- فتوی نمبر: 36-235
- تاریخ: 23 ستمبر 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
ایک ادارے کے لیے ہم نے کام کیا، اس کا بِل ایک لاکھ روپے بنا، اب اس (ملازم) کا کہنا ہے کہ مجھے ایک لاکھ تیس ہزار کا بِل بنا کردو، کیا یہ شرعاً جائز ہے؟ کیاہم ایسا کرکے دے سکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ کام جھوٹ، دھوکہ دہی کا ذریعہ اور ناجائز ہے۔
توجیہ: دھوکہ دہی کا ذریعہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ملازم اس بل کی بناء پر دھوکہ سے کمپنی سے زیادہ پیسے لیتے ہیں اور زائد پیسے خود رکھتے ہیں اور سائل اس کا ذریعہ بنتا ہے۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان [سورة المائدة:02]
فتاویٰ رحیمیہ (9/223)میں ہے:
سوال: زید کسی کمپنی میں ملازم ہے کمپنی نے اس کے ذمہ یہ کام سپرد کیا ہے کہ دوسرے کارخانوں میں جاکر کمپنی کے لئے ضرورت کی چیزوں کو خرید کر لائے ، زید چیزیں خرید تو لاتاہے یا چیزوں کے تیار کرنے کا آرڈر دے کر آتا ہے مگر زید کارخانہ والوں سے یہ ساز باز کرتا ہے کہ تم اپنے مقررہ دام سے اس قدر زائد دام کابل بنا دو ، اور کمپنی سے بل کا روپیہ وصول ہونے پر وہ زائد دام کی رقم مجھے دے دو، تو کیا زید کا یہ طریقہ صحیح ہے؟ اور یہ روپیہ کیااس کے لئے حلال وجائز ہے ؟ا ور کارخانہ والوں کو اس قسم کا بل بنا دینا اور زید کے ساتھ اس طرح کا تو افق وتعاون کرنا روا ہے، کیا یہ تعاون علی الا ثم والعدوان کا مصداق ہے ؟
جواب: زید کا یہ طریقہ قطعاً غلط اور ناجائز ہے ، زیداور کارخانے والے گنہگار ہوں گے اور قوله تعالى: ولا تعا ونوا علی الا ثم والعدوان کی خلاف ورزی کرنے والے قرار پائیں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved