- فتوی نمبر: 36-150
- تاریخ: 23 اگست 2026
- عنوانات: مالی معاملات > خرید و فروخت > بیع فاسد کے احکام
استفتاء
درختوں کی اس وقت بیع کرنا جب پھل ظاہر نہ ہو یعنی گل(پھول) کے اندر ہو کیسا ہے؟ یہ جائز ہے یا نہیں؟
وضاحت مطلوب ہے:” درختوں کی بیع کرنا پھل ظاہر نہ ہونے کی صورت میں” سے مراد خاص درخت کو بیچنا ہے یا پھل کو بیچنا مراد ہے؟ اگر پھل مراد ہے تو پھول نکل چکا ہوتا ہے یا اس سے بھی پہلے مراد ہے؟
جواب: پھل مراد ہے لیکن نکلنے سے پہلے پہلے گُل کے اندر اور پشتو میں “گل” پھول کو کہتے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جب تک گُل (پھول )پھل کی صورت اختیار نہ کرلے اس کی بیع ناجائز ہے کیونکہ یہ معدوم کی بیع ہے۔
شامی (7/85) میں ہے:
(ومن باع ثمرة بارزة) أما قبل الظهور فلا يصح اتفاقا. (ظهر صلاحها أو لا صح) في الأصح. (ولو برز بعضها دون بعض لا) يصح. (في ظاهر المذهب)
(قوله: أما قبل الظهور) أشار إلى أن البروز بمعنى الظهور، والمراد به انفراد الزهر عنها وانعقادها ثمرة وإن صغرت
شرح المجلہ (1/91) میں ہے:
بيع المعدوم باطل فيبطل بيع ثمرة لم تبرز اصلا أى لم ينفرك زهرها
مسائل بہشتی زیور (2/229) میں ہے:
جب تک پھول پھل کی صورت نہ اختیار کرلے اس کی بیع بالاتفاق ناجائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved