- فتوی نمبر: 36-51
- تاریخ: 11 جولائی 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > اصول دین
استفتاء
(اسماعیل ) ابن علیہ نے کہا : ہمیں یونس نے ابراہیم بن یزید تیمی کے حوالے سے حدیث سنائی ، میرے علم کے مطابق ، انہوں نے یہ حدیث اپنے والد ( یزید ) سے سنی اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن پوچھا :’’ جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ ‘‘ صحابہ نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں ۔ آپ نے فرمایا :’’ یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے اپنے مستقر پر پہنچ جاتا ہے ، پھر سجدے میں چلا جاتا ہے ، وہ مسلسل اسی حالت میں رہتا ہے حتی کہ اسے کہا جاتا ہے : اٹھو ! جہاں سے آئے تھے ادھر لوٹ جاؤ تو وہ واپس لوٹتا ہے اور اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے ، پھر چلتا ہوا عرش کے نیچے اپنی جائے قرار پر پہنچ جاتا ہے ، پھر سجدہ ریز ہو جاتا ہے اور اسی حالت میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس سے کہا جاتا ہے : بلند ہو جاؤ اور جہاں سے آئے تھے ، ادھر لوٹ جاؤ تو وہ واپس جاتا ہے اور اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے ، پھر ( ایک دن سورج ) چلے گا ، لوگ اس میں معمول سے ہٹی ہوئی کوئی چیز نہیں پائیں گے حتی کہ ( جب ) یہ عرش کے نیچے اپنے اسی مستقر پر پہنچے گا تو اسے کہا جائے گا : بلند ہو اور اپنے مغرب (جس طرف غروب ہوتا تھا ، اسی سمت ) سے طلوع ہو تو وہ اپنے مغرب سے طلوع ہو گا ۔‘‘ پھر آپ نے فرمایا :’’ کیا جانتے ہو یہ کب ہو گا ؟ یہ اس وقت ہو گا جب ’’ کسی شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اپنے ایمان کے دوران میں نیکی نہیں کمائی تھی ۔‘‘
براہِ کرم اس حدیث کی وضاحت فرمائیں۔ آج کل ہر شخص یہ جانتا ہے کہ سورج غروب نہیں ہوتا بلکہ 24 گھنٹے حرکت میں رہتا ہے۔ وہ سجدہ کب کرتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سورج کے سجدہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی روح سجدہ کرتی ہے اور اللہ تعالی سے اپنے مدار میں آگے بڑھنے کی اجازت لیتی ہے اور بدن اپنے مدار میں حرکت کرتا رہتا ہے۔
فتح الملہم (2/141) میں ہے:
والذي يخطر بالبال في حل ذلك الإشكال والله تعالى أعلم بحقيقة الحال أن الشمس وكذا سائر الكواكب مدركة عاقلة كما ينبىء عن ذلك قوله تعالى الآتي كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ حيث جيء بالفعل مسندا إلى ضمير جمع العقلاء وقوله تعالى إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَباً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي ساجِدِينَ [يوسف: 4] لنحو ما ذكر يدل وعليه ظاهر ما روي عن أبي ذر من أنها تسجد وتستأذن فإن المتبادر من الاستئذان ما يكون بلسان القال دون لسان الحال. وخلق الله تعالى الإدراك والتمييز فيها حال السجود والاستئذان ثم سلبه عنها مما لا حاجة إلى التزامه بل هو بعيد غاية البعد والشواهد من الكتاب والسنة وكلام العترة على كونها ذات إدراك وتمييز مما لا تكاد تحصي كثرة وبعض يدل على ثبوت ذلك لها بالخصوص وبعضها يدل على ثبوته لها باعتبار دخولها في العموم أو بالمقايسة إذ لا قائل بالفرق ومتى كانت كذلك فلا يبعد أن يكون لها نفس ناطقة كنفس الإنسان بل صرح بعض الصوفية بكونها ذات نفس ناطقة كاملة جدا، والحكماء أثبتوا النفس للفلك وصرح بعضهم بإثباتها للكواكب أيضا وقالوا: كل ما في العالم العلوي من الكواكب والأفلاك الكلية والجزئية والتداوير حي ناطق والأنفس الناطقة الإنسانية إذا كانت قدسية قد تنسلخ عن الأبدان وتذهب متمثلة ظاهرة بصور أبدانها أو بصور أخرى كما يتمثل جبريل عليه السلام ويظهر بصورة دحية أو بصورة بعض الأعراب كما جاء في صحيح الأخبار حيث يشاء الله عز وجل مع بقاء نوع تعلق لها بالأبدان الأصلية يتأتى معه صدور الأفعال منها كما يحكى عن بعض الأولياء قدست أسرارهم أنهم يرون في وقت واحد في عدة مواضع وما ذاك إلا لقوة تجرد أنفسهم وغاية تقدسها فتمثل وتظهر في موضع وبدنها الأصلي في موضع آخر ………… فيمكن أن يقال: إن للشمس نفسا مثل تلك الأنفس القدسية وأنها تنسلخ عن الجرم المشاهد المعروف مع بقاء نوع من التعلق لها به فتعرج إلى العرش فتسجد تحته بلا واسطة وتستقر هناك وتستأذن ولا ينافي ذلك سير هذا الجرم المعروف وعدم سكونه حسبما يدعيه أهل الهيئة وغيرهم ويكون ذلك إذا غربت وتجاوزت الأفق الحقيقي وانقطعت رؤية سكان المعمور من الأرض إياها ولا يضر فيه طلوعها إذ ذاك في عرض تسعين ونحوه
فہم حدیث(1/105) میں ہے:
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت سورج غروب ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ باخبر ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جاتا ہے (یعنی اس کی روح جاتی ہے اگرچہ اس کا جسد مدار میں ہوتا ہے ) یہاں تک کہ عرش الہی کے نیچے (اللہ تعالی کو ) سجدہ کرتا ہے اور (اپنے مدار میں مزید آگے بڑھنے کی ) اجازت چاہتا ہے تو اس کو اجازت دی جاتی ہے اور (وہ وقت ) قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے (اجازت کی خاطر ) لیکن وہ اس سے قبول نہ کیا جائے اور اس کو (آگے بڑھنے کی ) اجازت نہ دی جائے اور اس سے کہا جائے کہ جس طرف سے تو آیا ہے اسی طرف کو لوٹ جا تو وہ اپنے غروب کی جگہ سے طلوع ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved