• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

قیمت وصولی سے پہلے دوبارہ کم قیمت میں چیز خریدنا

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ا س مسئلہ کے بارے میں کہ*** نے ***سے چھ مہینے کی ادھار پر 80000 روپے میں دودھ دینے والی بھینس خریدی۔ چھ مہینے گذرنے کے بعد*** نے کہا میرے پاس پیسے نہیں ہیں، میں یہ بھینس تمہیں بیچتا ہوں۔ اور دونوں نے اس کی قیمت 50000 روپے طے کی۔ دودھ ختم ہونے کی وجہ سے قیمت میں کمی آئی ہے۔*** نے وہ بھینس لے لی اور قصاب کو 45000 روپے میں بیچ دی۔ اس میں دو باتیں پوچھنی ہیں:

1۔ قیمت وصول کرنے سے پہلے *** کا اس بھینس کو کم قیمت کے بدلے خریدنا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ اب بھینس کی قیمت اتنی ہی رہ گئی تھی۔

2۔ باقی 30000 روپے کی *** کے ذمے ادائیگی واجب ہے یا نہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ عام ضابطہ تو یہی ہے کہ خریدنے والا جب تک کل قیمت ادا نہ کر دے اس وقت تک اپنی فروخت کی ہوئی چیز کو کم قیمت میں خریدنا جائز نہیں۔ البتہ بیچی ہوئی چیز میں کسی کمی کی وجہ سے اگر قیمت میں کمی ہو گئی ہو تو پھر کم قیمت میں بھی خریدنا جائز ہے۔ لہذا مذکورہ صورت میں*** کا اس بھینس کو کم قیمت میں واپس خریدنا جائز ہے۔ کیونکہ قیمت کی یہ کمی بھینس کا دودھ ختم ہو جانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

2۔ باقی تیس ہزار (30000) ہزار کی ادائیگی *** کے ذمے واجب ہے۔

محیط برہانی (9/ 383) میں ہے:

إنما شرطنا أن تكون السلعة قائمة على حالها لم تنتقص بعيب، لأن بعد ما انتقص لا يتأتى شبهة الربا، لأن نقصان الثمن يجعل بمقابلة ما فات بالعيب، فيصير مشترياً ما باع بمثل الثمن الأول معنى، وذلك جائز.

فقہ البیوع (1/ 550) میں ہے:

ولكن منع العينة إنما يتجه إذا بقي المبيع في البيع الأول على حاله عند البيع الثاني، فإن تغير المبيع بما أثر على قيمته جاز البيع الثاني ولو كان إلى البائع الأول، قال شمس الدين بن قدامة: وهذا إن كانت السلعة لم تنقص عن حالة البيع، فإن نقصت مثل أن هزل العبد أو … تخرق الثوب ونحوه، جاز له شراؤها بما شاء، لأن نقص الثمن لنقص المبيع، لا للتوسل إلى الربا.

فتاویٰ شامی (7/ 197) میں ہے:

أو تعيب المبيع (جاز مطلقاً) كما لو شراه بأزيد أو بعد النقد. قال الشامي تحت قوله (جاز مطلقاً): أي سواء كان الثمن الثاني أقل من الأول أو لا، لأن الربح لا يظهر عند اختلاف الجنس (منح). ولأن المبيع لو انتقص يكون النقصان من الثمن في مقابلة ما نقص من العين سواء كان

النقصان من الثمن بقدر ما نقص منها أو بأكثر منه….. فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved