• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میت کے منہ سے مصنوعی دانت نکالنے کا حکم

استفتاء

میت کے منہ سے مصنوعی دانت نکالنے چاہییں یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر دانت آسانی سے نکالے جا سکتے ہوں تو نکال لینے چاہئیں  اور اگر آسانی سے نہیں نکل سکتے اور زیادہ تکلف کرنے میں میت کی بے حرمتی کا خطرہ ہو تو نہ نکالے جائیں۔

النہر الفائق شرح كنز الدقائق (1/ 386) میں ہے:

«ينزع عنه ‌ما ‌ليس ‌من ‌جنس ‌الكفن كالفرو والحشو وهذا يفيد أن التكفين فيه ابتداء لا يجوز إلا أن يقال: المراد أنه ليس من جنس المسنون وهو الظاهر فيجوز كذا في (البحر)»

احسن الفتاوی( 4/34) میں ہے:

سوال: ایک آدمی مر گیا مرنے کے بعد اس کے منہ میں مصنوعی دانت تھے جو کہ غسل دینے کے وقت بغیر تکلیف کے نہیں نکل سکتے تھے اگر وہ دانت منہ میں رہ جائیں تو اس میں کوئی شرعی قباحت تو نہیں؟ اور اگر دانت قیمتی ہوں اور میت کے منہ سے نہایت تکلیف کے ساتھ نکلتے ہوں تو کیا ایسے دانت کا نکلوانا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب: اگر دانت نکالنا مشکل ہو اور زیادہ محنت کرنے میں میت کی بے حرمتی ہو تو اندر ہی چھوڑ دیئے جائیں غسل و دفن میں کوئی محذور نہیں مال کی حرمت سے میت کی حرمت زیادہ ہے۔

حرمة الآدمي اعلى من صيانة المال لكنه زال احترامه بتعديه كما في الفتح ومفاده انه لو سقط في جو فه بلا تعد لا يشق اتفاقا.

آپ کے مسائل اور ان کا حل (4/290) میں ہے:

سوال: میت کے سونے کے دانت نکالنے چاہئیں یا اس کے ساتھ دفن کر دینا چاہیے (یا کوئی اور مصنوعی دانت ہو ؟)

جواب: میت کے مصنوعی دانت اگر نکالے جاسکتے ہیں تو ان کو اتار لینا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved