• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

قصر نماز کی ایک صورت

استفتاء

ہمارے باپ دادا کی  زمینیں ہمارے گاؤں کی آبادی کے اختتام سے لیکر جہاں جانا ہے وہاں    کی آبادی  تک تقریبا 80 یا 85 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں اور ہمارے رشتہ داروں کے وہاں گھر بھی موجود ہیں اب ہمیں اپنی زمینوں کی دیکھ  بھال کے لیے 5-6 دن وہاں جا کر رہنا پڑتا ہے۔ ہم نے اور ہمارے آباء واجداد نے ان زمینوں میں کبھی مستقل رہائش اختیار نہیں کی  تو آیا ہم ان 5 یا 6 دنوں میں قصر نماز پڑھیں گے یا مکمل نماز پڑھیں گے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذكوره صورت میں آپ ان 5 یا 6 دنوں میں قصر نماز پڑھیں  گے۔

توجیہ:  چونکہ مذکورہ گاؤں میں نہ تو آپ لوگوں کی مستقل رہائش ہے اور نہ آپ لوگ وہاں 15 یا زیادہ دنوں کی نیت سے جاتے ہیں اور وہ گاؤں آپ کے گاؤں سے مسافت  سفر پر بھی ہے اس لیے آپ لوگ وہاں مسافر ہوں گے صرف وہاں پر آپ لوگوں کی زمینیں ہونے کی وجہ سے مقیم نہیں بنیں گے۔

البحر الرائق (2/147) میں ہے:

وفي المحيط، ولو كان له أهل بالكوفة، وأهل بالبصرة فمات أهله بالبصرة وبقي له دور وعقار بالبصرة قيل البصرة لا تبقى وطنا له؛ لأنها إنما كانت وطنا بالأهل لا بالعقار، ألا ترى أنه لو تأهل ببلدة لم يكن له فيها عقار صارت وطنا له، وقيل تبقى وطنا له؛ لأنها كانت وطنا له بالأهل والدار جميعا فبزوال أحدهما لا يرتفع الوطن كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر اهـ.

وفي المجتبى نقل القولين فيما إذا نقل أهله ومتاعه وبقي له دور وعقار ثم قال وهذا جواب واقعة ابتلينا بها وكثير من المسلمين المتوطنين في البلاد، ولهم دور وعقار في القرى البعيدة منها يصيفون بها بأهلهم ومتاعهم فلا بد من حفظها أنهما وطنان له لا يبطل أحدهما بالآخر

فتاویٰ عثمانی (1/502) میں ہے:

سوال:  زید علاقہ کالا باغ بستی کوٹ چاندنہ کا رہنے والا ہے اور وہ اس کا آبائی وطن ہے۔ کسی وجہ سے زید اپنے آبائی وطن سے نقل مکانی کر کے ریاست بھاولپور ضلع رحیم یار خان میں اپنا تاہل بنا لیتا ہے جو اس کے آبائی وطن سے تقریبا چار سو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ حسب ارشاد گرامی حضور  ﷺ: من تاھل فی بلد فلیصل صلوة المقیم  نماز کی قصر نہ کرے گا لیکن اگر کبھی اپنے آبائی وطن میں اس کا آنا ہو اور وہاں چودہ دن سے کم رہنے کا ارادہ ہو تو وہاں صلوٰۃ مقیم ادا کرے گا یا قصر؟

جواب: صورت مسئولہ میں اگر آپ کا ارادہ اپنے آبائی وطن (کوٹ چاندنہ) میں بطور وطن رہنے کا نہیں ہے تو اب یہ بستی آپ کی وطن اصلى نہیں رہی، لہٰذا آپ جب مسافت سفر طے کر کے یہاں آئیں تو قصر کریں گے۔ محض جائیداد اور مکانات ہونے کی بناء پر اس صورت میں اسے وطن اصلی نہیں کہا جائے گا۔

احسن الفتاویٰ (4/75) میں ہے:

سوال: ایک شخص درسانوچھنو کا رہنے والا ہے اور اس کی زمین لسبیلہ میں ہے مگر اس کے اہل وعیال وہاں نہیں  صرف زمین ہے، درسانو چھنو سے لسبیلہ تک بہتر میل کا فاصلہ ہے اب وہ شخص درسانو چھنو سے کراچی آکر جو بائیس میل ہے کچھ گھنٹے قیام کرکے کراچی سے لسبیلہ جاتا ہے جو کراچی سے پچاس میل کے فاصلہ پر ہے تو کیا یہ شخص کراچی تک مقیم سمجھا جائے گا جبکہ شروع ہی سے اس کا ارادہ لسبیلہ جانے کا تھا اور پھر لسبیلہ جانے کے بعد وہاں زمین کی وجہ سے مقیم سمجھا جائے گا؟

جواب: یہ شخص لسبیلہ جانے کی نیت سے درسانوچھنو سے نکلتے ہی مسافر ہوگیا کراچی میں قصر کرے گا اور  لسبیلہ میں بھی مسافر ہی رہے گا زمین کی وجہ سے مقیم نہ   ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved