- فتوی نمبر: 35-293
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: عبادات > قسم اور منت کا بیان > نذر و منت کے احکام
استفتاء
میرا سوال ہے کہ عورتیں کوئی کام پورا کرنے کے لیے نذر مانتی ہیں تاکہ وہ کام کامیابی سے ہو جائےاس میں وہ قرآن پاک کا ختم رکھتی ہیں تیس بندوں کو ایک ایک سپارہ دے کر یا 41 روزو ں کی نذر مانتی ہیں 41 بندوں سے روزہ رکھنے کو کہتی ہیں۔ اس نذر کی اسلام میں کیا اہمیت ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: دل میں نیت کی تھی یا زبان سے بھی نذر کے الفاظ بولے تھے؟ اگر بولے تھے تو وہ کیا الفاظ تھے؟
جواب وضاحت: پورے گھر کی عورتوں نے زبان سے یہ الفاظ بولے تھے کہ” ہم 41 روزے رکھ رہے ہیں اور قرآن پاک کا ختم کر رہے تاکہ ہمارے باپ کا آپریشن کامیاب ہو “اور پھر یہ روزے اور قرآن پاک خود بھی پڑھتے ہیں اور رشتےداروں سے بھی روزہ رکھنے اور قرآن پاک پڑھنے کا کہتے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت نذر کی نہیں ہے بلکہ کسی مقصود کو حاصل کرنے کے لیے ایک وظیفہ کی ہے اور کسی کام کے لیے بطور وظیفہ مذکورہ عمل کیا جا سکتا ہے۔
توجیہ: نذر کے منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں التزام ہو اور اضافت الی المستقبل ہو ، مذکورہ جملے “ہم 41 روزے رکھ رہے ہیں اور قرآن پاک کا ختم کررہے ہیں تاکہ ہمارے باپ کا آپریشن کامیاب ہو” میں چونکہ التزام کیساتھ اضافت الی المستقبل نہیں ہے اس لیے مذکورہ صورت نذر کی نہیں ہے ۔
المحیط البرہانی (6/62) میں ہے:
وشرط انقعادها تصور البر عند أبي حنيفة ومحمد رضي الله عنهما، والإضافة إلى المستقبل بدون تصور البر لا يكفي لانعقادها، وعند أبي يوسف رحمه الله الإضافة إلى فعل في المستقبل بدون التصور كاف لانعقادها على ما يأتي بيانه بعد هذا إن شاء الله تعالى.
بدائع الصنائع (6/321) میں ہے:
هو الصيغة الدالة عليه وهو قوله: ” لله عز شأنه علي كذا، أو علي كذا، أو هذا هدي، أو صدقة، أو مالي صدقة، أو ما أملك صدقة، ونحو ذلك.
احکام القرآن (2/18) میں ہے:
حقيقة النذر التزام الفعل بالقول مما يكون طاعة لله عزوجل ومن الاعمال قربة ولا يلزم نذر المباح
فتاوی محمودیہ ج 3ص295میں ہے:
الجواب حامداًومصلیاً:دفع مصائب کے لئے جو ختم پڑھاجاتاہے، وہ بطور علاج ہے اس کے لئے قرآن وحدیث سے ثبوت ضروری نہیں،صرف اتناکافی ہے کہ وہ قرآن وحدیث کے منافی ومعارض یعنی شرعاً ممنوع ومذموم نہ ہو جیسا کہ غیرشرعی رقیہ ممنوع ہے ، ایسے ہی ختم میں جوتعداد متعین ہے وہ ایسی نہیں جیسی رکعات نماز کی تعداد یااشواطِ طواف کی تعداد ہے کہ اس کے لئے صراحۃً ثبوت ضروری ہے بلکہ وہ ایسی تعداد ہے جیسے حکیم نسخہ میں لکھتے ہیں عناب 5دانہ بادام 7دانہ وغیرہ کہ یہ تجربات سے ثابت ہے ، اس کے لئے قرآن وحدیث سے ثبوت طلب کرنا بے محل ہے، جب اس ختم کی شان معالجہ کی ہے تو بدعت کاسوال ہی ختم ہوجاتاہے ،تعداد کا تجربہ سے متعین کردینا خلاف شرع نہیں، علاج کیلئے سات کنووں کاپانی سات مشکوں میں منگانا حدیث شریف سے ثابت ہے۔
امداد الفتاویٰ (4/489) میں ہے:
سوال: قرآن شریف یا صلوات یا ذکر کشائش رزق یا قضاء حاجت کے لئے قراء ت کرنا درست ہے یا نہ؟
الجواب: درست ہے جیسا حدیث میں سورۂ واقعہ کی یہی خاصیت وارد ہوئی ہے جو صریح دلیل ہے جواز کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
