- فتوی نمبر: 32-218
- تاریخ: 06 مئی 2026
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > سونے اور چاندی کی زکوۃ کا بیان
استفتاء
جب لڑکی کی منگنی ہوتی ہے تو اسے اپنے سسرال کی طرف سے کچھ سونا ملتا ہے کیا لڑکی وہ سونا اپنے سونے میں شامل کرسکتی ہے؟ اور اس کی بھی زکوٰۃ دینی ہوگی؟ جبکہ ابھی شادی نہیں ہوئی، میں نے پڑھا ہے کہ زکوٰۃ مالک پر ہوتی ہے تو کیا منگنی کے موقع پر جو سونا ملتا ہے لڑکی اس کی مالک بن جاتی ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: آپ کے ہاں کیا رواج ہے؟ اگر کسی وجہ سے خدانخواستہ منگنی ٹوٹ جائے تو کیا یہ سونا واپس کیا جاتا ہے یا لڑکی کے پاس رہنے دیا جاتا ہے؟
جواب وضاحت: منگنی کبھی کسی کی ٹوٹی نہیں لیکن دیکھا یہ ہی گیا ہے کہ اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہوتی ، اللہ نہ کرے اگر ٹوٹ جائے تو سامان واپس کردیا جاتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر سسرال والوں کی طرف سے یہ وضاحت کردی گئی ہو کہ یہ سونا لڑکی کے لیے ہدیہ (گفٹ) ہے تو اس کی زکوٰۃ خود لڑکی پر ہوگی بشرطیکہ وہ لڑکی پہلے سے صاحب نصاب ہو یا اس سونے کے ملنے سے صاحب نصاب ہو گئی ہو اور اگر یہ وضاحت کردی گئی ہو کہ یہ صرف استعمال کے لیے ہے تو اس کی زکوٰۃ سسرال والوں پر ہوگی اور اگر کچھ وضاحت نہ کی گئی ہو تو اس بارے میں سسرال والوں کے عرف کا اعتبار ہوگا اگر وہ ہدیہ سمجھتے ہیں تو زکوٰۃ لڑکی پر ہوگی ورنہ سسرال والوں پر ہوگی۔
اگر لڑکی کو سسرال والوں کے عرف کا علم نہ ہو تو ان سے پوچھ لیا جائے اور جو وہ بتائیں اس کے مطابق عمل کیا جائے۔
درمختار مع رد المحتار (4/297) میں ہے:
(و لو بعث إلى امرأته شيئاً و لم يذكر جهة عند الدفع غير) جهة (المهر)……… (فقالت هو) المبعوث (هدية و قال هو من المهر) أو من الكسوة أو عارية (فالقول له) بيمينه والبينة لها.
قوله :(و لو بعث إلى امرأته شيئاً) أي من النقدين أو العروض أو مما يؤكل قبل الزفاف أو بعد ما بنى بها.
رد المحتار (4/ 306) میں ہے:
والمعتمد البناء على العرف
رسائل ابن عابدين (2/ 115) میں ہے:
و العرف في الشرع له اعتبار لذا عليه الحكم يدار …..و في المبسوط: الثابت بالعرف كالثابت بالنص.
فتاوی محمودیہ (107/12) میں ہے:
سوال : زوج نے اپنی زوجہ کو طلاق دیدی ، اب اس کے پاس جو زیور نقر ئی یا طلائی شوہر کی طرف سے دیا ہوا موجود ہے، اس کا حقدار شرعا کون ہے؟ ۔۔۔۔الخ
الجواب حامداً ومصلياً :اگر وہ زیور شوہر کی طرف سے عورت کو تملیکا دیا گیا تھا تو وہ عورت کا ہے اور اگر عاریۃ دیا گیا تھا تو وہ عورت کا نہیں ہے بلکہ شوہر کا ہے۔ اور اگر دیتے وقت کوئی تصریح تملیک یا عاریت کی نہیں کی گئی تھی تو رواج اور عرف کا اعتبار ہوگا ، اگر رواج تملیک کا ہے تو وہ زیور عورت کا ہے، اگر رواج عاریت کا ہے تو شوہر کا ، اگر رواج دونوں طرح کا ہے اور گواہ عورت کے پاس تملیک کے موجود نہیں تو شوہر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا ، کذا فی الفتاوى العالمكيرية ، ص : ٣٤٠ (١) رد المحتار : ٥٦١/۔
احسن الفتاوی (208/7) میں ہے:
سوال : زید ایک سرکاری ملازم ہے، اس کا انتقال ہو گیا ہے ، مرحوم کی بیوہ اور ایک کمسن بچہ کے علاوہ بھائی اور والدین بھی حیات ہیں ، سوال یہ ہے کہ مرحوم کی بیوہ کو جو زیورات بوقت عقد سسرال یا دوسرے رشتہ داروں کی طرف سے ملے تھے وہ کس کی ملک ہیں ؟ ان میں وراثت جاری ہوگی یا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب:سسرال کے دیے ہوئے زیورات میں یہ تفصیل ہے کہ دیتے وقت اگر سسرال نے کچھ وضاحت کی تھی تو اسکے مطابق عمل ہوگا ورنہ فیصلہ کا مدار عرف پر ہوگا، یعنی اگر اس خاندان یا اس شہر میں زیور بطور ملک دینے کا رواج ہو تو بیوہ مالکہ ہوگی ورنہ نہیں۔۔۔۔۔الخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved