• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسبوق کی نماز کے طریقہ کے متعلق شامی کی ایک عبارت کی تحقیق وتصحیح

استفتاء

مسائل بہشتی زیور(1/195) میں ہے:

 عصر کی نماز میں ایک رکعت ہو جانے کے بعد کوئی شخص شریک ہوا اور شریک ہونے کے بعد ہی اس کا وضو ٹوٹ گیا اور وضو کرنے گیا اس درمیان میں نماز ختم ہوگئی تو اس کو چاہیے کہ پہلے ان تینوں رکعتوں کو ادا کرے جو شریک ہونے کے بعد گئی ہیں پھر اس رکعت کو جو اس کے شریک ہونے سے پہلے ہو چکی تھی اور ان تینوں رکعتوں کو مقتدی کی طرح ادا کرے یعنی قراء ت نہ کرے اور ان تین کی پہلی رکعت میں قعدہ کرے اس لیے کہ یہ امام کی دوسری رکعت ہے اور امام نے اس میں قعدہ کیا تھا۔ پھر دوسری رکعت میں قعدہ نہ کرے اس لیے کہ یہ امام کی تیسری رکعت ہے ۔ پھر تیسری رکعت میں قعدہ کرے اس لیے کہ یہ امام کی چوتھی رکعت ہے اور اس رکعت میں امام نے قعدہ کیا تھا پھر اس رکعت کو ادا کرے جو اس کے شریک ہونے سے پہلے ہو چکی تھی اور اس میں قعدہ بھی کرے اس لیے کہ یہ اس کی چوتھی رکعت ہے اور اس رکعت میں اس کو قراء ت بھی کرنا ہوگی اس لیے کہ وہ اس رکعت میں مسبوق ہے اور مسبوق اپنی گئی ہوئی رکعتوں کے ادا کرنے میں منفرد کا حکم رکھتا ہے ۔

جبکہ شامی (2/ 416)میں ہے:

قوله: (ثم ما سبق به بها إلخ) أي ثم صلى اللاحق ما سبق به بقراءة إن كان مسبوقا أيضا، بأن اقتدى في أثناء صلاة الإمام ثم نام مثلا. وهذا بيان للقسم الرابع وهو المسبوق اللاحق. وحكمه أنه يصلي إذا استيقظ مثلا ما نام فيه ثم يتابع الإمام فيما أدرك ثم يقضي ما فاته. اه. بيانه كما في شرح المنية وشرح المجمع أنه لو سبق بركعة من ذوات الأربع ونام في ركعتين يصلي أولا ما نام فيه ثم ما أدركه مع الإمام ثم ما سبق به فيصلي ركعة مما نام فيه مع الإمام ويقعد متابعة له لأنها ثانية إمامه ثم يصلي الأخرى مما نام فيه، ويقعد لأنها ثانيته ثم يصلي التي انتبه فيها، ويقعد متابعة لإمامه لأنها رابعة، وكل ذلك بغير قراءة لأنه مقتد ثم يصلي الركعة التي سبق بها بقراءة الفاتحة وسورة والأصل أن اللاحق يصلي على ترتيب صلاة الإمام، والمسبوق يقضي ما سبق به بعد فراغ الإمام. اه

مذكوره  بالا مسائل بہشتی زیور اور شامی  کی  خط كشيده عبارات میں تعارض ہے ۔   تعارض یہ ہے کہ  شامی  کی عبارت سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ لاحق جب اپنی   بقیہ  نماز کو پورا کرنے لگے جبکہ وہ تین رکعت ہوں تو ان کو اس طرح ادا کرے کہ پہلی رکعت میں قعدہ کرے کیونکہ یہ اس کے امام کی دوسری رکعت ہے اور  دوسری  رکعت میں بھی قعدہ  کرے کیونکہ یہ اس مسبوق  کی دوسری رکعت ہے جبکہ مسائل بہشتی زیور  کی عبارت میں دوسری رکعت میں قعدہ نہ کرنے کا لکھا ہے کیونکہ یہ اس کے امام کی تیسری رکعت ہے ۔

نیز امداد الفتاوی میں بھی ایک سوال کے جواب میں شامی میں ذکرکردہ مسئلے کو روایۃ اور درایۃغلط قراردیا گیا ہے۔چنانچہ امداد الفتاوی (1/344) میں ہے:

سوال: …….. دوم :رسالہ مذکورہ (دعوات عبدیت کا حصہ مقالات ومجادلات)  میں مقیم مقتدی بالمسافر کا بعدفراغ امام کے تین رکعت باقیہ میں سے دو پہلی رکعتیں بلاقعدہ درمیانی پڑھنے کو لکھا ہے؛ حالانکہ ردالمحتار سے مفہوم ہوتا ہے کہ لا حق قضاء مالحق فیہ  میں بترتیب نماز امام بھی تقعد کرے اور بترتیب اپنی نماز کے بھی اس بناء پر صورت ہذا میں مقتدی بعد سلام امام کے پہلی رکعت میں بھی قعدہ کرے؛ اسلئے کہ وہ اس کی نماز کی ترتیب سے دوسری ہے۔ ملاحظہ ہو عبارت شامی ص ۴۳۹ ۔

تحت قوله ثم ماسبق به بها الخ فیصلی رکعة مما نام فيه مع الإمام ویقعد متابعة له لأنها ثانية إمامه ثم یصلی الأخرى مما نام فيه و یقعد لأنها  ثانيته (ای المقتدی)الخ

جواب سوال دوم : سوالِ دوم:واقعی ردالمحتارمیں اسی طرح ہے جس طرح سوال میں نقل کیا گیا ہے لیکن مدت ہوئی اس مقام پر میں نے ایک حاشیہ لکھا ہے اس وقت صرف اس کو نقل کئے دیتا ہوں اس کو بھی دوسرے علماء سے تحقیق فرمالیا جاوے۔ وهى هذه :

قلت :هذا لایصح دراية ولا رواية.أما الأول فلأن اللاحق لما کان حکمه کمؤتم فکیف یقعد فی الثانية مع أنها ثالثة إمامه ومقتضاه عدم القعود وأما الثانی فلعدم صحة النقل عن شرح المنية: فإن عبارته کمارواه بعض الثقات من احبابي وقال انه رآه  فی أصله هكذا ثم یصلی الأخرى مما نام فيه ولایقعد لأنها ثالثته وهكذا افتي.

لہذا یہ تحقیق فرمائی جائے کہ ان میں سے کون سی عبارت صحیح ہے اور کس میں تسامح ہوا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شامی میں ذکر کردہ مسئلہ درست ہے جبکہ مسائل بہشتی زیور میں ذکر کردہ مسئلے میں تسامح ہوا ہے ۔بظاہر تسامح کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ڈاکٹر صاحب ؒ نے یہ مسئلہ بہشتی گوہر سے لیا ہے اور بہشتی گوہر  کے مسائل اگرچہ علم الفقہ سے لیے گئے ہیں تاہم بعض مسائل میں حضرت تھانویؒ کے مشورہ سے کچھ تغیر وتبدل بھی کیا گیا ہے جیساکہ بہشتی گوہر کے دیباچہ میں اس کا تذکرہ ہے،مذکورہ مسئلہ علم الفقہ میں شامی کے موافق ہے جبکہ بہشتی گوہر میں امداد الفتاوی کے مطابق ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تغیر وتبدل حضرت تھانویؒ کی امداد الفتاوی میں مذکورہ مسئلہ سے متعلق تحقیق پر مبنی ہے، حضرت تھانوی ؒ کی تحقیق دو مقدمات پر مبنی ہے :

(1)یہ مسئلہ روایۃ ً درست نہیں کیونکہ علامہ شامی ؒ نے یہ مسئلہ حلبیؒ کی شرح منیہ سے نقل کیا ہے اور بعض ثقات کی نقل کے موافق شرح منیہ کی عبارت “يقعد”کی بجائے”ولا يقعد“ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ علامہ شامیؒ سے بظاہر نقل میں غلطی ہوئی۔

(2)یہ مسئلہ درایۃً  درست نہیں کیونکہ مذکورہ صورت میں یہ شخص لاحق ہے جوکہ بحکم مقتدی ہوتا ہے تو اس رکعت میں اس کا قعود درست نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ رکعت امام کے لحاظ سے تیسری ہےجس کا مقتضی عدمِ قعود ہے ۔

ہماری تحقیق میں مذکورہ بنیادوں کے پیشِ نظر شامی ؒ کے ذکرکردہ مسئلے کی تغلیط درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ جہاں تک مذکورہ مسئلے کی  روایۃً  درست ہونے نہ ہونے  کی بات ہے تو اس میں علامہ شامی کی نقل درست ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ شرح منیہ میں نسخوں کا اختلاف ہے کہ ایک نسخے میں “يقعد”ہے جیساکہ علامہ شامیؒ نے نقل کیا ہے اور ایک نسخے میں “ولا يقعد“ہے جیساکہ بعض ثقات  نے حضرت تھانویؒ کے سامنے ذکر کیا ۔اب ظاہر ہے کہ ان دونوں نسخوں میں سے کوئی ایک ہی صحیح ہوسکتا ہے اور ہماری تحقیق میں” يقعد “والا نسخہ درست ہےکیونکہ اسی کے موافق شرح المجمع اور فتح القدیر میں ہے (جیساکہ آگےحوالوں کی عبارتوں میں آرہا ہے)لہذا روایۃ ً درست نہ ہونے والی  بات خود درست نہیں، باقی رہی درایۃً  درست نہ ہونے کی بات تو یہ بات اس وقت درست ہوسکتی تھی جب مذکورہ شخص محض لاحق ہوتا جبکہ مذکورہ شخص محض لاحق نہیں  بلکہ لاحق ہونے کے ساتھ ساتھ مسبوق بھی ہے لہذا عین ممکن ہے کہ حضرات فقہائے کرام نے قعود کے مسئلہ میں   اس  کے لاحق ہونے کا بھی لحاظ کیا ہو اورمسبوق ہونے کا بھی لحاظ کیا ہو  اور دوسری رکعت میں قعدہ اگرچہ لاحق ہونے کے اعتبار سے درست نہیں لیکن مسبوق ہونے کے لحاظ سے درست ہے۔

فتح القدیر(1/392)  میں ہے:

وأما ‌المسبوق اللاحق وهو الذي اقتدى بعدما صلى الإمام بعد الصلاة ركعة مثلا ثم تأخر عنه لنوم أو زحمة ولم يجد مكانا فإنه يبدأ في القضاء بما أدرك الإمام فيه ثم بما سبق به.

وهذا عند زفر فرض، وعندنا واجب على ما نذكر من قريب، فلو عكس هذا الترتيب لم تصح صلاته عنده وتصح عندنا. ثم إما أن يستيقظ في الرابعة أو بعدما فرغ الإمام، فإن كان بعد الرابعة والفراغ يأتي بما فاته أولا حال نومه فيأتي بركعة لا يقرأ فيها ويقعد متابعة لإمامه ثم يقوم فيأتي بركعة لا يقرأ فيها ويقعد لأنها ثانيته، ثم بأخرى لا يقرأ فيها ويقعد متابعة لإمامه، ثم بأخرى لا يقرأ فيها ويقعد للختم، وإن كان في الرابعة قبل ركوع ففي شرح المجمع يصلي فيما أدرك ما فاته مع إمام أولا ثم يقضي ما فاته رعاية للترتيب، فلو نقض هذا الترتيب فتابع فيما أدرك ثم قضى ما سبقه به ثم ما نام فيه جاز عندنا، وعند زفر لا يجوز اهـ.

ثم يقعد على رأس كل ركعة. أما فيما أدرك فلمتابعة الإمام وفيما بعدها لأنها ثانيته وفي ثالثته للمتابعة فإنها قعدة ختم الإمام وفيما بعدها ختمه.

حلبی کبیر (469) میں ہے:

سبق بركعة من ذوات الاربع ونام في ركعتين يصلي اولا ما نام فيه ثم ما ادركه مع الامام ثم ما سبق به فيصلي ركعة مما نام فيه مع الامام ويقعد متابعة له لانها ثانية امامه ثم يصلي الاخرى مما نام فيه ويقعد لانها ثانية ثم يصلي التي انتبه فيها ويقعد متابعة لامامه لانها رابعة كل ذلك بغير قراءة.

شرح مجمع البحرین، لابن ملک [مخطوط] (ص:44) میں ہے:

(ولو سبق بركعة) يعنى لو أدرك الامام فقد سبقه بركعة فاقتدى به (ونام فى ركعتين) ثم استيقظ فأدرك الركعة (يصلى فيما أدرك) من الزمان (ما نام فيه) يعني يجب عليه أن يقضى أولا ما فات مع الامام لأن اللاحق كأنه خلف الإمام فيبدأ بما هو لاحق به فيأتى بركعة بغير قراءة ويقعد متابعة لامامه ثم يأتى بركعة بغير قراءة أيضا ويقعد لانها ثانية ثم يتابع الامام فيما أدرك ويقعد متابعة لامامه (ثم يقضى ما فاته) هى ما سبقه الامام ويقعد لانه آخر صلاته اتفاقا لان الترتيب مراع فيه.

بہشتی گوہر تتمہ بہشتی زیور(ص:702)میں ہے:

عصر کی نماز میں ایک رکعت ہو جانے کے بعد کوئی شخص شریک ہوا اور شریک ہونے کے بعد ہی اس کا وضو ٹوٹ گیا اور وضو کرنے گیا اس درمیان میں نماز ختم ہوگئی تو اس کو چاہیے کہ پہلے ان تینوں رکعتوں کو ادا کرے جو بعد شریک ہونے کے گئی ہیں پھر اس رکعت کو جو اس کے شریک ہونے سے پہلے ہو چکی تھی اور ان تینوں رکعتوں کو مقتدی کی طرح ادا کرے یعنی قراء ت نہ کرے اور ان تین کی پہلی رکعت میں قعدہ کرے اس لیے کہ یہ امام کی دوسری رکعت ہے اور امام نے اس میں قعدہ کیا تھا۔ پھر دوسری رکعت میں قعدہ نہ کرے اس لیے کہ یہ امام کی تیسری رکعت ہے ۔ پھر تیسری رکعت میں قعدہ کرے اس لیے کہ یہ امام کی چوتھی رکعت ہے اور اس رکعت میں امام نے قعدہ کیا تھا پھر اس رکعت کو ادا کرے جو اس کے شریک ہونے سے پہلے ہو چکی تھی اور اس میں  بھی قعدہ کرے اس لیے کہ یہ اس کی چوتھی رکعت ہے اور اس رکعت میں اس کو قراء ت بھی کرنا ہوگی اس لیے کہ اس رکعت میں وہ مسبوق ہے اور مسبوق اپنی گئی ہوئی رکعتوں کے ادا کرنے میں منفرد کا حکم رکھتا ہے ۔

علم الفقہ مؤلفہ مولانا عبدا لشکور لکھنویؒ(ص:243)میں ہے:

عصر کی نماز میں ایک رکعت ہو جانے کے بعد کوئی شخص شریک ہوا اور شریک ہونے کے بعد ہی اس کا وضو ٹوٹ گیا اور وضو کرنے گیا اس درمیان میں نماز ختم ہوگئی تو اس کو چاہیے کہ پہلے ان تینوں رکعتوں کو ادا کرے جو بعد شریک ہونے کے گئی ہیں پھر اس رکعت کو جو اس کے شریک ہونے سے پہلے ہو چکی تھی اور ان تینوں رکعتوں کو مقتدی کی طرح ادا کرے یعنی قراء ت نہ کرے اور ان تینوں  کی پہلی رکعت میں قعدہ کرے اس لیے کہ یہ امام کی دوسری رکعت ہے اور امام نے اس میں قعدہ کیا تھا۔ پھر دوسری رکعت میں بھی قعدہ  کرے اس لیے کہ یہ اس کی دوسری  رکعت ہے ۔ پھر تیسری رکعت میں بھی قعدہ کرے اس لیے کہ یہ امام کی چوتھی رکعت ہے ، امام نے اس میں قعدہ کیا تھا پھر اس رکعت کو ادا کرے جو اس کے شریک ہونے سے پہلے ہو چکی تھی اور اس میں  بھی قعدہ کرے اس لیے کہ یہ اس کی چوتھی رکعت ہے اور اس رکعت میں اس کو قراء ت بھی کرنا ہوگی اس لیے اس رکعت میں وہ مسبوق ہے اور مسبوق اپنی گئی ہوئی رکعتوں کے ادا کرنے میں منفرد کا حکم رکھتا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved