات المتقاربة التى لا تتفاوت أحدها إلا تفاوتا يسيرا يتسامح فى مثله عرفا كالجوز والبيض.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved