- فتوی نمبر: 37-61
- تاریخ: 15 اکتوبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام، ليعقوب بن السيد علی حنفی ، ت: ۹۳۱ھ (ص:530 ) میں جماع کے بعد پیشاب کرنے کے متعلق یہ عبارت منقول ہے:
(ويجب ان يبول بعد الوطأ والا تردد) فيه (بقية المني فيكون منه داء) اي مرض (لا دواء) ولا علاج (له)
ترجمہ:”اور جماع کے بعد پیشاب کرنا واجب ہے اور تردد نہ کرے؛ اس میں منی کا کچھ حصہ باقی رہ جاتا ہے، جس سے بیماری، یعنی مرض، پیدا ہو جاتی ہے، جس کی نہ کوئی دوا ہے اور نہ کوئی علاج۔”
یہی بات” کتاب المنبع “میں بھی مذکور ہے۔
سوال یہ ہے کہ مذکورہ عبارت میں “ویجب” سے کیا شرعی وجوب مراد ہے، یا جماع کے بعد پیشاب کرنا محض طبی مشورہ ہے؟ اور اگر کوئی شخص جماع کے بعد پیشاب نہ کرے تو کیا اس صورت میں شرعاً وہ گناہ گار ہوگا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ عبارت میں “یجب” سے شرعی وجوب مراد نہیں ہے بلکہ طبی مشورہ مراد ہے اور پیشاب نہ کرنے کی صورت میں گناہ نہ ہوگا کیونکہ حدیث و فقہ کی رو سے اس موقع پر پیشاب کرنا واجب نہیں ہے نیز اس عبارت کے سیاق وسباق میں بھی طب کا ذکر ہے چنانچہ اس سے پہلے والی عبارت میں ہے :
لا يداوم على ترك الوطئ فان البئر اذا لم تنزح ذهب ماؤها وربما عرض لتاركه أمراض مثل الدوار وظلمة البصر وثقل البدن وورم الخصية وورم ثدي المرأة على ما ذكر في كتب الطب
نوٹ:سوا ل میں مذکورہ عبارت کا جو ترجمہ کیا گیا ہے وہ درست نہیں ہے ۔لفظ “والا تردد” نہی کا صیغہ نہیں ہے بلکہ “الا” حرف استثناء ہے اور “تردد” ماضی کا صیغہ ہے اور “بقیۃالمنی” تردد کا فاعل ہے جس کا معنی یہ ہے کہ اگر پیشاب نہ کیا تو باقی منی واپس لوٹے گی ۔
خزانۃ المفتین لمحمد بن الحسین الحنفی ،ت ۷۴۶ھ (ص 114 ) میں ہے:
لو جامع فاغتسل قبل أن يبول وصلى جازت صلاته
فتاوی دار العلوم دیوبند (1/127) میں ہے :
سوال:سنا ہے کہ صحبت کرنے کے بعد جب تک پیشاب نہ کرے پاک نہ ہوگا؟
جواب: یہ غلط مشہور ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved