• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مصنوعی ناخنوں کی خرید وفروخت اور ان کے استعمال کا حکم

استفتاء

ہم کاسمیٹکس کا سامان بیچتے ہیں ۔ پوچھنا یہ ہے کہ:

1۔ مصنوعی ناخن فروخت کرنے کا کیا حکم ہے ؟

2۔ اسی طرح ان ناخنوں کو چپکانے کے لیے گم(gum  )  استعمال ہوتی ہے اس کو بیچنا کیسا ہے ؟

جامعہ دارالتقوی کی ویب سائٹ پر ایک فتویٰ میں  ان کے استعمال  کو درندوں سے مشابہت کی وجہ سے ناجائز کہا گیا ہے تو کیا ناخنوں کو بیچنا بھی منع ہے؟  جبکہ جامعہ بنوری ٹاؤن کے فتویٰ میں   کچھ شرائط کے ساتھ مصنوعی ناخنوں  کو بیچنے اور لگانے کی  اجازت دی گئی ہے ۔جامعہ دارالتقویٰ کے فتویٰ کی عبارت درج ذیل ہے:

سوال: ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ عورت کو پلاسٹک سے بنی مصنوعی پلکیں اور ناخن عارضی طور پر کچھ وقت کے  لیے لگانا جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً:  پلاسٹک سے بنی پلکیں لگانا جائز ہے لیکن اس کو لگا کر وضو نہ ہوگا۔جبکہ ناخن لگانا جائزنہیں، کیونکہ اس صورت میں درندوں کے ساتھ مشابہت ہے اور نہ ہی ان ناخنوں کو لگا کر وضو ہوتا ہے۔

بنوری ٹاؤن کے فتویٰ  کی عبارت درج ذیل ہے:

 مصنوعی ناخن اور پلکوں کو  بیچنے اور لگانے کا حکم

سوال: مصنوعی ناخن اور مصنوعی پلکوں کو بیچنا جائز ہے؟ نیز ان کو لگانا کیسا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ خواتین کے لیے جائز حدود میں رہ کر شوہر کی خاطر زینت اختیا کرنا پسندیدہ ہے، اور غیر محرموں کو دکھانے  یا دیگر خواتین کے سامنے فخر و مباہات کی غرض سے زینت اختیار کرنا جائز نہیں ہے، اس کے علاوہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے دیگر ضرورت اور خوشی کے موقعوں میں پر زیب وزینت کرنا منع نہیں ہے۔

لہذا   عورتوں کے لیے  زینت کی خاطر (انسان اور خنزیر کے بالوں کے علاوہ کی ) مصنوعی پلکیں اور مصنوعی ناخن لگانا  جائز ہے، بشرط یہ کہ ان مصنوعی پلکوں سے محض دکھلاوا، یا  دھوکا دینا یا خلافِ حقیقت صورت کا اظہار مقصود نہ ہو،  البتہ وضو کے لیے پلکیں اور ناخن نکال کر وضو کرنا ضروری ہوگا۔ اور جب ان کا استعمال جائز ہے تو ان کی خریدوفروخت بھی جائز ہے۔

الدر المختار وحاشيہ ابن عابدين میں ہے:

“ووصل الشعر بشعر الآدمي  حرام سواء كان شعرها أو شعر غيرها؛ لقوله صلى الله عليه وسلم : «لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة والواشرة والمستوشرة والنامصة والمتنمصة». النامصة: التي تنتف الشعر من الوجه. والمتنمصة: التي يفعل بها ذلك.(قوله: سواء كان شعرها أو شعر غيرها)؛ لما فيه من التزوير كما يظهر مما يأتي، وفي شعر غيرها انتفاع بجزء الآدمي أيضاً، لكن في التتارخانية: وإذا وصلت المرأة شعر غيرها بشعرها فهو مكروه، وإنما الرخصة في غير شعر بني آدم تتخذه المرأة لتزيد في قرونها، وهو مروي عن أبي يوسف، وفي الخانية: ولا بأس للمرأة أن تجعل في قرونها وذوائبها شيئاً من الوبر (قوله: «لعن الله الواصلة» إلخ) الواصلة: التي تصل الشعر بشعر الغير والتي يوصل شعرها بشعر آخر زوراً “.

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ہماری معلومات کے مطابق خواتین مصنوعی ناخن دو وجوہات سے لگاتی ہیں :

(۱) لمبے ناخن دکھانے کے لیے۔

(۲) نارمل سائز پر کاٹ کر  (یا چھوٹے سائز کے خرید کر) محض خوبصورتی کے لیے ۔

لمبے ناخن میں چونکہ درندوں سے مشابہت ہے اس لیے اس غرض سے خواتین کا مصنوعی ناخن  لگانا جائز نہیں ہے۔ نارمل سائز پر کاٹ کر محض خوبصورتی کے لیے لگانا جائز ہے۔

چونکہ مصنوعی ناخنوں کا جائز استعمال بھی موجود ہے لہذا جس خاتون کے بارے میں یقین یا غالب گمان ہو کہ وہ اسے ناخن لمبے دکھانے کے لیے استعمال کرے گی اسے بیچنا جائز نہیں ہے ورنہ جائز ہے۔

2۔ مذکورہ گم چونکہ اپنی اصل کے اعتبار سے سپر گلو کہلاتی ہے جو بہت سی چیزوں کے جوڑنے میں استعمال ہوتی ہے اس لیے جس خاتون کے بارے میں یقین یا غالب گمان ہو کہ وہ اسے ناجائز کام میں استعمال کرے گی اسے بیچنا جائز نہیں ہے ورنہ جائز ہے۔

مشکوٰۃ المصابیح (2/383) میں ہے:

عن عائشة ان هندا بنت عتبة قالت يا نبي الله بايعني فقال لا ابایعك حتى تغيري كفيك فكانهما كفا سبع

الکوکب الدری (2/446) میں ہے:

وأما ‌من ‌شدد في جلود السباع فلما فيه من التشبه بالجبابرة وإيراث خصال السباع للملابسة لا للنجاسة

احکام الاحکام لابن دقیق العید (1/124) میں ہے:

وفي ذلك معنيان: أحدهما: تحسين الهيئة والزينة، ‌وإزالة ‌القباحة من طول الأظفار

دررالحکام (3/441) میں ہے:

 (کره بیع السلاح من أهل الفتنة) لانه إعانة  علی المعصية (وإن لم یدر أنه منهم لا) أی لایکره

ہدایہ (2/172) میں ہے :

‌قال: ” ‌ويكره ‌بيع ‌السلاح من أهل الفتنة وفي عساكرهم ” لأنه إعانة على المعصية ” وليس ببيعه بالكوفة من أهل الكوفة ومن لم يعرفه من أهل الفتنة بأس ” لأن الغلبة من الأمصار لأهل الصلاح

فتاوی عثمانی(3/84) میں ہے:

سوال:روزے کے دوران بیکری کا سامان فروخت کرسکتے ہیں یا نہیں،اور پتہ ہوکہ یہ شخص روزے کی حالت میں بھی کھائے گا تو اسے بھی فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:رمضان میں بیکری کا سامان فروخت کرنا جائزہے،البتہ جس شخص کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ بغیر کسی عذر کے دن کے وقت کھانے کے لیے خریدرہاہے اسے بیچنا جائز نہیں ہےمعلوم نہ ہو کہ کیا کرےگا تو جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved