- فتوی نمبر: 36-152
- تاریخ: 29 اگست 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
میرا سوال ہے کہ میری اپنے شوہر کے ساتھ لڑائی ہوئی انہوں (شوہر) نے میری والدہ کو کہا کہ “میری طرف سے آپکی بیٹی کو اللہ حافظ ہے، میراگھر (یعنی سسرال ) کبھی نہیں دیکھے گی ، اسکو اپنے پاس رکھیں ، اور مجھے آپکی بیٹی نہیں چاہیے ۔”وہ سعودی عرب میں ہیں 3 مہینوں سے بات چیت نہیں کرتے۔ پہلے بھی ایک دفعہ طلاق ہو گئی تھی پھر رجوع کر لیا تھا۔ کیا ایسا کہنے سے نکاح ٹوٹ گیا ؟
دارالافتاء کی طرف سے شوہر سے اس کا موقف معلوم کیا گیا تو اس نے صوتی پیغام کے ذریعہ درج ذیل بیان دیا ۔
شوہر کا بیان:
میری بیوی اپنے میکے میں رہتی ہے ۔ اس نے میرے ساتھ بد اخلاقی کی تھی اور میرے خلاف نامناسب اسٹیٹس لگائے تھے ۔ جو کہ ایک بیوی کو زیب نہیں دیتا ۔ میں نے اپنی ساس کو فون کیا ،مقصد صرف شکایت تھا اور دھمکانا تھا تاکہ بیوی اپنا رویہ درست کرے ۔ اللہ گواہ ہے اور میرے کندھوں پر فرشتے گواہ ہیں کہ نہ طلاق کا لفظ بولا نہ طلاق کی نیت تھی اور نہ اس کو چھوڑنے کی نیت تھی ۔ الفاظ یہ تھے “میں اس کو اپنے گھر نہیں چھوڑوں گا ۔ میرے دروازے اس کے لیے بند ہیں ۔میری طرف سے اللہ حافظ ہے “
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر شوہر کم از کم بیوی کے سامنے اس بات پر قسم دیدے کہ اس نے مذکورہ جملے طلاق کی نیت سے نہیں کہے تھے تو مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ا ور اگر شوہر اس بات پر قسم نہیں دیتا تو بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہوجائے گی جس کی وجہ سے نکاح ٹوٹ جائے گا اور دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نئے مہر کے ساتھ کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا ضروری ہوگا۔
توجیہ : شوہر کے یہ جملے کہ ” میرے دروازے اس کے لیے بند ہیں ۔میری طرف سے اللہ حافظ ہے “۔کنایات طلاق کی دوسری قسم میں سے ہیں کیونکہ ان میں سے پہلا جملہ رشتہ ختم کرنے اور دوسرا جملہ ترک تعلق سے کنایہ ہے جو کہ اظہار براءت کی وجہ سے سبّ (گالم گلوچ) کے معنی میں ہے اور اس قسم کے الفاظ سے غصے اور لڑائی جھگڑے میں بھی طلاق نیت پر موقوف ہوتی ہے جس کی شوہر نے نفی کی ہے البتہ شوہر کو کم از کم بیوی کے سامنے نیت نہ ہونے پر قسم دینی ہوگی ا ور اگر شوہر اس بات پر قسم نہیں دیتا تو بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہوجائے گی جس کی وجہ سے نکاح ٹوٹ جائے گا ۔
نیز بیوی کے بیان میں اگرچہ ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ “اسکو اپنے پاس رکھیں ، اور مجھے آپکی بیٹی نہیں چاہیے ” لیکن یہ الفاظ طلاق میں نہ صریح ہیں اور نہ کنایہ ہیں ۔ لہذا ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
فتاوی شامی (3/ 301) میں ہے :
«والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية»
فتاوی شامی (4/ 520) میں ہے :
(ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى
فتح القدیر (4/65)میں ہے:
(قوله: وفي كل موضع يصدق الزوج في نفي النيةإنمايصدق مع اليمين إلخ) قدمنا بيانه ونقله من الكافي للحاكم ولزوم اليمين لما فيه من الإلزام على الغير بعد ثبوت احتمال نفيه بالكناية فيضعف مجرد نفيه فيقوى باليمين، والأقرب أنه لنفي التهمة أصله حديث تحليف ركانة المتقدم.
بدائع الصنائع (3/172) میں ہے:
ولو قال: لا حاجة لي فيك لا يقع الطلاق وإن نوى؛ لأن عدم الحاجة لا يدل على عدم الزوجية فإن الإنسان قد يتزوج بمن لا حاجة له إلى تزوجها فلم يكن ذلك دليلا على انتفاء النكاح فلم يكن محتملا للطلاق
فتاویٰ محمودیہ (12/551) میں ہے:
’’یہ لفظ کہ ” مجھے تیری ضرورت نہیں ” نہ صریح طلاق کا لفظ ہے اور نہ کنایہ کا، اس سے طلاق نہیں ہوتی ۔ولو قال لا حاجة لي فيك ينوي الطلاق فليس بطلاق. [عالمگیری]
فقہ اسلامی (ص:125) میں ہے :
دوسری قسم وہ الفاظ جن میں طلاق کا معنی بھی نکلتا ہے اور گالم گلوچ کا معنی بھی نکلتا ہے مثلا تو میرے کام کی نہیں یعنی تو بیکار ہے یا اس وجہ سے کہ میں تجھے طلاق دے چکا ہوں ۔ اس قسم کی کچھ اور مثالیں یہ ہیں ۔نہ میں تیرا میاں نہ تو میری بیوی ، نہ تو میری کچھ لگتی ہے نہ میں تیرا کچھ ، میرا تیرا کوئی واسطہ نہیں ، میرا تیرا نکاح نہیں ، میرا تیرا نکاح باقی نہیں رہا ، میں تجھ سے بیزار ہوں ، میں تیرا روادار نہیں ، تو میرے کام کی نہیں رہی، میں نے تجھ سے جدائی اختیار کی ۔
علمی اُردو لغت میں ہے:
خدا حافظ کہنا : چھوڑدینا ، ترک کردینا ۔
دروازہ بند کرنا : سلسلہ ختم کرنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved