- فتوی نمبر: 26-62
- تاریخ: 14 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
شوہر کا بیان:
’’السلام علیکم! عرض ہے کہ میں زید اپنے ہوش وحواس میں یہ بیان لکھ رہا ہوں کہ میں نے مؤرخہ 7 نومبر، 2021ء کو گھریلو ناچاقی کی وجہ سے اپنی زوجہ ۔۔۔۔۔۔ کے لیے طلاق کے یہ الفاظ دو دفعہ استعمال کیے تھے کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں‘‘مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ دو دفعہ طلاق کا جملہ کہا تھا، تیسری بار نہیں کہا۔ غصہ کے باوجود مجھے معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور اس وقت کوئی خلافِ عادت کام بھی مجھ سے سرزد نہیں ہوا، البتہ میرے ذہن میں طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بس شدید غصہ میں یہ الفاظ استعمال کیے تھے۔ پھر اس کے بعد 24 نومبر کو ہم دونوں نے رجوع کرلیا تھا، دونوں نے اپنی زبان سے کہا تھا کہ میں نے رجوع کیا۔ تو کیا ہمارا نکاح قائم ہے؟‘‘
بیوی کا بیان:
’’جی میں مذکورہ بیان کی تصدیق کرتی ہوں، میرے شوہر نے مجھے 7 نومبر کو طلاق کے یہی الفاظ دو دفعہ بولے تھےاور اس کے چند دن بعد 24 نومبر کو میرے شوہر نے مجھے کہا تھا کہ میں نے رجوع کیا۔‘‘
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر واقعتا شوہر نے صرف دو طلاقیں دی تھیں تو مذکورہ صورت میں دو رجعی طلاقیں واقع ہوئی تھیں جن کے بعد عدت کے اندر شوہر کو رجوع کرنے کا حق حاصل تھا، چونکہ شوہر نے عدت کے اندر رجوع کرلیا تھا اس لیے یہ نکاح قائم ہے۔
نوٹ: آئندہ شوہر کے لیے صرف ایک طلاق کا حق باقی رہ گیا ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے شدید غصہ کی حالت میں طلاق کے الفاظ بولے تھے لیکن یہ غصہ اس درجے کا نہیں تھا کہ اسے کچھ معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کررہا ہے اور نہ ہی شوہر سے غصے میں کوئی خلافِ عادت قول یا فعل سرزد ہوا تھا۔ غصے کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے لہٰذا شوہر نے جب بیوی سے کہا تھا کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں‘‘ تو یہ الفاظ چونکہ طلاق کے لیے صریح ہیں اس لیے ان سے دو رجعی طلاقیں واقع ہوئی تھیں۔ اور رجعی طلاق کے بعد چونکہ عدت کے اندر رجوع کرنے سے رجوع ہوجاتا ہے اور نکاح قائم رہتا ہے، اس لیے شوہر نے 24 نومبر کو جب بیوی سے یہ کہا کہ ’’میں نے رجوع کیا‘‘ تو اس سے رجوع ہوگیا کیونکہ بیوی اس وقت عدت میں تھی، لہٰذا یہ نکاح قائم ہے۔
رد المحتار(439/4) میں ہے:
وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.
الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اه……………
(وبعد اسطر) فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل
در مختار (4/443) میں ہے:
(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)….. (يقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح، ….. (واحدة رجعية…..
عالمگیریہ (1/470) میں ہے:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.
در مختار (5/25) میں ہے:
باب الرجعة: بالفتح وتكسر يتعدى ولا يتعدى (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ……. (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس
بدائع الصنائع (3/ 283) میں ہے:
أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved