• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

پیاس کی وجہ سے دو رمضانوں کے روزے توڑے تو کتنے کفارے لازم ہونگے؟

استفتاء

جو آدمی رمضان کے مہینے میں قصداً روزہ توڑ دے  اگلے سال پھر رمضان میں قصداً روزہ توڑ دے تو دو کفارے لازم ہیں یا ایک؟

وضاحت مطلوب ہے کہ  دو نوں مرتبہ روزہ کیسے توڑا تھا ؟

جواب وضاحت : بھوک اور پیاس کی شدت کی وجہ سے  ایک مہینے میں 10 روزے اور دوسرے مہینے میں 5 روزے توڑے۔

مزید وضاحت مطلوب ہے کہ بھوک اور پیاس  کیوں لگی تھی اور کتنی تھی ؟ کوئی بیماری  ہے  یا کوئی اور مسئلہ؟

جواب وضاحت: نہیں کوئی بیماری نہیں تھی  اور اتنی  بھوک اور پیاس  بھی نہیں تھی جس سے مرنے کا خطرہ  ہو بس کبھی کبھی غلطی ہو جاتی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں جتنے روزے توڑے ہیں ان کے لیے ایک ہی   کفارہ کافی ہے۔

شامی(3/ 448) میں ہے:

ولو تكرر فطره ولم يكفر للأول يكفيه واحدة ولو في رمضانين عند محمد، وعليه الاعتماد، بزازية ومجتبى وغيرهما، واختار بعضهم للفتوى أن الفطر بغير الجماع تداخل وإلا لا.

مسائل بہشتی زیور(406/1) میں ہے:

مسئلہ:سوائے جماع کے کسی اور سبب سے اگر کفارہ واجب ہوا ہو اور ایک کفارہ ادا نہ کرنے پایا ہو کہ دوسرا واجب ہو جائے تو ان دونوں کے لیے ایک ہی کفارہ کافی ہے۔ اگرچہ دونوں کفارے دو رمضانوں کے ہوں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved