• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

(Kyebella) کائبیلا انجکشن کے ذریعے ٹھوڑی کے نیچے کی زائد چربی ختم کروانے کا حکم

استفتاء

کیا  ٹھوڑی کے نیچے والے حصے میں بڑھ جانے والی چربی کو ختم کروانے کے لیے (Kyebella) کائبیلا انجکشن لگوانا جائز ہے ؟

تنقیح: (Kyebella) کائبیلا ویب سائٹ میں ہے :

KYBELLA is injectable treatment that destroys fat cells in the treatment area under the chin to improve your profile.

The active ingredient in KYBELLA is synthetic deoxycholic acid. Deoxycholic acid is a naturally occurring molecule in the body that aids in the breakdown and absorption of dietary fat. When injected into the fat beneath the chin, KYBELLA® destroys fat cells, resulting in a noticeable reduction in fullness under the chin

ترجمہ: کائبیلا ایک انجکشن کے ذریعہ  علاج ہے جو  ٹھوڑی کے نیچے موجود چربی کے خلیات کو ختم کر کے آپ کے چہرے کے خدوخال کو بہتر بناتا ہے۔کائبیلا کا فعال جزو مصنوعی ڈی آکسی کولک ایسڈ ہے۔ یہ ایک ایسا مادہ ہے جو جسم میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے اور خوراک میں موجود چربی کو توڑنے اور جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔جب اسے ٹھوڑی کے نیچے جمع چربی میں انجکشن کے ذریعے داخل کیا جاتا ہے تو کائبیلا چربی کے خلیات کو ختم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ٹھوڑی کے نیچے کی بھراوٹ واضح طور پر کم ہو جاتی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ (Kyebella) کائبیلا  انجکشن کے ذریعے  ٹھوڑی کے نیچے والے حصے میں بڑھ جانے والی چربی کو ختم کروانا جائز ہے۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں  ٹھوڑی کے نیچے والے حصے میں بڑھ جانے والی چربی کو ختم کروانا زینت کے لیے ہے ۔اور جو زینت خلاف شرع نہ ہو اس کا اختیار کرنا مرد و عورت  کے لیے جائز ہےنیز   اس میں ممنوع تغییر لخلق اللہ بھی نہیں ہے کیونکہ اس میں سرجری نہیں کی جاتی بلکہ    انجکشن   کے ذریعہ سے جسم میں موجود کیمیکل  کی مقدار کو بڑھایا جاتا ہے، گویا یہ زینت کے لیے  دوا کھانے  کی طرح ہے اور زینت کے لیے دوا کھانا جائز ہے۔

تکملہ فتح الملہم (4/169)میں ہے :

وأما ماتزينت به المرأة من تحمير الأيدي أو الشفاه أو العارضين بما لا يلتبس بأصل الخلقة فانه ليس داخلا في النهي

البحر الرائق (8/ 554)میں ہے:

والأصل أن ‌إيصال ‌الألم إلى الحيوان لا يجوز شرعا إلا لمصالح تعود إليه وفي الختان إقامة السنة وتعود إليه أيضا مصلحته لأنه جاء في الحديث «الختان سنة يحارب على تركها» وكذا يجوز كي الصغير وربط قرحته وغيره من المداواة وكذا يجوز ثقب أذن البنات الأطفال؛ لأن فيه منفعة للزينة وكان يفعل ذلك من وقته صلى الله عليه وسلم  إلى يومنا هذا من غير نكير

شامی (6/ 373) میں ہے:

«ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه، ففي تحريم إزالته بعد، ‌لأن ‌الزينة للنساء مطلوبة للتحسين،

عمدة القاری شرح صحيح  البخاری (20/ 193) میں ہے:

«قوله: (الموصلات) بضم الميم وفتح الواو وبالصاد المهملة بالفتح والكسر وفي رواية الكشميهني الموصولات. ثم العلة في تحريمه أما لكونه شعار الفاجرات أو تدليسا وتغيير خلق الله عز وجل، ولا يمنع من الأدوية التي تزيل الكلف وتحسن الوجه»

التوضيح لشرح الجامع الصحيح (25/ 45) میں ہے:

«والتحريم إما لكونه تدليسا، أو شعار الفاجرات، أو تغيير خلق الله. ولا يمنع من الأدوية التي تزيل الكلف وتحسن الوجه»

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved