• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“من کنت مولاه فهذا علی مولاه” کی وضاحت

استفتاء

من کنت مولاه فهذا علی مولاه” حدیث پاک کے الفاظ ہیں ۔ اس كا ترجمہ، مفہوم وغيره وضاحت سے فرماديں بعض لوگ اس حديث كو ليكرشرکیہ الفاظ، شرکیہ باتیں کہتے ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس حديث  کا ترجمہ یہ ہے ” میں جس کا مولیٰ ہوں پس یہ علیؓ اس کا مولیٰ ہے” اور اس حدیث کی تشریح یہ ہے کہ عربی زبان میں “مولیٰ” کے متعدد معانی ہیں جن میں بعض اس حدیث میں کسی حال میں مراد نہیں ہوسکتے مثلاً “مولیٰ” کا لفظ عربی زبان میں “رب” کے معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے ظاہر ہے کہ یہ معنیٰ اس حدیث میں مراد نہیں ہوسکتا۔

اسی طرح آزاد کردہ غلام کو بھی مولیٰ کہتے ہیں یہ معنیٰ بھی اس حدیث میں مراد نہیں ہوسکتا کیونکہ آپﷺ یا حضرت علیؓ کسی کے آزاد کردہ غلام نہیں تھے۔ البتہ “مولیٰ” کے بعض معانی ایسے ہیں جو اس حدیث میں مراد ہوسکتے ہیں مثلاً مولیٰ کا ایک معنیٰ “غلام آزاد کرنے والا ہے “یہ معنیٰ اس حدیث میں مراد ہوسکتا ہے اور  مطلب یہ ہوگا کہ جس غلام کو آزاد کر کے میں اس کا مولیٰ بنا ہوں حضرت علیؓ  بھی اس کے مولیٰ ہیں۔

اسی طرح مولیٰ کا ایک معنیٰ ” محبت کرنے والا ہے” یہ معنیٰ بھی اس حدیث میں مراد ہوسکتا ہے اور مطلب یہ ہوگا کہ میں جس سے محبت کرنے والا ہوں حضرت علیؓ بھی اس سے محبت کرنے والے ہیں اور ایک معنیٰ مولیٰ کا “مخلص دوست” ہے اور یہ معنیٰ بھی اس حدیث میں مراد ہوسکتا ہے اور مطلب یہ ہوگا کہ  میں جس کا مخلص دوست ہوں حضرت علیؓ بھی اس کے مخلص دوست ہیں۔ اور اس حدیث کے سیاق وسباق (یعنی جس پس منظر میں آپﷺ نے یہ حدیث بیان فرمائی اس ) کے لحاظ سے ایک معنیٰ مولیٰ کا محبوب ہے اور یہ معنیٰ بھی اس حدیث میں مراد ہوسکتا ہے بلکہ غالب یہی ہے کہ اس حدیث میں یہی معنیٰ مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ جس کا میں محبوب ہوں حضرت علیؓ بھی اس کے محبوب ہیں یعنی جو مجھ سے محبت کرے گا وہ حضرت علیؓ سے بھی محبت  کرے گا۔

مرقاۃ المفاتیں (10/463) میں ہے:

عن زيد بن أرقم  أن النبي  صلى الله عليه وسلم  قال: ” من ‌كنت ‌مولاه فعلي مولاه” . قيل، معناه: من كنت أتولاه فعلي يتولاه من الولي ضد العدو أي: من كنت أحبه فعلي يحبه، وقيل معناه: من يتولاني فعلي يتولاه، كذا ذكره شارح من علمائنا. وفي النهاية: المولى يقع على جماعة كثيرة فهو الرب والمالك والسيد والمنعم والمعتق والناصر والمحب والتابع والخال وابن العم والحليف والعقيد والصهر والعبد والمعتق والمنعم عليه، وأكثرها قد جاءت في الحديث فيضاف كل واحد إلى ما يقتضيه.

الحديث الوارد فيه، وقوله: ” ‌من ‌كنت ‌مولاه “. يحمل على أكثر هذه الأسماء المذكورة. قال الشافعي رضي الله عنه: يعني بذلك ولاء الإسلام كقوله تعالى: {ذلك بأن الله مولى الذين آمنوا وأن الكافرين لا مولى لهم} وقول عمر لعلي: أصبحت مولى كل مؤمن [أي: ولي كل مؤمن] وقيل: سبب ذلك أن أسامة قال لعلي: لست مولاي إنما مولاي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال صلى الله عليه وسلم: ” ‌من ‌كنت ‌مولاه فعلي مولاه” ” قضي ” قالت الشيعة: هو متصرف، وقالوا: معنى الحديث أن عليا رضي الله عنه يستحق التصرف في كل ما يستحق الرسول صلى الله عليه وسلم التصرف فيه، ومن ذلك أمور المؤمنين فيكون إمامهم أقول: لا يستقيم أن تحمل الولاية على الإمامة التي هي التصرف في أمور المؤمنين، لأن المتصرف المستقل في حياته هو هو صلى الله عليه وسلم لا غير فيجب أن يحمل على المحبة وولاء الإسلام ونحوهما.

لسان العرب (9/407) میں  ہے:

المولى: قال: وهو ‌اسم ‌يقع ‌على ‌جماعة كثيرة فهو: الرب والمالك والسيد والمنعم والمعتق والناصر والمحب والتابع والجار وابن العم والحليف والعقيد والصهر والعبد والمعتق والمنعم عليه…………. قال ابن الأثير:وقوله، صلى الله عليه وسلم: من كنت مولاه فعلي مولاه يحمل على أكثر الأسماء المذكورة وقول عمر لعلي، رضي الله تعالى عنهما: أصبحت مولى كل مؤمن أى ولى كل مؤمن.

القاموس الوحید (ص:1900) میں ہے:

المولیٰ: 1۔پروردگار، مالک آقا 2۔ کسی کام کا منتظم یا انجام دہندہ 3۔ مخلص دوست4۔ساتھی رفیق 5۔معاہد حلیف6۔ آنے والا مہمان 7۔ پڑوسی 8۔ شریک ساجھی 9۔داماد10۔ باپ  کی طرف سے رشتے دار جیسے چچا  یا چچا زاد بھائی11۔ انعام دینے والا12۔ انعام دیا جانے والا13۔ آزاد کردہ غلام14۔غلام 15۔ تابع پیرو16۔ غلام آزاد کرنے والا۔

مظاہر حق (5/693) میں ہے:

حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان میں  بہت سے الفاظ ایسے ہیں جو بیس بیس یا اس سے بھی زیادہ معنوں میں استعمال ہوئے ہیں ، لفظ مولیٰ بھی انہی الفاظ میں سے ہے۔

المولى المالك العبد العتيق المعتق الصاحب القريب ابن العم ونحوه الجار الحليف الابن العم النزيل الشريك ابن الاخت الولى الرب الناصر المنعم المنعم عليه المحب التابع الصهر.

من كنت مولاه فعلى مولاه اللهم وال من والاه وعاد من عاداه

خلاصہ یہ ہے کہ اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ  جس کا میں محبوب ہوں یہ علیؓ بھی اس کے محبوب ہیں لہٰذا جو مجھ سے محبت کرے اس کو چاہیے کہ وہ علیؓ سے بھی محبت کرے، آگے آپﷺ نے دعا فرمائی اے اللہ جو بندہ علی سے محبت وموالاۃ کا تعلق رکھے اس سے آپ بھی محبت وموالاۃ کا معاملہ فرمائیے اور جو کوئی علیؓ سےعداوت رکھے اس کے ساتھ عداوت کا معاملہ فرمائیے اور یہ دعائیہ جملہ اس کا واضح قرینہ ہے کہ اس حدیث میں مولیٰ کا لفظ محبوب کے معنیٰ میں ہے اور حضورﷺ کے اس ارشاد ” من كنت مولاه ” کا مسئلہ امامت وخلافت سے کوئی تعلق نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved