• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کیا گالی دینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

استفتاء

کیا گالی دینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

گالی دینے سے وضو نہیں ٹوٹتا لیکن چونکہ گالی دینا گناہ ہے اس لیے گناہ کا اثر ختم کرنے کے لیے دوبارہ وضو کرنا بہتر ہے،  ضروری نہیں۔

الدر المختار مع ردالمحتار (1/295) میں ہے:

‌وصفتها ‌فرض للصلاة وواجب للطواف …….. وسنة للنوم، ومندوب في نيف وثلاثين موضعا ذكرتها في الخزائن: منها بعد كذب وغيبة وقهقهة وشعر وأكل جزور وبعد كل خطيئة

(قوله: وبعد كل خطيئة) عطف عام على خاص بالنسبة إلى ما ذكره مما هو خطيئة وذلك لما ورد في الأحاديث من تكفير الوضوء للذنوب.

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (ص: 82) میں ہے:

“‌الوضوء ‌على ‌ثلاثة أقسام: الأول” منها أنه “فرض” ……. “و” القسم “الثاني” وضوء “واجب” ….. “و” القسم “الثالث” وضوء “مندوب” في أحوال كثيرة كمس الكتب الشرعية …… ‌وبعد ‌كل ‌خطيئة

قوله: “‌وبعد ‌كل ‌خطيئة” منها الشتيمة والنفاق والتملق والشتيمة هي السب في الوجه

فتاویٰ محمودیہ (5/68) میں ہے:

سوال : وضو کرنے کے بعد اگر کوئی شخص گالیاں وغیرہ دیدے تو پھر اس کے لیے وضو کرنا ضروری ہے یا نہیں؟یعنی اس کا سابقہ وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

جواب :گالیاں دینے کا گناہ ہوگا مگر یہ ناقص وضو نہیں البتہ وضو کر لینا مستحب ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved