- فتوی نمبر: 36-72
- تاریخ: 18 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تعلیق طلاق
استفتاء
میرا نام زینب ہے ۔میرے شوہر نے مجھے یہ کہا تھا کہ” اگر میں Narcissist (عجب اور خود پسندی کا شکار)ہوں تو تمہیں طلاق دیتا ہوں جاؤ کسی امیر سے شادی کر لو”۔اب وہ کہتے ہیں کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی لیکن وہ ہر وقت غصے میں رہتے تھے اور ہر وقت لڑتے رہتے تھے۔اب یہ بتائیں کہ انہوں نے یہ الفاظ غصے میں کہے ہیں اور نیت طلاق کی نہیں تھی تو طلاق ہو گئی یا نہیں ؟ اگر ہو گئی ہے تو کیسے رجوع کیا جا سکتا ہے ؟ کیا ان کا یہ کہنا کافی ہے کہ میں رجوع کرتا ہوں یا میں معافی چاہتا ہوں ؟ یا اس کے علاوہ کیا کیا جائے ؟
شوہر کا بیان :
میری بیوی سے کسی بات پر بحث ہوگئی تو میں نے کہا کہ میں ماہانہ تین چار لاکھ روپے کمارہا ہوں ۔ تو اس نے کہا کہ آپ Narcissist (عجب اور خود پسندی کا شکار ) ہیں ۔ میں نے کہا کہ “اگر میں Narcissist ہوں تو تمہیں طلاق دے دیتا ہوں تم کسی امیر سے شادی کرلو ” لیکن یہ بات طلاق کی نیت سے نہیں کہی بلکہ صرف اس کی بات کے جواب میں غصے میں کہہ دی ۔ میری بیوی کہتی ہے کہ میں نے کہا تھا کہ” طلاق دیتا ہوں” جبکہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ” طلاق دے دیتا ہوں” کہا تھا ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہوگئی ہے ۔ جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ٹوٹ گیا ہے۔ ساتھ رہنے کے لیے میاں بیوی کو گواہوں (کم از کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا ہوگا ۔
توجیہ : طلاق کے معاملہ میں بیوی کی حیثیت چونکہ قاضی کی طرح ہوتی ہے اس لیے وہ طلاق کے الفاظ اگر خود سن لے تو اسی پر عمل کی پابند ہوتی ہے مذکورہ صورت میں بیوی کے بیان کے مطابق شوہر نے جو الفاظ بولے ہیں یہ مجازاۃ کی صورت ہے جس میں طلاق کو ذکر کی گئی شرط پر معلق کرنا مقصد نہیں ہوتا بلکہ مقصد بیوی کے کہے گئے الفاظ پر اس کو سزا دینا ہوتا ہے اس لیے ان الفاظ سے فورا ً طلاق ہوجاتی ہے ۔ اس لیےبیوی کے مطابق جب شوہر نے یہ جملہ کہا کہ “اگر میں Narcissist (عجب اور خود پسندی کا شکار ) ہوں تو تمہیں طلاق دیتا ہوں ” تو اس سے بیوی کے حق میں ایک رجعی طلاق واقع ہوگئی ۔ اور اس کے بعد کہا گیا جملہ ” جاؤ کسی امیر سے شادی کر لو” کنایات طلاق میں سے ہے ۔ اور صریح طلاق کے بعداگر کنائی الفاظ نئی طلاق کی نیت کے بغیر بولے جائیں تو اس سے عدد طلاق میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ وصف طلاق میں اضافہ ہوجاتا ہے مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر کی ان الفاظ سے طلاق کی نیت نہیں تھی اور عموماً ہوتی بھی نہیں ہے لہٰذا اس کی وجہ سے کوئی نئی طلاق واقع نہ ہوئی بلکہ سابقہ رجعی طلاق بائنہ بن گئی ۔
اور شوہر کے بیان کے مطابق اس نے جو الفاظ کہے ہیں کہ ” اگر میں Narcissistہوں تو تمہیں طلاق دے دیتا ہوں”وہ انشاء طلاق کے لیے نہیں ہیں بلکہ مستقبل میں طلاق کے ارادہ کےاظہار کے لیے ہیں ۔ اس لیے ان الفاظ سے کوئی طلاق نہیں ہوئی ۔ البتہ اس کے بعد کا جملہ “تم کسی امیر سے شادی کرلو “چونکہ غصہ میں کہا گیا ہے اور یہ کنایات کی تیسری قسم میں سے ہے جس سے غصہ کی حالت میں بدون نیت بھی بیوی کے حق میں طلاق واقع ہوجاتی ہے لہٰذا شوہر کے بیان کے مطابق بھی بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہوگئی ہے ۔
درمختار مع ردالمحتار (4/582) میں ہے:
وأن لا يقصد به المجازاة، فلو قالت يا سفلة فقال: إن كنت كما قلت فأنت كذا تنجيز كان كذلك أو لا.
(قوله وأن لا يقصد به المجازاة إلخ) قال في البحر: فلو سبته بنحو قرطبان وسفلة، فقال: إن كنت كما قلت فأنت طالق تنجز، سواء كان الزوج كما قالت أو لم يكن لأن الزوج في الغالب لا يريد إلا إيذاءها بالطلاق، فإن أراد التعليق يدين وفتوى أهل بخارى عليه كما في الفتح اهـ يعني على أنه للمجازاة دون الشرط كما رأيته في الفتح وكذا في الذخيرة. وفيها والمختار والفتوى أنه إن كان في حالة الغضب فهو على المجازاة وإلا فعلى الشرط .
فتاوی شامی (4/521) میں ہے:
والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية.
فتاوی شامی (4/449) میں ہے:
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه.
امداد المفتین (ص521) میں ہے :
جب عبارت میں کوئی قرینہ ایسا موجود ہو جس سے یہ معلوم ہو کہ یہ الفاظ کنایہ طلاق سابق کا بیان یا تفسیر و تفریع ہیں تو ایک طلاق بائنہ بلا احتیاج الی النیۃ واقع ہو جائے گی جیسا کہ بائن کے حکم سے ظاہر ہوا بحوالہ فتح القدیر، اور اسی طرح جب کہ متکلم ان لفظوں سے طلاق اول کے بیان کی نیت کرے طلاق بائن واقع ہو جائے گی، اگرچہ لفظوں میں کوئی حرف تفریع وغیرہ موجود نہ ہو كما ظهر من عبارة الخلاصة و قال فى البحر كل كناية قرنت بطالق يجرى فيها ذلك (بحر صفحہ501 جلد 3) …………… ہمارے عرف میں اس عبارت کا صاف مطلب یہی سمجھا جاتا ہے کہ متکلم اپنے لفظوں سے کہ (میرا تم سے کوئی تعلق نہیں) اسی طلاق کو بیان کر رہا ہے جس کو اس سے پہلے صراحۃ ذکر کیا گیا ہے ………… الخ
امداد الاحکام(2/459)میں ہے:
الجواب: زید کا یہ قول کہ “اب تو تو دوسرا نکاح کرے گی ہی “کنایہ یا صریح کچھ نہیں اس سے انشاء طلاق کا قصد محاورات میں نہیں ہو سکتا اور دوسرا تیسرالفظ یعنی “جا نکاح کر “یا ہندہ کے اہل سے کہا “جاؤ دوسرا انتظام کرو”یہ کنایات طلاق میں سے ہے جس کا حکم یہ ہے کہ قضاء دلالت حال غضب یا مذاکرہ کے ہوتے ہوئے بدون نیت کے اس سے طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر دلالت حال و مقال نہ ہو تو بدون نیت کے وقوع نہ ہوگا ۔
فقہ اسلامی (ص141) میں ہے :
مثلاً عورت اپنے شوہر کو کمینہ وغیرہ کہے اور جواب میں شوہر کہے کہ اگر میں ایسا ہوں تو تجھ کو طلاق تو فوری طور طلاق واقع ہوجائے گی کیونکہ عام طور سے شوہر کا مقصد طلاق کو مشروط کرنا نہیں ہوتا بلکہ عورت کو سزا دینا ہوتا ہے ۔
فقہ اسلامی(ص:125)میں ہے:
تیسری قسم :وہ الفاظ جن میں مطالبہ مسترد کرنے کا یا گالم گلوچ کا معنی نہ نکلتا ہومثلاتم اپنا دوسرا نکاح کر لو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved