- فتوی نمبر: 35-147
- تاریخ: 04 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > عیدگاہ و قبرستان کے احکام
استفتاء
ایک زمین قبرستان کیلئے وقف کی گئی ہے لیکن اس پر ابھی ایک قبر بھی موجود نہیں ہے گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اس وقف شدہ زمین پر ہم اوپر مدرسہ اور اسکول بنائیں گے اور اس کے نیچے قبرستان ہوگا۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: واقف کون ہے؟ زندہ ہے یا فوت ہوچکا ہے؟
جواب وضاحت: یہ زمین سرکاری طور پر ایک قوم کو گورنمنٹ کی طرف سے قبرستان کے لیے وقف کی گئی ہے لیکن اس قوم کا کہنا ہے کہ ہم اس کے ارد گرد ستون کھڑے کرکے اس کے اوپر اسکول اور مدرسہ بنائیں گے اور اس کے نیچے قبرستان بنائیں گے۔
وضاحت مطلوب ہے: سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟
جواب وضاحت: میرا ایک دوست ہےجو فارغ التحصیل ہے ، گاؤں والوں نے اس سے مسئلہ پوچھ لیا ہے اس لیے میں نے آپ سے پوچھ لیا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں قبرستان کے لیے وقف شدہ زمین کے اوپر لینٹر ڈال کر مدرسہ بنانا جائز ہے البتہ سکول بنانا جائز نہیں ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں قبرستان کے لیے وقف شدہ زمین کے اوپر کی فضا چونکہ قبرستان کی ضرورت سے زائد ہے اور وقف کی ضرورت سے زائد جگہ کو دوسری جہتِ وقف میں استعمال کرنا جائز ہے لہذا مذکورہ صورت میں بھی قبرستان کی زمین کے اوپر چھت ڈال کر اس فضا کو دوسری جہت وقف میں استعمال کرنا یعنی اس کے اوپر مدرسہ بنانا جائز ہے البتہ اسکول چونکہ جہت وقف میں سے نہیں ہے اس لیے اس کے اوپر اسکول بنانا جائز نہیں ہے۔
عمدۃ القاری (4/179) میں ہے:
فإن قلت: هل يجوز أن تبنى على قبور المسلمين؟ قلت: قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا، وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد، لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هذا واحد
شامی(4/359) میں ہے:
وفى شرح الملتقى: يصرف وقفها لأقرب مجانس لها
خیر الفتاوی(6/405)میں ہے:
سوال: مسجد کے گرد قبریں ہیں جو مسجد کی توسیع میں مانع ہیں آیا قبروں پر چھت ڈال کر مسجد وسیع کی جاسکتی ہے یا نہیں؟
الجواب: ایسا کرنا جائز ہے عینی شرح بخاری میں ہے۔ قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا، وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد، لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هذا واحد
فتاوی محمودیہ(15/359)میں ہے:
سوال: ایک گاؤں کٹرکنڈلہ ہے اس کی مسلم آبادی دوسو ہیں دو قبرستان ہیں جو تقریبا پچاس سال کی مدت کے لیے کافی ہو سکتے ہیں اس گاؤں کے قبرستان میں ایک مسجد تعمیر ہو رہی ہے جس میں چالیس سال سے نماز پڑھی جا رہی ہے مسجد کے متصل دوسوپچاس مربع گز زمین خالی ہے اب اس زمین پر پختہ عمارت مدرسہ کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ جگہ آبادی کی تمام مسلمانوں کے مکانات سے قریب تر ہے تو اس جگہ مدرسہ بنانا کیسا ہے؟
الجواب: اگر وہ قبرستان مملوک ہے تو مالک کی اجازت سے دینی مدرسہ کی تعلیم درست ہے اگر قبرستان وقف ہے تو منشائے وقف ہی میں اس کو استعمال کیا جائے لیکن اگر وقف ہونے کے باوجود وہ جگہ ضرورت سے زائد ہے اور بیکار رہنے سے اندیشہ ہے کہ کوئی اس پر غلط تصرف کرے جس سے وقف ہی ضائع ہو جائے تو دینی مدرسہ کی تعمیر کرنا بھی درست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved