- فتوی نمبر: 36-83
- تاریخ: 02 اگست 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز جنازہ و میت کے احکام
استفتاء
میرے ایک عزیز کی فوتگی ہوئی وہاں دوسرے غسل کے وقت مولانا صاحب نے کہا کہ دوسرا غسل ضروری نہیں صرف پاخانہ صاف کرنا ہی کافی ہے اور پھر انہوں نے صرف روئی سے پاخانہ صاف کیا جتنے بھی افراد وہاں موجود تھے سب کو اس نجاست کی بدبو بھی آئی۔برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں اس مسئلے کی رہنمائی فرما دیں۔
وضاحت مطلوب ہے: صورت حال کو ذرا واضح کریں کہ کیا میت کو غسل دینے کے بعد ان کا پاخانہ نکلا تھا؟ اور دوسرے غسل سے کیا مراد ہے؟
جواب وضاحت:جناب عموماً دیکھتے ہیں کہ میت کو دو غسل دئیے جاتے ہیں ایک فوتگی کے فوراً بعد اور دوسرا جنازے کے وقت۔ ان مولانا صاحب نے کہا کہ دوسرا غسل ضروری نہیں صرف پاخانہ صاف کرنا ہی کافی ہے اور پھر انہوں نے روئی سے پاخانہ صاف کیا۔ دوسرا غسل نہیں دیا اور پھر میت کو کفن دے دیا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
میت کو صرف ایک مرتبہ غسل دینا ضروری ہے لہذا مذکورہ صورت میں مولانا صاحب کا دوبارہ غسل نہ دینے کا عمل درست تھا۔
التجرید للقدوری (3/1051) میں ہے:
قال أصحابنا: إذا خرج من الميت نجاسة بعد الغسل، غسل ذلك الموضع، ولم يعد غسله
شامی (2/197) میں ہے:
(ولا يعاد غسله ولا وضوءه بالخارج منه) لأن غسله ما وجب لرفع الحدث لبقائه بالموت بل لتنجسه بالموت كسائر الحيوانات الدموية إلا أن المسلم يطهر بالغسل كرامة له وقد حصل
البحر الرائق (2/186) میں ہے:
(قوله، ولم يعد غسله) ؛ لأن الغسل عرفناه بالنص، وقد حصل مرة، وكذا لا تجب إعادة وضوئه
فتاویٰ عثمانی (2/568) میں ہے:
سوال: میت کو غسل دینے کے بعد اگر کان سے خون نکل آئے تو روئی کا فوس کان میں خون کے بند ہونے کیلئے رکھنا جائز ہے؟ اسی طرح بدن کے دوسرے اجزاء میں بھی؟
جواب: غسل دینے کے بعد اگر جسم کے کسی حصے سے خون وغیرہ نکلے تو چونکہ غسل کا لوٹانا واجب نہیں ہے اس لئے اسے محض صاف کر دینا کافی ہے، تاہم اگر کان وغیرہ میں روئی رکھ دی جائے تو کچھ حرج نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved