• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کیا پاکستانی کمپنی Bisconi (بسکونی) کا Digestive Sugar Free (ڈائجیسٹو شوگر فری)بسکٹ کھانا جائز ہے؟

استفتاء

کیا پاکستانی کمپنی Bisconi (بسکونی) کا Digestive Sugar Free (ڈائجیسٹو شوگر فری)بسکٹ کھانا جائز ہے؟ اس کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں۔

Wheat Flour (ویٹ فلور ), Wheat Bran(ویٹ بران  ) , Vegetable Oil (Palm Oil)(نباتاتی تیل), Malt Extract( مالٹ ایکسٹریکٹ), Maltitol( مالٹیٹول)        , Soy Lecithin E-322 ( سویا لیسیتھن), Salt (نمک)      , Whey Powder( وے پاؤڈر ), Ammonium Bicarbonate (E-503) ( امونیم بائی کاربونیٹ), Polysucralose(پولی سکرالوز), E-320, E-321, Sorbitol(سوربیٹول), Maltodextrin( مالٹوڈیکسٹرین), Sodium Acid Pyrophosphate(E450) (سوڈیم ایسڈ پائروفاسفیٹ), Sodium Bicarbonit(E500) (سوڈیم بائی کاربونیٹ)

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

پاکستانی کمپنی   Bisconi (بسکونی) کے  Digestive Sugar Free (ڈائجیسٹو شوگر فری)بسکٹ کے اجزائے ترکیبی میں سے کسی جز کے حرام ہونے پر ہمیں کوئی قابل اعتبار دلیل نہیں ملی لہذا جب تک مذکورہ بسکٹ میں کسی حرام جز کے شامل ہونے کی قوی دلیل سامنے نہیں آتی تب تک اس بسکٹ کے کھانے کی گنجائش ہے۔

توجیہ: مذکورہ بسکٹ کے پیکٹ پر 16 اجزائے ترکیبی مذکور ہیں جن میں سے آٹھ (8) نباتاتی ، پانچ (5) مصنوعی، دو (2) معدنی  اور ایک (1)  حیوانی ہیں۔

نباتاتی اجزاء:

1۔Wheat Flour (ویٹ فلور )گندم کا آٹا۔

2۔Wheat Bran (ویٹ بران  )گندم کا چوکر  یہ گندم کے دانے کا باہر والا  سخت چھلکا ہوتا ہے۔

3۔ Vegetable Oil (Palm Oil)  (نباتاتی تیل)

4۔ Malt Extract ( مالٹ ایکسٹریکٹ) گاڑھے رنگ کا شربت ہے جو کے دانوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔

5۔ Maltitol ( مالٹیٹول) چینی کا متبادل ہے ،  مکئ یا گندم سے بنتا ہے۔

6۔ Soy Lecithin (E-322)  ( سویا لیسیتھن)یہ  سویا بین سے حاصل کیا جاتا ہے۔

7۔ Maltodextrin ( مالٹوڈیکسٹرین)نباتاتی نشاستے سے تیار کردہ  لئی۔

8۔ Sorbitol (سوربیٹول)یہ میٹھا قلمی الکحلی مادہ  ہے جو بعض پھولوں میں پایا جاتا ہے اور  غذائی صنعت میں ایک جزو کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

نباتاتی اجزاء کا حکم:

نباتاتی اجزاء کا حکم یہ ہے کہ  ان میں سے نشہ آور یا مضر اجزاء کے علاوہ سب پاک اور حلال ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق   مذکورہ اجزاءمیں سے کوئی بھی جزء نشہ آور یا مضر نہیں ہے لہٰذا یہ سب اجزاء پاک  اور حلال ہیں۔

معدنی اجزاء:

9۔ Salt ( نمک )

10۔Sodium Acid Pyrophosphate(E450)  (سوڈیم ایسڈ پائروفاسفیٹ)اس کو فاسفورک  ایسڈ اور سوڈیم کے معدنی مرکبات کو کمیائی عمل سے گذار کر بنایا جاتا ہے)

معدنی اجزاء  کاحکم:

معدنی اجزاء کا حکم بھی نباتات والا ہے کہ نشہ آور یا مضر کے علاوہ سب پاک اور  حلال ہیں۔اور ہماری معلومات  میں مذکورہ اجزاء میں کوئی جزء نشہ آور  یا مضر نہیں ہے لہٰذا یہ سب اجزاء پاک اور حلال ہیں۔

حیوانی اجزاء:

11۔ Whey Powder ( وے پاؤڈر ) رینٹ سے بنتا ہے اور رینٹ حیوانی نباتاتی جراثیمی مائیکرو بیل  اور مصنوعی ہوتا ہے صنعتی پیمانے پر عام طور سے چونکہ غیر حیوانی استعمال ہوتا ہے لہذا اسے حلال سمجھا جائے گا)

مصنوعی اجزاء:

12۔ Ammonium Bicarbonate (E-503) ( امونیم بائی کاربونیٹ)مختلف گیسز اور کیمیکلز کو باہم ملا کر بنایا جاتا ہے۔

13۔ Polysucralose (پولی سکرالوز) مصنوعی مٹھاس ہے چینی کے متبادل استعمال ہوتی ہے۔

14۔Sodium Bicarbonit (E-503) (سوڈیم بائی کاربونیٹ) اسے بیکنگ سوڈا بھی کہتے ہیں۔

15۔ (E-320)

16۔  (E-321)  یہ کیمیکلز ہیں جو پٹرولیم اور قدرتی گیس سے حاصل ہونے والے خام کیمیائی مادوں سے تیار کیے جاتے ہیں۔

مصنوعی اجزاء کا حکم

مصنوعی اجزاء بھی در حقیقت مذکورہ بالا تین اجزاء(نباتاتی،معدنی اور حیوانی) میں سےکسی ایک سے یا  ایک سے زائد سے ہی تیارہوتے ہیں ان سے ہٹ کرکسی اور چیز سے تیار نہیں ہوتے ، اس لیے مصنوعی اجزاءکا اصل حکم تو اسی وقت معلوم ہو سکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ ان کو کن اشیاء سے تیار کیا گیا ہے اور پھر اس مصنوع  میں ان میں سے کون سا مصنوعی جز  استعمال کیا گیا ہے۔ مذکورہ صورت میں  چونکہ ان اجزاء کےکسی حیوان یا دیگر حرام اشیاء سے تیار ہونے کا یقین   یا غالب گمان نہیں اس لیے جب تک ان مصنوعی اجزاء کے کسی حرام جانور یا کسی حرام شے سے حاصل ہونے کا یقین  یا غالب گمان نہ ہو اس وقت تک ان مصنوعی اجزاء کو بھی حلال کہا جائے گا۔

واضح رہے کہ مصنوعی جز کے  حیوان سے ماخوذ  ہونے کا احتمال شبہۃ الشبہہ کا درجہ رکھتا ہے ا س لیے اس کا اعتبار نہ ہوگا۔

نوٹ:ہمارے اس فتوے کا تعلق صرف صارف (Consumer)کے ساتھ ہے کیونکہ ایک مفتی اور عام صارف کو کسی مصنوع (Product)کے ان اجزائے ترکیبی تک ہی رسائی ہو سکتی ہے جو پیکٹ پر درج ہوں اور وہ ان اجزاء کو ہی سامنے رکھ کر اپنے لیے یا دوسرے کیلئےحلال یا حرام کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ جبکہ   صانع(Manufacturer)کو اصل حقیقت کا علم ہوتا ہے اس لیے صانع(Manufacturer) نے اگر اپنی کسی مصنوع(Product)میں کوئی حرام جز شامل کیا ہو اور اسے کسی بھی مصلحت سے اجزائے ترکیبی میں ذکر نہ کیا ہو تو صانع (Manufacturer) کا یہ فعل بہرحال حرام ہوگا اور چونکہ ہمارے پاس ایسے وسائل نہیں کہ ہم اس کی تحقیق کر سکیں کہ کسی مصنوع میں واقعتاً کوئی حرام جز شامل تو نہیں ،اس لیے ہمارے اس فتوے کی صانع (Manufacturer)  کے لیے سرٹیفکیٹ کی حیثیت نہیں ہے۔

نیز ہمارا یہ فتوی موجودہ پیکٹ پر درج اجزائے ترکیبی کے بارے میں ہے لہٰذا اگر کمپنی آئندہ اجزائے ترکیبی میں کوئی تبدیلی کرے تو ہمارا یہ فتوی اس کو شامل نہ ہوگا۔

إحياء علوم الدين(5/811)میں ہے:

أما المعادن فهي أجزاء الأرض وجميع ما يخرج منها فلا يحرم أكله إلا من حيث أنه يضر بالآكل….. وأما النبات فلا يحرم منه إلا ما يزيل العقل أو يزيل الحياة أو الصحة

شرح القسطلانی (4/11) میں ہے:

عن عائشة  رضي الله عنها: “‌أن ‌قوما ‌قالوا: يا رسول الله إن قوما يأتوننا باللحم لا ندري أذكروا اسم الله عليه أم لا؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: سموا الله عليه وكلوه…. ……… قال في فتح الباري: وغرض المصنف هنا بيان ورع الموسوسين كمن يمتنع ‌من ‌أكل ‌الصيد خشية أن يكون الصيد كان لإنسان ثم انفلت منه وكمن يترك شراء ما يحتاج إليه من مجهول لا يدري أماله حرام أم حلال، وليست هناك علامة تدل على الحرمة، وكمن يترك تناول الشيء لخبر ورد فيه متفق على ضعفه وعدم الاحتجاج به ويكون دليل الإباحة قويًا وتأويله ممتنع أو مستبعد

فتح الباری  (9/ 635) میں ہے:

«ويستفاد منه أن كل ما يوجد في ‌أسواق ‌المسلمين محمول على الصحة وكذا ما ذبحه أعراب المسلمين لأن الغالب أنهم عرفوا التسمية»

تبیین الحقائق(6/219) میں ہے:

’’ألا ترى أن ‌أسواق ‌المسلمين لا تخلو عن المحرم من مسروق ومغصوب، ومع ذلك يباح التناول اعتمادا على الظاهر‘‘

ہندیہ(5/340) میں ہے:

‌أكل ‌الطين ‌مكروه، هكذا ذكر في فتاوى أبي الليث – رحمه الله تعالى – وذكر شمس الأئمة الحلواني في شرح صومه إذا كان يخاف على نفسه أنه لو أكله أورثه ذلك علة أو آفة لا يباح له التناول، وكذلك هذا في كل شيء سوى الطين، وإن كان يتناول منه قليلا أو كان يفعل ذلك أحيانا لا بأس به، كذا في المحيط

بہشتی زیور (2/203) میں ہے:

جمادات سب پاک اور حلال ہیں الا یہ کہ مضر ہوں یا نشہ لانے والے ہوں…..نباتات سب پاک اور حلال ہیں الا یہ کہ مضر ہوں  یا نشہ لانے والے ہوں۔

بہشتی زیور (ص:775) میں ہے:

’’نباتات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضر یا مسکر ہو۔‘‘

امداد الفتاوی(96/4)میں ہے:

’’سوال (۲۳۷۴) : جب سے پتہ لگا ہے کہ بعض ولایتی رنگوں میں اسپرٹ کا شبہ ہے اسی وقت سے جب بھی کپڑا پہنتا ہوں تو طبیعت میں شک رہتا ہے کہ یہ کہیں ناپاک نہ ہو، حضرت اقدس ارشاد فرماویں کہ ولایتی رنگ دار کپڑوں مثلاً رنگین گرم کپڑے، رنگین دھاری دار سرد کپڑے، عورتوں کے لئے پختہ رنگ کی رنگین چھینٹیں وغیرہ بلا دھوئے پہننے اور پہن کر نماز پڑھنے میں حرج تو نہیں ہے؟

(۲) حضرت والا یہ بھی ارشاد فرماویں کہ عورتوں کے لئے ولایتی رنگوں سے دوپٹہ وغیرہ رنگ کر پہننے کا کیا حکم ہے؟

الجواب: اول تو خود ان رنگوں میں جزونجس شامل ہونے میں شبہ پھر ان کپڑوں میں ان رنگوں کے شامل ہونے میں شبہ تو کپڑوں کے نجس ہونے کا شبہۃ الشبہہ ہوگیا؛ اس لئے فتوے سے گنجائش ہے باقی اگر کوئی ورع اختیار کرلے اولیٰ واحسن ہے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved