- فتوی نمبر: 26-180
- تاریخ: 12 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مساجد کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم مسجد بنا رہے ہیں (1) کیا اوپر والی منزل پر ہم امام کے لیے فیملی رہائش گاہ بنا سکتے ہیں؟ (2) نیز اگر وضو خانہ نیچے ہو تو کیا اس کےاوپر ہم مسجد کے واش روم بنا سکتے ہیں؟ ہمارے پاس جگہ بہت کم ہے۔
وضاحت مطلوب ہے کہ :
(1) سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟ (2) مسجد پہلے سے بنی ہوئی تھی یا پہلی مرتبہ تعمیر ہو رہی ہے؟
جواب وضاحت:
(1) میں خود امام مسجد ہوں (2) ہمیں کسی نے پلاٹ دیا ہم نئی مسجد بنا رہے ہیں، پہلے مسجد نہیں تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
( 1) چونکہ امام کی رہائش مصالح مسجد میں سے ہے لہذا مذکورہ صورت میں اوپر والی منزل پر امام صاحب کے لیے فیملی رہائش گاہ بنانا جائز ہے اور یہ رہائش گاہ شرعی مسجد کے حکم میں نہیں ہو گی، تاہم اس پر گواہ بنا لیے جائیں اور نمازیوں کو اطلاع بھی دے دی جائے تاکہ بعد میں کوئی نمازی اعتراض نہ کرے۔
(2) مذکورہ صورت میں وضو خانے کے اوپر مسجد کے واش روم بنانا جائز ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد میں سے ہے۔
درمختار (549/6) میں ہے:
لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق تتارخانية.
البحرالرائق (421/5) میں ہے:
إذا كان السرداب أو العلو موقوفا لمصالح المسجد فإنه يجوز إذ لا ملك فيه لأحد بل هو من تتميم مصالح المسجد فهو كسرداب مسجد بيت المقدس هذا هو ظاهر المذهب وهناك روايات ضعيفة مذكورة في الهداية وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتا على سطح المسجد لسكنى الإمام فإنه لا
يضر في كونه مسجدا لأنه منالمصالح فإن قلت: لو جعل مسجدا ثم أراد أن يبني فوقه بيتا للإمام أو غيره هل له ذلك قلت: قال في التتارخانية إذا بنى مسجدا وبنى غرفة وهو في يده فله ذلك وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس ثم جاء بعد ذلك يبني لا يترك وفي جامع الفتاوى إذا قال عنيت ذلك فإنه لا يصدق.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved