• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

خلع نامے پر دستخط کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ 2013 کو میری اہلیہ کی طرف سے خلع کے 3 پیپر آئے جن پر اہلیہ کے دستخط تھے، وہ کاغذات کھولے بغیر میں سسرال گیا اور اہلیہ کو راضی کر کے اپنے پاس لے آیا، 2015 میں وہ پھر واپس چلی گئیں، اور کہا کہ میں نے آپ کے ساتھ نہیں رہنا، میں نے کہا کہ اگر نہیں رہنا چاہتیں تو خلع لے لیں، تو انہوں نے 2013 میں بھیجے ہوئے خلع کےپیپر دوبارہ مجھے واپس بھیج دئیے تو میں نے ایک پیپر پر سائن کردیا پھر تقریبا 21 دن بعد بقیہ دو پیپرز پر دستخط کردئیے۔ پیپر کے عنوان میں لکھا ہے کہ”deed of divorse by way of khula”  (دستاویز برائے طلاق بصورت خلع) میں نے صرف یہی پڑھا ہے، اندر کیا لکھا ہوا ہے یہ مجھے معلوم نہیں تھا کیونکہ میری انگریزی کمزور ہے،  میرے اور میری اہلیہ کے ذہن میں  یہی تھا کہ  ہم خلع کر رہے ہیں اور میں طلاق نہیں دے رہا، کاغذات پر بھی خلع کی نیت سے دستخط کیے تھے۔ چونکہ ہمارے ذہن میں یہ تھا کہ ہم خلع کا معاملہ کررہے ہیں اس لیے حق مہر نہ اہلیہ نے  مانگا اور نہ میں نے دیا، براہِ کرم راہنمائی فرمائیں کہ پیپر کی اس تحریر سے طلاق تو نہیں ہوئی؟

میرا اس اہلیہ سے ایک بیٹا بھی ہے اور ہم دونوں کا ذہن ہے کہ ہم رجوع کرلیں اور دوبارہ اکٹھے رہیں، میری اہلیہ کا دوسری جگہ نکاح بھی نہیں ہو اہے۔ آیا ہم رجوع کرسکتے ہیں یا نہیں؟

خلع نامہ کی عبارت:

DEED OF DIVORCE BY WAY OF KHULA

 (with mutual consent of the parties)

 THIS DEED Of DIVORCE BY WAY OF KHULA is hereby made at Karachi on this……. day of ……2013

BETWEEN

MRS. zainab D/o umar Muslim, adult resident of House No. -*******AND

Zaid S/o Khalid. Muslim, adult, resident of House No****** hereinafter referred to as the Husband/ Party of the Second Part………………

I, Zaid S/o Khalid do hereby Divorce khula you Zainab D/o MUHAMMAD Umar

I, Zaid S/o Khalid do hereby Divorce khula you Zainab D/o MUHAMMAD Umar

I, Zaid S/o Khalid do hereby Divorce khula you Zainab D/o MUHAMMAD Umar

دستاویز برائے طلاق بصورت خلع

(برضامندی فریقین )

یہ دستاویز برائے طلاق بصورت خلع بتاریخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2013  کراچی میں تیار کی گئی۔

مابین

زینب دختر عمر ، مسلمان، بالغ، رہائشی مکان  نمبر  *******، شناختی کارڈ نمبر  *******

اور

زید ولد خالد ، مسلمان، بالغ، رہائشی مکان نمبر *****، شناختی کارڈ نمبر******

1۔ میں زید  ولد خالد تم  زینب دختر عمر کو طلاق  خلع دیتا ہوں۔

2۔ میں زید  ولد خالد تم  زینب دختر عمر کو طلاق  خلع دیتا ہوں۔

3۔ میں زید  ولد خالد تم  زینب دختر عمر کو طلاق  خلع دیتا ہوں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر نے اپنی رضامندی سے خلع نامے پر دستخط کیے ہیں لہذا  خلع درست ہو گیا ہے اور ایک بائنہ طلاق واقع ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہو گیا ہے، لہذا اگر میاں بیوی اکٹھے رہنا چاہیں تو کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر کے رہ سکتے ہیں۔

نوٹ:دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں شوہر کے پاس آئندہ صرف دو طلاقوں کا حق باقی ہو گا۔

توجیہ: خلع نامے میں اگرچہ  تین مرتبہ خلع  کا لفظ مذکور ہے لیکن ایک بائنہ طلاق واقع ہوئی ہے کیونکہ اولا تو شوہر کو معلوم نہیں تھا کی تین مرتبہ خلع کا لفظ لکھا ہے، اور اگر شوہر کو معلوم بھی ہوتا تو پھر بھی لا یلحق البائن البائن کے تحت ایک طلاق واقع ہوتی۔

بدائع الصنائع (3/229) میں ہے:

وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.

البحرالرائق (120/4) میں ہے:

(قوله الواقع به، وبالطلاق على مال طلاق بائن) أي بالخلع الشرعي أما الخلع فقوله عليه الصلاة والسلام الخلع تطليقة بائنة، ولأنه يحتمل الطلاق حتى صار من الكنايات، والواقع بالكناية بائن.

درمختار (4/531) میں ہے:

(لا) يلحق البائن (البائن)

بدائع الصنائع (295/3) میں ہے:

فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر لأن ما دون الثلاثة وإن كان بائنا فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved