• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

رخصتی کے بعد حق مہر کی ادائیگی لازم ہے

استفتاء

سوال نمبر:01: میرے بھائی اور بھابی کی آپس میں گھریلو ناچا قیوں کی وجہ سے زندگی گزارنا اجیرن ہو گیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ طلاق کی نوبت آگئی، اب اللہ ہی گواہ ہے کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں مگر میری بھا بھی میرے بھائی سے جان چھڑانے کی غرض سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتی تھی اور انہوں نے دوسری شادی کر ڈالی بغیر تحریری انداز میں طلاق یا خلع کے، میرا بھائی حرم شریف خانہ کعبہ میں تسلی کیلئے تیار ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی،  اس کی بیوی نے الزام لگا کر جان چھڑانا چاہی۔ کیا میری سابقہ بھابھی کی دوسری شادی شریعت کی رو سے جائز ہے یا نہیں؟ بغیر دستاویزاتی طلاق نامہ اور خلع کے۔

سوال نمبر :02: میری سابقہ بھابھی کیلئے جو حق مہر لکھا گیا ہے کیا وہ انکا حق ابھی بھی ہے یا دوسری شادی کرنے پر پچھلا حق مہر ختم ہو جاتا ہے؟ اگر حق مہر کا حق برقرار رہتا ہے تو وہ کن وجوہات کی بناء پر ؟ اور اسکے برعکس اگر حق مہر کا حق برقرار نہیں رہتا تو وہ کن وجوہات  کی بناء پر ؟

سوال نمبر : 03: میرے مرحوم والد صاحب کو حصہ رسد میں سے چھ مرلہ رقبہ ملا  میرے مرحوم والد صاحب نے وہی چھ مرلہ میری مرحومہ والدہ کو بطور حق مہر دیا۔ ہمارا موجودہ مکان 05 مرلے کا ہے اور 01 مرلہ کا رقبہ میرے چچا کے مکان کے حدود میں آج بھی ہے ۔ بڑے بھائی کی شادی کےوقت 2/1حصہ رقبہ یعنی 2.5 مرلے میری  والدہ کی رضامندی  سے میری سابقہ بھابی کو بطور حق مہر دیا  گیا اور باقی 2.5 مرلہ میرے حصے میں رہ گئے کیونکہ ہم دو ہی بھائی ہیں اس لیے آدھا آدھا دونوں کو دیا گیا ۔ جب میں نے اپنا حصہ یعنی 2.5 مرلہ بیچنے کا ارادہ کیا تو تعلقات بہتر  تھے اس لیے میرے بھائی کے سسرال والوں نے مجھ سے میرا  حصہ یعنی 2.5 مرلے کا رقبہ  خرید لیا مطلب موجودہ 05 مرلے کا مکان میری سابقہ بھابھی  کا ہوگیا یا اُسکے نام ہوا۔

اب کچھ وجوہات کی بناء پر وہ ایک مرلہ جو چچا کے مکان کے حدود میں ہے اُسکی بات زیر بحث آئی تو کیا اس 01 مرلے رقبے میں میری سابقہ بھابھی آدھے مرلے کی حقدار ہوگی یا نہیں؟ اور آپکی معلومات کیلئے  عرض ہے کہ میرے بھائی کے پاس اسوقت رہنے کیلئے کوئی جگہ نہیں ، باقی ہمارا مذہب دین اسلام جسکی ہر بات ماشاء اللہ ماشاء اللہ انصاف پر مبنی ہے، ایسے حالات میں میرے بھائی   کے   رہنے کیلئے کوئی نہ کوئی جگہ تو چاہئے ہوگی  اور امید ہے اس 01 مرلے میں آدھے حصے کا حقدار میرا بھائی ہی ہوگا۔

آپ صاحبان سے التماس ہے کہ مندرجہ بالا سوالات کے جوابات کی صورت میں رہنمائی فرما ئیں ۔

وضاحت مطلوب ہے: نکاح فارم کی تصویر ارسال کریں تاکہ دیکھا جاسکے اس میں بطور حق مہر 6 مرلے کا 2/1 لکھا ہے یا 5 مرلے کا 2/1 لکھا ہے۔

جواب وضاحت:نکاح نامے کی تصویر  مہیا کرنا میرے لیے فی الحال  ممکن نہیں  لہٰذا آپ دونوں صورتحال کا جواب عنایت فرمادیں۔

دارالافتاء کے نمبر سے سائل سے فون پر بات ہوئی تو سائل نے بتایا  کہ والدہ نے کہا تھا کہ اس مکان کا 2/1تمہارا ہے اور 2/1 تمہاری بھابھی کا ہے جبکہ اس وقت سب کے علم میں یہ بھی تھا کہ ایک مرلہ چچا کے مکان میں بھی ہے اور سائل  نے یہ بھی بتایا کہ غالبا نکاح فارم میں بھی یہی لکھا ہوا ہے کہ اس مکان کا 2/1 تمہارا ہے نیز یہ کہ ہماری والدہ فوت ہو چکی ہیں اور ان کے ورثاء  میں صرف ہم دو بھائی  ہیں اور کوئی بھی نہیں ہے ۔ہمارے نانا ، نانی اور ہمارے والد  والدہ سے پہلے فوت ہوگئے تھے، ہماری کوئی بہن بھی نہیں ہے۔

نوٹ: سائل کے بھائی نے بھی ساری صورتحال کی تصدیق کی ہے  تاہم یہ بھی کہا ہے کہ میری بیوی کو موجودہ مکان کا آدھا حصہ دیا گیا تھا اور اس وقت کسی کو علم نہیں تھا کہ موجودہ گھر 5 مرلے کا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔  یہ مسئلہ آپ کے  پوچھنے کا نہیں ہے بلکہ آپ کی بھابھی کے پوچھنے کا ہے تاہم اگر اس نے واقعتاً طلاق کے بغیر آگے نکاح کرلیا ہے تو یہ نکاح نہیں ہوا۔

2۔ دوسری شادی کرنے سے پہلی شادی کا حق مہر ختم نہیں ہوتا کیونکہ پہلے حق مہر کا تعلق پہلی  شادی سے ہے نہ کہ دوسری شادی سے  لہذا پہلے نکاح  کا پورا حق مہر شوہر کے ذمے بیوی کو  دینا لازم ہوگا۔

3۔ مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً والدہ نے صرف مکان کے نصف کی بات کی تھی تو چچا کے مکان والا ایک مرلہ اس میں شامل نہ ہوگا لہٰذا جب والدہ کی طرف سے مکان  کا نصف (2/1) آپ کو دیا گیا اور نصف (2/1)  آپ کی بھابھی کو دیا گیا تو وہ ایک مرلہ جو چچا کے مکان میں ہے وہ آپ دونوں بھائیوں کے درمیان بطور وراثت تقسیم ہوگا بھابی کو اس میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا۔تاہم اگر صورتحال مختلف ہوئی تو مذکورہ جواب کالعدم ہوگا۔

ہندیہ (1/303) میں ہے:

والمهر يتأكد ‌بأحد ‌معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك

بدائع الصنائع (2/291) میں ہے:

(‌وأما) ‌بيان ‌ما ‌يتأكد به المهر فالمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة.الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين، سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط شيء منه بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved