- فتوی نمبر: 32-227
- تاریخ: 02 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > کمپنی و بینک > سودی بینکاری
استفتاء
ایک آدمی نے بینک میں رقم رکھوائی تھی جس پر اس کو سود ملا اب وہ شخص تائب ہے لہٰذا اگر وہ خود مستحق زکوٰۃ ہو تو کیا وہ یہ سود والی رقم خود استعمال کرسکتا ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: کیا یہ صاحب وه رقم وصول کرچکے ہیں یا ابھی بینک میں ہے؟
جواب وضاحت: ابھی بینک میں ہی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اس شخص کے لیے سود والی رقم بینک سے نکلوانی ہی درست نہیں، خود استعمال کرنے کی بات تو دور کی ہے۔
شامی (5/ 99) میں ہے:
«والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما»
فتاویٰ عثمانی (3/272) میں ہے:
سوال:۔ بینک میں جمع شدہ رقم سے اگر ہم سود حاصل نہ کریں تو بینک اس کو خلاف شرع کاموں میں خرچ کریں گے، خلاف شرع کاموں سے اس رقم کو بچانے کے لئے اگر ہم سود لے کر کسی غریب طالب علم، بیوہ یا یتیم بچے کی مدد کر دیں تو جائز ہے یا نہیں؟
جواب: پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ بینک آپ کے جمع شدہ روپے پر جو رقم سود کے طور پر لگاتے ہیں وہ شرعی اعتبار سے آپ کی ملک نہیں ہوتی ، اور جو رقم آپ کی ملکیت نہ ہو، آپ کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی اور کو صدقہ یا ہبہ کریں، یہ درست ہے کہ بینک عام طور سے یہ رقم ناجائز کاروبار سے حاصل کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص حرام مال کمائے تو یہ اس کا اپنا فعل ہے، آپ اسے نصیحت تو کر سکتے ہیں مگر اس سے وہ مال ناجائز طریقے سے لے کر کسی غریب کو نہیں دے سکتے۔
رہا یہ معاملہ کہ سود کی رقم اگر بینکوں میں چھوڑ دی جائے تو اس سے ان کے ناجائز کاموں میں اعانت ہوگی ، سو اس قسم کی اعانت تو محض بینک میں روپیہ جمع کرانے سے بھی ہوتی ہے، اسی لئے علماء کا کہنا یہ ہے کہ بینک میں روپیہ جمع کرانا ضروری ہو تو اُسے چالو کھاتہ (Current Account) میں جمع کرایا جائے ، جس میں گردش کا احتمال چونکہ کم ہوتا ہے اس لئے اس پر عام طور سے سود لگایا ہی نہیں جاتا۔
خلاصہ یہ کہ سود کی رقم از خود لینا تو جائز نہیں، ہاں اگر اتفاقا کسی وجہ سے سود آپ کے پاس پہنچ جائے تو مجبوراً اس کا راستہ یہ ہے کہ اُسے کسی غریب پر صدقہ کر دیا جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved