• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسبوق کا تعدادِ رکعات میں شک ہونے کی حالت میں امام کے ساتھ سلام پھیرنے کا حکم

استفتاء

میں عصر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کر رہا تھا۔ امام صاحب کے سلام پھیرنے کے وقت مجھے شک اور تردد ہوا کہ آیا میں نے امام کے ساتھ پوری نماز ادا کی ہے یا میری ایک رکعت رہ گئی ہے۔ اسی تردد کی حالت میں میں نے بھی امام صاحب کے ساتھ دونوں طرف سلام پھیر دیا۔ البتہ سلام پھیرتے وقت میرا خیال یہ تھا کہ چونکہ مجھے اپنی رکعات کے بارے میں یقین نہیں ہے، اس لیے اگر واقعی میری ایک رکعت باقی ہوئی تو میرے قریب موجود مقتدی مجھے متنبہ (لقمہ) کر دے گا اور میں کھڑا ہو کر اپنی باقی رکعت ادا کر لوں گا۔ اسی نیت اور خیال کے ساتھ میں نے سلام پھیرا۔سلام پھیرنے کے بعد میرا رخ قبلہ ہی کی طرف تھا اور میں اپنی جگہ پر موجود تھا۔ پھر میرے قریب موجود ایک شخص نے مجھے بتایا کہ میری ایک رکعت باقی ہے۔ اس کے بتانے پر میں فوراً کھڑا ہو گیا اور اپنی باقی ایک رکعت ادا کر لی۔ اس کے بعد میں نے دونوں طرف سلام پھیر لیا، لیکن سجدۂ سہو نہیں کیا۔

بعد میں مجھے خیال آیا کہ شاید مجھ پر سجدۂ سہو لازم تھا۔ اسی دوران میں نے اپنے بائیں طرف بیٹھے ہوئے شخص کو کچھ کہنے کے لیے کہنی ماری، اور اسی وقت مجھے سجدۂ سہو کا خیال آ گیا۔ چنانچہ میں نے فوراً سجدۂ سہو کیا اور آخر میں دوبارہ سلام پھیر لیا۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں میری نماز کا کیا حکم ہے؟ آیا میری نماز فاسد ہوئی ہے یا نہیں؟  اگر فاسد ہوئی ہے  تو  کس مرحلے پر فاسد ہوئی اور کس وجہ سے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکور صورت میں نماز ہو گئی۔

توجیہ:اگر تشہد پڑھنے کے بعد رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے تو اس کا اعتبار نہیں شک کے باوجود چار رکعت شمار ہوں گی پھر جو بندہ چار رکعات سمجھ کر تیسری رکعت کے بعد سلام پھیرتا ہے تو اس سلام کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوتی اور نمازی نماز سے خارج بھی نہیں ہوتا اگر اس کو بعد میں یاد آجائے کہ میری ایک رکعت رہتی ہے جبکہ نماز فاسد کرنے والا کوئی عمل بھی نہ پایا گیاہوتو کھڑے ہو کر ایک رکعت اور پڑھے گا اور آخر  میں سجدہ سہو بھی کرے گا ۔

مذکورہ صورت میں بھی چونکہ آپ کو امام کے ساتھ تشہد پڑھنے کے بعد شک ہوا تھا اس لیے اس  شک کا اعتبار نہیں تھا تو آپ کا امام کے ساتھ سلام پھیرنا سلام ساہی تھا جس سے آپ کی نماز فاسد نہیں ہوئی پھر جب آپ کو دوسرے نمازی کے بتانے سے ایک رکعت کے رہنے کا یقین ہو گیا اور آپ نے ایک رکعت پڑھ کر سجدہ سہو بھی کر لیا تو آپ کی نماز ہو گئی۔

نوٹ: عموماًمقتدی امام کے سلام پھیرنے کے بعد سلام پھیرتا ہے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد مقتدی منفرد ہو جاتا ہے اور منفرد کا سہواً سلام پھیرنا موجب سجدہ سہو ہے مذکورہ صورت میں بھی چونکہ حالت انفراد میں سہوا ً سلام پھیرا ہے اس لیے سجدہ سہو  لازم ہوگا۔

فتاویٰ تاتارخانیہ (2/431) میں ہے:

شك في ذوات الأربع بعد السلام أنه صلى ثلاثا أو أربعا أو فى ذوات الثلاث شك بعد السلام صلى ثلاثا أو أثنتين فهذا عندنا على أنه أتم الصلاة حملا لأمره على الصلاح (وهو الخروج عن الصلاة). في أوانه: ولو شك بعد ما فرغ من التشهد في الركعة الاخيرة على نحو ما بينا فكذلك الجواب یحمل على أنه أتم الصلاة هكذا روى عن محمد.

بدائع الصنائع (1/164) میں ہے:

‌ولو ‌سلم ‌مصلي ‌الظهر على رأس الركعتين على ظن أنه قد أتمها، ثم علم أنه صلى ركعتين، وهو على مكانه يتمها ويسجد للسهو أما الإتمام فلأنه سلام سهو فلا يخرجه عن الصلاة. وأما وجوب السجدة فلتأخير الفرض وهو القيام إلى الشفع الثاني.

المبسوط للسرخسی (1/232) میں ہے:

قال: (‌وإذا ‌توهم ‌مصلي ‌الظهر أنه قد أتمها فسلم ثم علم أنه صلى ركعتين وهو على مكانه، فإنه يتمها ثم يسجد للسهو)؛ لأن سلامه كان سهوا فلم يصر به خارجا من الصلاة.

بدائع الصنائع (1/176) میں ہے:

فإذا ‌سلم ‌مع ‌الإمام فإن كان ذاكرا لما عليه من القضاء فسدت صلاته؛ لأنه سلام عمد، وإن لم يكن ذاكرا له لا تفسد؛ لأنه سلام سهو فلم يخرجه عن الصلاة.

شامی (2/92) میں ہے:

(قوله ‌والمسبوق ‌يسجد مع إمامه) قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام، بل يسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت وإلا لا، ولا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه؛ وإن سلم بعده لزمه لكونه منفردا حينئذ بحر، وأراد بالمعية المقارنة وهو نادر الوقوع كما في شرح المنية.

تبیین الحقائق (1/195) میں ہے:

‌ولو ‌سلم ‌المسبوق مع الإمام ينظر فإن سلم مقارنا لسلام الإمام أو قبله فلا سهو عليه؛ لأنه مقتد به، وإن سلم بعده يلزمه السهو؛ لأنه منفرد.

(قوله، ‌ولو ‌سلم ‌المسبوق مع الإمام إلى آخره) هذا إذا سلم ساهيا أما إذا سلم مع علمه أنه مسبوق فسدت صلاته؛ لأن سلام العمد بمنزلة الكلام في شرح الطحاوي.

امداد الفتاویٰ (2/394) میں ہے:

سوال: مسبوق نے امام کے ساتھ بھول کر سلام دونوں طرف پھیر دیا اور اپنے یا دوسرے کے کہنے سے اسی وقت یا کچھ توقف کر کے کھڑا ہو گیا۔ ان چاروں صورتوں میں سجدہ سہو لازم ہے یا نہیں؟

الجواب : اگر امام سے پہلے یا اس کے ساتھ سہوا ًسلام پھیرا تو سجدہ سہو لازم نہیں جمیع صور مندرجہ سوال میں۔کیونکہ یہ ہنوز موتم ہے اور سہو موتم سے سجدہ لازم نہیں اور اگر بعد سلام امام کے پھیرا تو سجدہ سہو لازم ہے۔

على عموم الصور المذكورة ولا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه وإن سلم بعده لزمه لكونه منفردا حينئذ.شامي في بحث سجود المسبوق سهوا . ج 1 ص 399

 اور اس مسبوق کو قبل كلام وتحویل عن القبلہ بناء جائز ہے۔

ويسجد للسهو ولومع سلامه للقطع مالم يتحول عن القبلة أو يتكلم در مختار مع ردالمحتار[ ج ا ص ۵۰۵]

اور دوسرے کے کہنے سے کھڑے ہونے میں احتیاط یہ ہے کہ اس کے کہنے کے ذرا بعد کھڑا ہوتا کہ قیام اپنی رائے سے ہو اس کا امتثال نہ ہو؛ کیونکہ نمازی کو غیر نمازی کے امتثال کا مفسد و غیر مفسد ہونا مختلف فیہ ہے اگر چہ اصح عدم فساد ہے۔

حتى لو امتثل امر غيره فقيل له تقدم فتقدّم أو دخل فرجة الصف أحد فوسع له فسدت بل يمكث ساعة ثم يتقدم برأيه. قهستانی معزيا للزاهدی و مروياتي قنية [در مختار]

 قوله ومرفى باب الامامة عند قوله ويصف الرجال وقدمنا عن الشر نبلالي عدم الفساد وتقدم تمام الکلام هناک.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved