- فتوی نمبر: 36-252
- تاریخ: 29 ستمبر 2026
- عنوانات: عبادات > طہارت > استنجاء کا بیان
استفتاء
سوال: ہمارے ہاں جب کوئی فوت ہو جاتا ہے تو غسل دیتے وقت ہاتھ پر کپڑا یا کوئی شاپر وغیرہ چڑھا کر میت کی بیک (پیچھے) والی شرمگاہ کو ہاتھ سے استنجاء کروایا جاتا ہے۔ شرعی لحاظ سے ایسا کرنے کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ طریقہ سے استنجاء کروانا درست ہے۔
ہندیہ (1/150) میں ہے:
وصورة استنجائه أن يلف الغاسل على يديه خرقة ويغسل السوأة؛ لأن مس العورة حرام كالنظر إليها، كذا في الجوهرة النيرة
شامی (2/196) میں ہے:
وصورته أن يلف الغاسل على يده خرقة، ويغسل السوأة لأن مسها حرام كالنظر
مسائل بہشتی زیور( 1/289)میں ہے:
مسئلہ:نہلانے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے مردے کو استنجاء کرا دو لیکن اس کی رانوں اور ا ستنجے کی جگہ پر اپنا ہاتھ مت لگاؤ اور اس پر نگاہ بھی نہ ڈالو بلکہ اپنے ہاتھ پر کوئی کپڑا لپیٹ لو اور جو کپڑا ناف سے لے کر رانوں تک پڑا ہے اس کے اندر تک دھلاؤپھر اس کا وضو کرادو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved