• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

فون کے ذریعے ٹرانسپورٹر کو وکیل بالقبض بنانا

استفتاء

گذارش ہے کہ ہمارا ویسٹ پیپر ردی کا کاروبار ہے، ہمارے پاس دوسرے شہروں مثلاً*** وغیرہ سے جو مال آتا ہے، وہ مال دوسرے شہروں والے اپنی گاڑیوں پر خود لوڈ کروا کر ہمیں بھیج دیتے ہیں، اور ہم اس مال کو اپنے گودام میں ان لوڈ کرنے کے بجائے براہِ راست آگے فیکٹری میں بھیج دیتے ہیں، جس میں پیپر مل کے ساتھ ہمارا کاروبار اور معاملات چل رہے ہوتے ہیں، وہاں وہ ردی کاغذ گاڑی خالی کر کے ہمارے نام سے وصولی ڈال لیتے ہیں۔

اس صورت میں ہم کیسے قابض بن  سکتے ہیں کیونکہ اگر اس مال کو ہم اپنے گودام میں اتروا لیں تو ڈبل مزدوری اور ڈبل کرایہ پڑ جائے گا، اور بجائے کچھ نفع کے الٹا نقصان ہو جائے گا۔

اس وقت پاکستان میں اکثر ردّی کاغذ اور سکریپ اسی طرح سے خرید و فروخت ہو رہا ہے، کیونکہ اس طریقہ سے کام زیادہ تیزی سے کم محنت کے ساتھ ہو جاتا ہے، اور اس میں ریٹ مارکیٹ حالات کے مطابق ایک جیسا نہیں ہوتا مثلاً ہم کچھ مال 20 روپے میں لے کر 21 میں فروخت کر رہے ہوتے ہیں اور کسی شہر سے 20 روپے میں لے کر 21/50 سے 20/50 میں فروخت کر رہے ہوتے ہیں، اور ہر ہفتے ریٹ کم زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ اور فیکٹری میں پرچیز منیجر اور کوالٹی کنٹرولر کے ساتھ بھی صرف ہماری ڈیل ہوتی ہے، اور ہم شام کو ان سے فون پر اپنی تمام ان لوڈ گاڑیوں کی تفصیلات لے کر اس کا حساب بنا لیتے ہیں، دوسرے شہروں سے آنے والا مال اگر خراب ہو تو فیکٹری والے بتا دیتے ہیں کہ آپ کی فلاں گاڑی پر مال خراب ہے اس کی اتنی مثلاً 500 کلو کاٹ ہو گی۔ پھر ہم اپنے گاہک کو فون کر کے پوچھ لیتے ہیں کہ آپ کا مال خراب ہے اس کو اتنی کاٹ مثلاً 500 کلو لگے گی جو آپ کو برداشت کرنا ہو گی، اگر آپ کو منظور ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ پھر اس کو کسی اور پیپر مل میں بھیج دیتے ہیں، آپ اپنے ڈرائیور سے بات کر لیں۔ کچھ پیپر ملوں کا ریٹ کم ہوتا ہے وہ کمتر مال بھی قبول کر لیتے ہیں بغیر کاٹ کے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ بذریعہ ٹیلی فون ٹرانسپورٹر کو اپنی طرف سے قبضہ کرنے کا وکیل بنا دیں اور وہ قبضہ کر لے تو اس طرح آپ اپنے خریدے ہوئے مال پر قابض ہو سکتے ہیں، لیکن اس صورت میں اگر سفر کے دوران سامان ٹرانسپورٹر کی کوتاہی کے بغیر ہلاک و ضائع ہو گیا تو اس کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے، جس سے آپ سامان خرید رہے ہیں وہ اس کا ذمہ دار نہ ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved