• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

آن لائن سٹوڈنٹ سے معاہدہ کرکے قاری صاحب سے پڑھوانا

استفتاء

میں    ایک قاری ہوں اور آنلائن کام کرتا ہوں جس کی تفصیل یہ ہے کہ میں  آنلائن سٹوڈنٹ تلاش کرتا ہوں اور جب سٹوڈنٹ مل جاتا ہے تو اس سے مکمل  معاملہ  وظیفہ وغیرہ بھی خود طے کرتا ہوں   اور پھر اس کو پڑھانے کے لیے آن لائن قاری  صاحب تلاش کرتا ہوں (آن لائن بہت سے قاری صاحبان  پڑھانے کے لیے تیار ہوتے ہیں)   اگر  کوئی قاری صاحب پڑھانے کے لیے تیار ہوجائے تو  ان دونوں  (قاری صاحب اور  سٹوڈنٹ) کا رابطہ کراتا ہوں اور سٹوڈنٹ کو بھی بتا دیتا ہوں کہ یہ ہمارے قاری صاحب ہیں آپ ان سے پڑھ  لیں جیسا کہ اکیڈمیوں میں ہوتا ہے کہ سٹوڈنٹ تو انہی کے شمار ہوتے ہیں اور انہیں پڑھانے کے لیے استاد ہائر کرلیے جاتے ہیں اور قاری صاحب سے فیس کے بارے میں طے ہوتا ہے کہ جوسٹوڈنٹ کا وظیفہ ہے اس کا آدھا اسے ملے گا اور آدھا میرا ہوگا جس کی ترتیب یوں ہوتی ہے کہ جب  قاری صاحب سے ابتداء  میں بات ہوتی ہے تو اسے پہلے ہی بتا دیا جاتا ہے کہ ایک سٹوڈنٹ ہے اس سے اتنا وظیفہ طے ہوا ہے اگر آپ پڑھائیں گے   تو اس کا آدھا  آپ کو ملے گا یعنی  پہلے سے ہی استاد کو مقدار بتا دی جاتی ہے  البتہ چونکہ سٹوڈنٹ کا  معاملہ ہمارے ساتھ طے ہوا ہوتا ہے اس لیے عام طور پر وظیفہ  ہمارے اکاؤنٹ میں  آتا ہے اور آدھا قاری صاحب کو  دے دیتے ہیں  ۔تو کیا یہ معاملہ جائز ہے ؟

وضاحت مطلوب ہے : اگر کسی وجہ سے سٹوڈنٹ وظیفہ نہ دے تو کیا  پھر بھی آپ کے ذمے ہوتا ہے کہ قاری صاحب کو اجرت دیں یا پھر نہیں دی جاتی ؟

جواب وضاحت : ابھی تک کوئی ایسا معاملہ میرے سامنے پیش تو نہیں آیا  ،آپ حضرات بتا دیں شرعا کیا حکم بنتا ہے ؟

مزید وضاحت : کیا  یہ صورت کہ بالفرض سٹوڈنٹ وظیفہ نہ بھی دے تب بھی آپ کے ذمہ قاری صاحب کو وظیفہ دیناہو گا  ،پر عمل کرنا ممکن ہے اور یہ صورت اختیار کرنے پر راضی ہیں ۔

جواب وضاحت : جی انشاء اللہ

تنقیح : اس طرح کے معاملہ کا ہماری فیلڈ میں عرف ہے میں خود شروع میں کسی کے پاس پڑھاتا رہا ہوں اور اب میرے  کئی جاننے والے بھی   ایسے ہی کر رہے ہیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ معاملہ  جائز ہے ۔

توجیہ : مذکورہ صورت میں  قاری صاحب سائل کے اجیر شمار ہوں گے اورچونکہ    قاری صاحب کو پہلے سے بتا دیا جاتا   ہے کہ  سٹوڈنٹ سے اتنا وظیفہ ملے گا  جس کا   نصف آپ کو  بطور اجرت ملے گا    لہذا  اجرت  کی مقداربھی    معلوم ہوتی ہے   اور چونکہ  سائل اس بات پر تیار ہے کہ چاہے سٹوڈنٹ وظیفہ نہ بھی دے تب بھی وہ قاری صاحب کو ان کی اجرت دے گا  جس سے معلوم ہوا کہ اجرت سٹوڈنٹ    سے ملنے والے  وظیفہ  پر موقوف نہیں بلکہ صرف قاری صاحب کی اجرت طے کرنے کے لیے  اس کو معیار بنایا جاتا ہے   جس کی وجہ سے مذکورہ صورت میں مستاجر  کے اجرت پر بنفسہ  قادر نہ ہونے  کا اشکال   بھی نہ ہوگا ،    لہذا مذکورہ صورت جائز   ہوگی۔

شامی (6/ 5) میں ہے:

وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.

شامی (6/ 56) میں ہے:

«(ولو) (‌دفع ‌غزلا لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلا ليحمل طعامه ببعضه أو ثورا ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه – صلى الله عليه وسلم – عن قفيز الطحان……….. والحيلة أن يفرز الأجر أولا أو يسمي قفيزا بلا تعيين ثم يعطيه قفيزا منه فيجوز

(قوله بجزء من عمله) أي ببعض ما يخرج من عمله، والقدرة على التسليم شرط وهو لا يقدر بنفسه زيلعي

امداد الاحکام(3/585) میں ہے:

سوال :زید کے پاس  آٹا پیسنے کی ایک مشین ہے ،اور ایک من گیہوں کی پسوائی یعنی اجرت میں (چار آنہ نقد اور ایک سیر آٹا ) لیتا ہے تو آیا ایسے اجرت لینا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب:پسوائی میں ایک سیر آٹا فی من لینا جائز نہیں ،لكونه من قفيز الطحان وقد نهى عنه،بلکہ جس قدر اجرت لینا ہو نقد لی جائے۔

نوٹ:لیکن اگر یہ امر یقینی ہو کہ آٹا پسوانے والا اگر اس آٹے میں سے نہ دے بلکہ اپنے پاس سے دینے لگے تو آٹا پیسنے والا لینے سے انکار نہ کرے تو اس صورت میں خود اس پسے ہوئے سے بھی دینا لینا جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved