- فتوی نمبر: 36-262
- تاریخ: 30 ستمبر 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز جنازہ و میت کے احکام
استفتاء
ابھی کل ہی یہ حدیث میری نظر سے گزری ۔اور یہ اجتماعی دعا ہے جنازے کے بعد کی خوب توبہ، استغفار اور بخشش کی دعا کا ذکر ہےاور آج کے علماء کہتے ہیں میت کو دفناؤ دعا مت کرو کیونکہ نماز جنازہ خود دعا ہے میت کے اعمال منقطع ہوچکے ہیں لہذا ایصال ثواب بند میت کے ساتھ رشتہ ختم، اتنی جلدی کرتے ہیں جیسے رشتہ تھا ہی نہیں میں نے سوشل میڈیا پر ان چیزوں کے متعلق قانون بہت سخت دیکھا ہے لیکن جواب تسلی بخش نہیں دیا جاتاہے بدعت کی تعریف کیا بنتی ہے فرض ،واجب ،سنت، مستحب ان چاروں میں سے کسی ایک میں اضافہ کرنا بدعت کہلایا جائے گا ؟ کیونکہ یہ چاروں دین کا حصہ ہیں عوام کو اسکے جواب چاہئیں کیونکہ علماء نے تحقیق کرلی ہے اچھی بات ہے لیکن عوام کا بھی تحقیق کرنا بنتا ہے لیکن عوام کے اعتراض کو دور کرکے تسلی بخش جواب کون دے گا ؟ تاکہ کل قیامت والے دن ہم یہ نہ کہیں جو امام کہتا تھا ہم بھی وہی کہتے تھے۔۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ، وَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ، وَسَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ، فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد: بَحِيرٌ ابْنُ رَيْسَانَ.
ترجمہ:حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب میت کو دفن کر کے فارغ ہو جاتے تو قبر پر رکتے اور فرماتے :’’ اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور ثابت قدمی کی دعا کرو بیشک اب اس سے سوال کیا جائے گا ۔:: امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے ( سند کے ایک راوی عبداللہ کے والد کا نام ) بحیر بن ریسان بیان کیا ۔
اگر یہ دعا انفرادی ہے تو پھر یہ تو معلوم ہوگیا نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا ثابت ہے اور جائز ہے حدیث کے مطابق لیکن پھر یہ بات کیوں کہی جاتی ہے (1) نماز جنازہ خود ایک دعا ہے اسکے بعد دعا کرنے کی ضرورت نہیں دعا کرنا ثابت نہیں ہے۔(2) ہاں انفرادی طور پہ ہاتھ اٹھائے بغیر کرسکتے ہیں ۔
پہلا پوائنٹ تو %100 فیصد غلط ہے اور ساتھ ہی دوسرا پوائنٹ دے دیا جاتا ہے انفرادی طورپہ کرسکتے ہیں پہلا پوائنٹ کیوں لکھا جاتا ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ حدیث کا تعلق نما زجنازہ کے بعد دعا سے نہیں بلکہ تدفین کے بعد دعا سے ہے اور اسے کوئی بدعت نہیں کہتا۔
مرقاۃا لمفاتیح (4/149) میں ہے:
ولا يدعو للميت بعد صلاة الجنازة لأنه يشبه الزيادة في صلاة الجنازة
شرح الصدور بشرح حال الموتی والقبور، للسیوطیؒ (ص:111) میں ہے:
يستحب الوقوف بعد الدفن قليلا والدعاء للميت مستقبلا وجهه بالثبات
شامی (2/237) میں ہے:
وجلوس ساعة بعد دفنه لدعاء وقراءة بقدر ما ينحر الجزور ويفرق لحمه.
(قوله: وجلوس إلخ) لما في سنن أبي داود «كان النبي – صلى الله عليه وسلم – إذا فرغ من دفن الميت وقف على قبره وقال: استغفروا لأخيكم واسألوا الله له التثبيت فإنه الآن يسأل»
آپ کے مسائل اور ان کا حل (4/308) میں ہے:
سوال : کیا میت کو دفنا کر اذان دینا جائز ہے یا ناجائز اوربعد اذان قبر پر رکنا اور میت کے لیے استغفار پڑھنا جائز ہے؟
جواب : قبر پر اذان کہنا بدعت ہے سلف صالحین سے ثابت نہیں البتہ دفن کے بعد کچھ دیر کے لیے قبر پر ٹھہرنا اور میت کے لیے دعا واستغفار کرنا سنت سے ثابت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved