- فتوی نمبر: 31-400
- تاریخ: 04 مئی 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
جس شخص نے اسلام میں کوئی نیک کام جاری کیا اس کو اس کے اپنے عمل کا اجر ملے گا اور بعد میں عمل کرنے والوں کے عمل کا اجر بھی ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے اجر میں کمی نہیں کی جائے گی جس نے اسلام کوئی برا عمل جاری کیا اسے اپنے عمل کا بھی گناہ ملے گا اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کے عمل کا بھی گناہ ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے گناہ میں کمی نہیں ہوگی۔[مسلم]
بریلوی حضرات اس حدیث کو اپنی بدعت کو ٹھیک قرار دینے کے لیے پیش کرتے ہیں۔ اس کا جواب عنایت فرمادیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
بریلوی حضرات کا مذکورہ حدیث کے پیش نظر اپنی بدعت کو صحیح قرار دینا درست نہیں کیونکہ مذکورہ حدیث میں سنت حسنہ سے مراد وہ کام ہے جس کی اصل قرآن وحدیث سے ثابت ہو جبکہ بدعت کی اصل قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ہوتی اسی لیے بدعت کو حدیث میں گمراہی کہا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ سنت سیئہ میں داخل ہے لہٰذا مذکورہ حدیث ان کے حق میں نہیں بلکہ ان کے خلاف حجت ہے کیونکہ یہ لوگ بدعت جاری کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو بدعت جاری کرنے کا بھی گناہ ملتا ہے اور جو لوگ اس بدعت پر عمل کریں گے ان کا گناہ بھی ان کو ملے گا۔
تکملہ فتح الملہم (5/628) میں ہے:
قوله: من سن فى الاسلام سنة: فيه فضل كبير لمن يفعل الخیر اول مدة فيقتدي به غيره وهذا فيما ثبت كونه خيرا بالقرآن او السنة ولكن تركه الناس او لم ينتبهوا لها فى خصوص هذه الجزئية وجاء بصدقته اول مرة حتى صار داعيا للآخرين ثبت له هذا الفضل اما ما لم يثبت كونه عملا صالحا لا من القرآن ولا من السنة فابتكار مثل ذلك العمل ابتداع لا علاقة له بهذا الحديث.
بذل المجہود فی حل سنن ابیداود (13/ 35) میں ہے:
(فإن كل محدثة بدعة، وكل بدعة ضلالة).قال الخطابي : هذا خاص ببعض الأمور دون بعض، وكل شيء أحدث على غير مثال أصل من أصول الدين وعلى غير عبارته وقياسه، فأما ما كان منها مبينا على قواعد الأصول ومردودا إليها فليس ببدعة ولا ضلالة»
براہین قاطعہ (ص:46) میں ہے:
من سن في الاسلام الخ اقول فی الحقیقت اصل اگر کتاب وسنت میں موجود ہے تو اس کا ایجاد کرنے والا بظاہر موجد ہے ورنہ وہ فی الواقع موجد نہیں بلکہ مظہر ہے کہ جو امر شرع میں وجود شرعی رکھتا تھا اس کا اظہار اس سے ہوا ہے پس یہ موجد نہیں مظہر ہے اس کو کون برا کہہ سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved