- فتوی نمبر: 32-381
- تاریخ: 08 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
روپے کمانے کے لیے یورپ جانا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
غیر مسلموں کے ملک میں کمائی کے لیے جا کر رہائش اختیار کرنا بلا ضرورت ہو تو کراہت سے خالی نہیں تاہم اگر کسی کو غیر مسلم ملک میں جا کر رہنے کی مجبوری ہو اور وہاں مسلمان کے لیے اپنے دین کی حفاظت دشوار نہ ہو تو گنجائش ہے۔
فیض القدیر (6/111) میں ہے:
وفي الزهد لأحمد عن ابن دينار أوحى الله إلى نبي من الأنبياء قل لقومك لا تدخلوا مداخل أعدائي ولا تلبسوا ملابس أعدائي ولا تركبوا مراكب أعدائي فتكونوا أعدائي كما هم أعدائي وقوله من جاء مع المشرك ظن بعضهم أن معناه أتى معه مناصرا وظهيرا فجاء فعل ماض ومع المشرك جار ومجرور وقال بعضهم: معناه نكح الشخص المشرك يعني إذا أسلم فتأخرت عنه زوجته المشركة حتى بانت منه فحذر من وطئه إياها ويؤيده ما روي عن سمرة بن جندب مرفوعا لا تساكنوا المشركين ولا تجامعوهم فمن ساكنهم أو جامعهم فهو منهم وأفاد الخبر وجوب الهجرة أي على من عجز عن إظهار دينه وأمكنته بغير ضرر.
بذل المجہود (9/240) میں ہے:
قال الخطابي: في معناه ثلاثة وجوه، قيل: معناه لا يستوي حكمهما، وقيل: معناه أن الله فرق بين داري الإسلام والكفر، فلا يجوز لمسلم أن يساكن الكفار في بلادهم، حتى إذا أوقدوا نارًا كان منهم بحيث يرى نارهم، ويرون ناره إذا أوقدت، وقيل: معناه لا يتسم المسلم بسمة المشرك ولا يشبه به في هديه وشكله.
فقہی مقالات (1/234) میں ہے:
کسی غیر مسلم ملک میں مستقل رہائش اختیار کرنا اور اس کی قومیت اختیار کرنا اور اس ملک کے ایک باشندے اور ایک شہری ہونے کی حیثیت سے اس کو اپنا مستقل مسکن بنا لینا، ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا حکم زمانہ اور حالات کے اختلاف اور رہائش اختیار کرنے والوں کی اغراض و مقاصد کے اختلاف سے مختلف ہو جاتا ہے۔ مثلاً:
(1) اگر ایک مسلمان کو اس کے وطن میں کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچائی جا رہی ہو یا اس کو جیل میں ظلماً قید کر لیا جائے یا اس کی جائیداد ضبط کر لی جائے اور کسی غیر مسلم کا ملک میں رہائش اختیار کرنے کے سوا ان مظالم سے بچنے کی اس کے پاس کوئی صورت نہ ہو۔ ایسی صورت میں اس شخص کے لئے کسی غیر مسلم ملک میں رہائش اختیار کرنا اور اس ملک کا ایک باشندہ بن کر وہاں رہنا بلا کراہت جائز ہے۔ بشرطیکہ وہ اس بات کا اطمینان کرلے کہ وہ وہاں جا کر عملی زندگی میں دین کے احکام پر کار بند رہے گا اور وہاں رائج شده منکرات و فواحشات سے اپنے کو محفوظ رکھ سکے گا۔
(۲) اسی طرح اگر کوئی شخص معاشی مسئلہ سے دو چار ہو جائے اور تلاش بسیار کے باوجود اسے اپنے اسلامی ملک میں معاشی وسائل حاصل نہ ہوں حتی کہ وہ نان جویں کا بھی محتاج ہو جائے ان حالات میں اگر اس کو کسی غیر مسلک ملک میں کوئی جائز ملازمت مل جائے ، جس کی بناء پر وہ وہاں رہائش اختیار کر لے تو مذکورہ بالا دو شرائط ( جن کا بیان نمبر ایک میں گزرا ) اس کے لئے وہاں رہائش اختیار کرنا جائز ہے۔ اس لئے کہ حلال کمانا بھی دوسرے فرائض کے بعد ایک فرض ہے جس کے لئے شریعت نے کسی مکان اور جگہ کی قید کی نہیں لگائی بلکہ عام اجازت دی ہے کہ جہاں چاہو رزق حلال تلاش کرو چنانچہ قرآن کریم کی آیت ہے۔
هو الذي جعل لكم الارض ذلولا فامشوا في مناكبها وكلوا من رزقه واليه النشور.
وہ ایسی ذات ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مسخر کر دیا۔ اب تم اس کے راستوں میں چلو، اور خدا کی روزی میں سے کھاؤ اور اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جاتا ہے۔ (سورہ ملک (۱۵)
(۳) اسی طرح اگر کوئی شخص کسی غیر مسلک ملک میں اس نیت سے رہائش اختیار کرے کہ وہ وہاں کے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دے گا اور ان کو مسلمان بنائے گا، یا جو مسلمان وہاں مقیم ہیں ان کو شریعت کے صحیح احکام بنائے گا اور ان کو دین اسلام پر جمے رہنے اور ا حکام شریعہ پر عمل کرنے کی ترغیب دے گا اس نیت سے وہاں رہائش اختیار کرنا صرف یہ نہیں کہ جائز ہے بلکہ موجب اجر و ثواب ہے۔ چنانچہ بہت سے صحابہ اور تابعین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اس نیک ارادے اور نیک مقصد کے تحت غیر مسلم ممالک میں رہائش اختیار کی۔ اور جو بعد میں ان کے فضائل و مناقب اور محاسن میں شمار ہونے لگی۔
(۴) اگر کسی شخص کو اپنے ملک اور شہر میں اس قدر معاشی وسائل حاصل ہیں، جس کے ذریعہ وہ اپنے شہر کے لوگوں کے معیار کے مطابق زندگی گزار سکتا ہے۔ لیکن صرف معیار زندگی بلند کرنے کی غرض سے اور خوشحالی اور عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کی عرض سے کسی غیر مسلم ملک کی طرف ہجرت کرتا ہے تو ایسی ہجرت کراہت سے خالی نہیں، اس لئے کہ اس صورت میں دینی یا دنیاوی ضروریات کے بغیر اپنے آپ کو وہاں رائج شدہ فواحشات و منکرات کے طوفان میں ڈالنے کے مترادف ہے اور بلا ضرورت اپنی دینی اور اخلاقی حالت کو خطرہ میں ڈالنا کسی طرح بھی درست نہیں اس لئے کہ تجربہ اس پر شاہد ہے کہ جو لوگ صرف عیش و عشرت اور خوش حالی کی زندگی بسر کرنے کے لئے وہاں رہائش اختیار کرتے ہیں ان میں دینی حمیت کمزور ہو جاتی ہے چنانچہ ایسے لوگ کافرانہ محرکات کے سامنے تیز رفتاری سے پگھل جاتے ہیں۔
اسی وجہ سے حدیث شریف میں شدید ضرورت اور تقاضے کے بغیر مشرکین کے ساتھ رہائش اختیار کرنے کی ممانعت آئی ہے۔
چنانچہ ابو داؤد میں حضرت سمرة بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
من جامع المشرك و سكن معه، فانه مثله
جو شخص مشرک کے ساتھ موافقت کرے اور اس کے ساتھ رہائش اختیار کرے وہ اس کے مثل ہے۔ (ابو داؤد کتاب الضحايا )
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
انا بريئى من كل مسلم يقيم بين اظهر المشركين، قالوا يا رسول الله ! لم ؟ قال لا ترى ای نا را هما
میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں، جو مشرکین کے درمیان رہائش اختیار کرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا یا رسول الله ! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا۔ ”اسلام کی آگ اور کفر کی آگ دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں۔ تم یہ امتیاز نہیں کر سکو گے کہ یہ مسلمان کی آگ ہے یا مشرکین کی آگ ہے۔
امام خطابی رحمۃ اللہ علیہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی تشریح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ مختلف اہل علم نے اس قول کی شرح مختلف طریقوں سے کی ہے۔ چنانچہ بعض اہل علم کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان اور مشرک حکم کے اعتبار سے برابر نہیں ہو سکتے، دونوں کے مختلف احکام ہیں اور دوسرے اہل علم فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دار الاسلام اور دارالکفر دونوں کو علیحدہ علیحدہ کر دیا ہے، لہذا کسی مسلمان کے لئے کافروں کے ملک میں ان کے ساتھ رہائش اختیار کرنا جائز نہیں، اس لئے کہ جب مشرکین اپنی آگ روشن کریں گے اور یہ مسلمان ان کے ساتھ سکونت اختیار کیے ہوئے ہو گا تو دیکھنے سے کہیں خیال کریں گے یہ بھی انہیں میں سے ہے۔ علماء کی اس تشریح سے یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ اگر کوئی مسلمان تجارت کی غرض سے بھی دارالکفر جائے تو اس کے لئے وہاں پر ضرورت سے زیادہ قیام کرنا مکروہ ہے۔ ( معالم السنن للخطابی ص ۴۳۷ ج ۳ )
اور مراسیل ابو داؤد عن المكحول میں روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ رسم نے ارشاد فرمایا: “اپنی اولاد کو مشرکین کے درمیان مت چھوڑو۔ “(تہذیب السن لاین تیم ص ۴۳۷ ج ۳)
اسی وجہ سے فقہاء فرماتے ہیں کہ صرف ملازمت کی غرض سے کسی مسلمان کا دار الحرب میں رہائش اختیار کرنا، اور ان کی تعداد میں اضافہ کا سبب بننا ایسا فعل ہے جس سے اس کی عدالت مجروح ہو جاتی ہے۔[دیکھئے تکملہ رد المختار ج اص (۱۰۱)]
(۵) پانچویں صورت یہ ہے کہ کوئی شخص سوسائٹی میں معزز بننے کے لئے اور دوسرے مسلمانوں پر اپنی بڑائی کے اظہار کے لئے غیر مسلم ممالک میں رہائش اختیار کرتا ہے یا دار الکفر کی شہریت اور قومیت کو دارالاسلام کی قومیت پر فوقیت دیتے ہوئے اور اس کو افضل اور برتر سمجھتے ہوئے ان کی قومیت اختیار کرتا ہے یا اپنی پوری عملی زندگی میں بود و باش میں ان کا طرز اختیار کر کے ظاہری زندگی میں ان کی مشابہت اختیار کرنے کے لئے اور ان جیسا بننے کے لئے رہائش اختیار کرتا ہے ۔ ان تمام مقاصد کے لئے وہاں رہائش اختیار کرنا مطلقاً حرام ہے۔ جس کی حرمت محتاج دلیل نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved