• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مؤجر کے اجارہ کو ختم کرنے کی صورت میں تاوان لینے کا حکم

استفتاء

آپ سے ایک اہم معاملے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔میں اور میرا ایک دوست اپنی اپنی فیملی کے ساتھ حج 2026 پر گئے تھے۔ ہم نے ایک پرائیویٹ حج ٹور آپریٹر کے ذریعے اپنے حج کے انتظامات مکمل کیے تھے، تاہم مکہ مکرمہ میں فیملی روم کا کرایہ ہمارے ٹور آپریٹر کے پاس کافی زیادہ تھا، اس لیے اس کی اجازت اور علم کے ساتھ ہم نے مکہ مکرمہ  میں اپنی رہائش خود بک کر لی۔ہم نے “***”نامی بین الاقوامی آن لائن بکنگ پلیٹ فارم کے ذریعے مکہ مکرمہ کے علاقے عزیزیہ میں واقع ایک چار ستارہ ہوٹل (Montana Al Azizia Hotel) میں دو کمرے بک کیے۔ ایک کمرہ میری فیملی کے لیے اور ایک میرے دوست کی فیملی کے لیے تھا۔

یہ بکنگ ہم نے حج سے تقریباً نو ماہ قبل مکمل ایڈوانس ادائیگی کے ساتھ دس دن (20 مئی 2026 تا 30 مئی 2026) کے لیے کروائی۔ ہمیں بکنگ کنفرمیشن موصول ہوئی، بکنگ نمبر جاری ہوا اور ہوٹل نے بھی اسی پلیٹ فارم کے ذریعے تصدیق کی کہ ادائیگی وصول ہو چکی ہے اور کمرے بک ہو چکے ہیں۔

مسئلہ یہ پیش آیا کہ ہماری روانگی سے صرف دو دن پہلے، یعنی تقریباً 17 مئی 2026 کو ***کی طرف سے رابطہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ مذکورہ ہوٹل ہمیں کمرے فراہم نہیں کرے گا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ ہوٹل ایک سال کے لیے Renovation (تزئین و آرائش) کی وجہ سے بند ہو گیا ہے۔

یہ بات ہمیں مشکوک محسوس ہوئی، چنانچہ ہم نے اپنے ذرائع سے وہاں موجود افراد کے ذریعے ویڈیو شواہد حاصل کیے، ان شواہد کے مطابق ہوٹل مکمل طور پر فعال تھا، حجاج وہاں مقیم تھے، ہوٹل کی شٹل سروس چل رہی تھی اور کوئی Renovation (تزئین و آرائش)  کا کام جاری نہیں تھا۔

اس صورتحال میں ہم نے ***سے اعتراض کیا کہ اگر دو دن پہلے ہماری بکنگ منسوخ کی جاتی ہے تو اب اسی معیار کے ہوٹل حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس وقت **کے اپنے پلیٹ فارم پر اسی علاقے میں اسی درجے کے ہوٹلوں کا کرایہ تقریباً تین لاکھ پاکستانی روپے یومیہ فی کمرہ دکھایا جا رہا تھا، جبکہ ہم نے پہلے تقریباً ایک لاکھ روپے فی کمرہ دس دن کے لیے بک کیا تھا۔**نے معذرت کرتے ہوئے اصل رقم واپس کرنے کے ساتھ تقریباً چھ لاکھ روپے اضافی بطور  کمپنسیشن (Compensation) دینے کی پیشکش کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ہم یہ رقم لے کر خود کوئی متبادل ہوٹل تلاش کر لیں۔ہم نے انہیں جواب دیا کہ جس سطح کا ہوٹل ہم نے بک کیا تھا، اس وقت مارکیٹ ریٹ کے مطابق ان کی پیش کردہ کمپنسیشن (Compensation)  ایک دن کے اخراجات کے لیے بھی ناکافی تھی، جبکہ ہماری بکنگ دس دن کی تھی۔اس دوران ہم نے اپنے حج ٹور آپریٹر سے رابطہ کیا تو اس نے مشورہ دیا کہ چونکہ اس کے پاس پہلے سے دیگر حجاج کے لیے رہائش موجود ہے، اس لیے ہم انہی کے انتظامات میں شامل ہو جائیں۔ چنانچہ ہم نے اپنے الگ فیملی روم کا حق چھوڑ کر ان کے انتظامات میں رہائش اختیار کی اور الحمدللہ حج بخیر و عافیت مکمل کیا۔اس وقت ہم نے چند علماء کرام سے مشورہ کیا تو انہوں نے ابتدائی طور پر فرمایا کہ ***کی طرف سے پیش کی جانے والی اضافی کمپنسیشن (Compensation) لینا جائز نہیں معلوم ہوتا، لہٰذا ہم نے وہ رقم قبول نہیں کی اور صرف اصل رقم کی واپسی پر اکتفا کیا۔سوال یہ ہے کہ:

1۔کیا *** کی طرف سے پیش کردہ اضافی کمپنسیشن (Compensation) ہمارے لیے لینا جائز تھا یا نہیں؟

2۔اگر جائز نہیں تھا تو اس کی شرعی وجہ کیا ہے، جبکہ ان کی وجہ سے ہمیں شدید ذہنی پریشانی، اضطراب اور آخری وقت میں بڑے خطرات کا سامنا کرنا پڑا؟

3۔اگر ہمارے پاس ٹور آپریٹر کا متبادل انتظام موجود نہ ہوتا تو ہمیں اپنی جیب سے انتہائی مہنگے داموں رہائش حاصل کرنا پڑتی۔ ایسی صورت میں کیا ہم ***سے اپنے حقیقی مالی نقصان کا مطالبہ کر سکتے تھے؟

4۔ہمارے ساتھ جو واضح زیادتی ہوئی، نو ماہ تک ہماری رقم استعمال کی گئی، پھر آخری وقت میں بکنگ منسوخ کر دی گئی، اور ہمیں اپنی مرضی کے مطابق علیحدہ فیملی رہائش بھی نہ مل سکی، تو اس نقصان اور پریشانی کی تلافی شرعاً کس طرح ہو سکتی ہے؟

5۔ اگر اضافی Compensation اپنی ذات کے لیے لینا جائز نہ ہو تو کیا ہم ***پر دباؤ ڈال کر کوئی اضافی رقم حاصل کریں اور اسے مکمل طور پر صدقہ یا کسی فلاحی کام میں صرف کر دیں؟ کیا یہ صورت شرعاً درست ہوگی؟براہ کرم قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں تاکہ ہم شرعی اعتبار سے درست فیصلہ کر سکیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1,2۔ جائز نہیں کیونکہ  اس کی حیثیت مالی جرمانہ کی  ہے ۔

توجیہ: عقد اجارہ ہونے کے بعد بلاعذر کوئی ایک فریق  دوسرے کی رضامندی کے بغیر اجارہ کو فسخ نہیں کرسکتا  اگر ایک فریق فسخ کرنا چاہےتو دوسرا فریق اسے  اجارہ باقی رکھنے پر مجبور کرسکتا ہے لیکن اگر کسی وجہ سے دوسرا فریق بھی فسخ پر راضی ہوجائے چاہے بخوشی ہوا ہو چاہے مجبورا ہوا ہو بہر دو صورت فریق سے  کوئی تاوان نہیں لے سکتا کیونکہ اس کی حیثیت مالی جرمانہ کی بنے گی جو کہ شرعا جائز نہیں ۔

3۔ اگر واقعی کوئی نقصان ہوتا تو اس کی تلافی کروائی جاسکتی تھی۔

4۔ ان وجوہات کی بناء پر انہیں گناہ ہوگا  لیکن  اس بناء پر ان سے کوئی تاوان نہیں لیا جاسکتا کیونکہ تلافی صرف حقیقی نقصان (یعنی  اگر اس وجہ سے آپ کو کوئی اضافی  رقم خرچ کرنا پڑتی) کی کروائی جاسکتی ہے ۔

5۔ چونکہ شرعا  لینا ہی جائز نہیں اس لیے یہ صورت بھی جائز نہیں۔

شامی (6/99) میں ہے:

وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الاسلام ثم نسخ

امداد الفتاوی (5/495) میں ہے:

سوال: میں نے حصولِ معاش کے لئے ایک چھوٹی سی مشین آٹا پیسنے والی لگائی ہوئی ہے اُس پر دو ملازم کام کرنے کے لئے رکھے ہوئے ہیں اُن میں سے اگر کوئی یک لخت بغیر مجھے اطلاع دیئے نوکری چھوڑدے تو مجھے ذیل کی تکالیف کا سامنا ہوتا ہے۔ (۱)کچھ وقت کے لئے کام رک جاتا ہے۔(۲) سردست آدمی تلاش کرنا پڑتاہے۔ (۳) جلدی اگر ملازم تلاش کرکے رکھا جاوے تو گاہے گراں یا خلافِ مرضی ملتا ہے۔ (۴)آدمی ملازم اگر نہ ملے تو مجبوراً روزانہ مزدوری پر مزدور لگانا پڑتا ہے جو مقررہ ماہوار تنخواہ سے گراں پڑتا ہے۔ (۵) چونکہ مزدور یا ملازم جدید کام سے ناواقف ہوتا ہے اسلئے مجھے خود اس کو سکھانے اور نیز کل کام کی طرف مزید غور رکھنے کی ایک عرصہ تک ضرورت رہتی ہے جس سے مجھے خود زیادہ تکلیف ہوتی ہے وغیرہ۔الغرض ان واقعات کو دیکھ کر میں اب جو ملازم نیا رکھتا ہوں تو اُس سے اس طرح کا عہد کر لیتا ہوں کہ جب تمھارا ارادہ یہ ملازمت چھوڑ دینے کا ہو تو اُس سے پندرہ دن پہلے مجھے اس کی بابت اطلاع دینا تاکہ میں اپنا اور انتظام کرلوں اور اگر تم یک لخت بغیر اطلاع دینے کے ہٹ گئے تو چونکہ اس سے میرا حرج ہوتاہے اس لئے بہ جرمانہ ایک روپیہ یا دو روپے (جو زبانی مقرر کر لیتا ہوں ) اس یک لخت ہٹنے سے جو تکلیف اور حرج مجھے پہنچے گا اس کے عوض تم سے لوں گا جس کو ملازم تسلیم کرے تو یہ مقررہ جرمانہ اُس سے یعنی ملازم سے مجھے لینا جبکہ وہ اپنے عہدہ پر قائم نہ رہے یک لخت ہٹ جاوے جس سے مجھے تکلیف اور حرج پہنچے جائز ہے یا نہیں ؟نوٹ:ہربار حرج کا اندازہ کہ اس ملازم کے یک لخت ہٹنے سے مجھے کس قدر حرج پہنچا ہے ایک نہایت دشوار امر ہے سب سے زیادہ مجھے مشکل و ہ ہوتی ہے جو میں نے نمر ۵ میں بیان کی اور ساتھ ہی بقیہ مشکلات بھی جو سابق عرض کردی گئیں تو اس حرج میں نظر عمیق کرنے کے بجائے میں نے یہ آسان امر دیکھا کہ ایک تعداد جرمانہ کی مقررکر کے آپس میں عہد کرلیں اور فریقین تسلیم کرلیں اگر یہ صورت جائز نہ ہو تو اورجس طرح جائز ہو اُس سے مجھے مطلع فرماویں تاکہ اُس طرح عملدر آمد کرلوں ؟

 الجواب : چونکہ تعزیر بالمال حنفیہ کے نزدیک منسوخ ہے۔ یہ اس لئے بھی اور نیز اس فعل کا ماعلیہ التعزیر ہونا بھی صریح نہیں اس لئے بھی یہ قواعد کی رو سے ناجائز اور رشوت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved