• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سسرال والوں کی طرف سے ملے زیور کس کی ملکیت شمار ہوں گے؟

استفتاء

اگر سسرال والے زیور ڈالیں اور وہ حقِ مہر میں شامل نہ ہو تو کیا اس پر لڑکی کا حق ہوتا ہے؟  مسئلہ اس طرح ہے کہ نکاح کے وقت لڑکے والوں نےمجھے ایک سونے کی انگوٹھی پہنائی تھی،  پھر شادی کے دن وہ میرے گھر زیور لے کر آئے اور سب کے سامنے کہا کہ “یہ زیور ہم نے ڈالا ہے، یہ تمہارا ہے” وہاں موجود تمام لوگوں نے یہ بات سنی اور دیکھی تھی، بعد میں انہوں نے مجھے اس زیور کی رسید بھی دی اور کہا کہ “یہ سنبھال کر رکھو، یہ تمہاری چیز ہے”پھر ایک دفعہ ہماری لڑائی ہوئی تو وہ لوگ وہ زیور واپس لے گئے اور کہنے لگے کہ “یہ تو ہم نے اپنے بیٹے کو دیا تھا، یہ تمہارے حقِ مہر میں شامل نہیں ہے” اس زیور میں چوڑیاں بھی تھیں، بعد میں جب میں نے اپنا حق مہر مانگا تو میرے شوہر نے کہا: “یہ چوڑیاں حقِ مہر کے بدلے رکھ لو۔”

اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں ان زیورات اور چوڑیوں کی شرعی اور قانونی ملکیت کس کی شمار ہوگی؟

وضاحت مطلوب ہے: لڑکی اور لڑکے دونوں کا رابطہ نمبر مہیا کریں۔نیز اس معاملے میں لڑکے کے خاندان کا رواج کیا ہے؟ صرف پہننے کے لیے دیتے ہیں یا بہو کو مالک بناتے ہیں؟

جواب وضاحت: یہ لڑکی کا ہی نمبر ہے، شوہر کا  رابطہ نمبر ******ہے۔

شوہر کا بیان:

 دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے  رابطہ کیا گیا اور مذکورہ زیورات کے متعلق پوچھا گیا کہ کیا آپ نے زیور ڈالتے ہوئے بیوی کو یہ کہا تھا کہ ” یہ زیور تمہارا ہے” اور رسید بھی دی تھی؟ تو اس نے  کہا کہ  یہ سچ ہے ہم نے یہی کہا تھا  لیکن مقصود مالک بنانا نہیں تھا،   ہم نے وہ زیورات صرف پہننے کے لیے دیے تھے  بیوی کو مالک نہیں بنایا تھا ہمارے خاندان کا عرف ورواج یہی ہے۔ چوڑیوں کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ  مہر نقد طے پایا تھا، اور بیوی کے مطالبہ کے وقت میرے پاس نقدی نہ تھی، تو میں نے کہا کہ یہ چوڑیاں تم حق مہر کے بدلے میں  رکھ لو۔انگوٹھی کے متعلق پوچھا گیا، تو اس نے کہا کہ ان زیورات کے علاوہ میں نے سونے کی ایک انگوٹھی بیوی کو گفٹ دی تھی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تمام زیورات بیوی کی ملکیت ہیں۔

توجیہ: لڑکی کو  مہر کے علاوہ جو زیورات سسرال والوں کی طرف سے ملتے ہیں، ان میں یہ تفصیل ہے کہ اگر زیورات دیتے وقت سسرال والوں نے اس بات کی تصریح کی ہو کہ یہ بطور عاریت   ہیں تو پھر یہ زیورات لڑکے والوں کی ملکیت ہوتے ہیں، اور اگر سسرال والوں نے بطور ہبہ(گفٹ)  دینے کی تصریح کی ہو تو پھر یہ زیورات  لڑکی کی ملکیت ہوتے ہیں ، اور اگر  سسرال والوں نے زیورات دیتے وقت کسی قسم کی تصریح نہ کی ہو تو پھر لڑکے کے خاندان کے عرف کا اعتبار ہوتا ہے۔ اگر ان کا عرف و رواج بطور ملکیت دینے کا ہو تو زیورات کی مالک لڑکی ہوتی ہے، اور اگران  کا عرف و رواج بطور عاریت دینے کا  ہو تو پھر زیورات کے مالک سسرال والے  ہوتے ہیں۔

مذکورہ صورت میں چونکہ  انگوٹھی کے بارے میں شوہر نے اقرار کیا ہے کہ اس نے لڑکی کو بطور گفٹ دی  تھی   اس لیے انگوٹھی لڑکی کی ملکیت ہے، اور باقی تمام زیورات  دیتے وقت اگرچہ سسرال والوں کی لڑکی کو  مالک بنانے کی نیت نہیں تھی اور ان کا رواج بھی یہی ہے، لیکن لڑکے والوں کی طرف سے مذکورہ زیورات لڑکی کو دیتے وقت  کہے گئے الفاظ کہ ’’یہ تمہارا ہے‘‘ہبہ کے الفاظ  ہیں، اور زیورات پر قبضہ کرتے ہی ہبہ تام ہو گیا اور زیورات لڑکی کی ملکیت میں چلے گئے، لہٰذا ان تمام زیورات کی مالک بھی لڑکی ہے۔

الدر المختار مع رد المحتار (4/ 297)میں ہے:

(ولو بعث إلى امرأته شيئا ولم يذكر جهة عند الدفع غير) جهة (المهر) كقوله لشمع أو حناء ثم قال إنه من المهر لم يقبل قنية لوقوعه هدية فلا ينقلب مهرا (فقالت هو) أي المبعوث (هدية وقال هو من المهر) أو من الكسوة أو عارية (فالقول له) بيمينه والبينة لها،

«(قوله ولو بعث إلى امرأته شيئا) أي من النقدين أو العروض أو مما يؤكل قبل الزفاف أو بعد ما بنى بها نهر (قوله ولم يذكر إلخ) المراد أنه لم يذكر المهر ولا غيره ط (قوله كقوله إلخ) تمثيل للمنفي وهو يذكر (قوله والبينة لها) أي إذا أقام كل منهما بينة تقدم بينتها ط»

شامی (3/ 153)میں ہے:

قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا»

رد المحتار (3/ 153) میں ہے:

«(ولو ادعت أنه) أي المبعوث (من المهر وقال هو وديعة فإنه كان من جنس المهر فالقول لها، وإن كان من خلافه فالقول له) بشهادة الظاهر.

رد المحتار (4/ 306) میں ہے میں ہے:

والمعتمد البناء على العرف

رسائل ابن عابدين (2/ 115) میں ہے میں ہے:

و العرف في الشرع له اعتبار لذا عليه الحكم يدار …..و في المبسوط: الثابت بالعرف كالثابت بالنص.

تبیین الحقائق (5/100) میں ہے:

قال رحمه الله (والزاي الزوجية ‌فلو ‌وهب، ‌ثم ‌نكح رجع وبالعكس لا) أي لو وهب لأجنبية، ثم تزوجها يجوز له الرجوع في الهبة وبالعكس وهو ما إذا وهب لزوجته، ثم أبانها ليس له الرجوع في الهبة الأصل فيه أن الزوجية نظير القرابة حتى يجري التوارث بينهما بلا حاجب وترد شهادة كل واحد منهما للآخر فيكون المقصود في هبة كل واحد منهما للآخر الصلة والتواد دون العوض كما في القرابة المحرمية فقد حصل فلا يرجع بعد حصول المقصود بخلاف الهبة للأجنبي؛ لأن المقصود فيها العوض على ما بينا فكان له الرجوع عند فواته، ثم المعتبر في ذلك حالة الهبة فإن كانت أجنبية كان مقصوده العوض فثبت له الرجوع فيها فلا يسقط بالتزوج وإن كانت حليلة له كان مقصوده الصلة دون العوض وقد حصل فسقط الرجوع فلا يعود بالإبانة

قوله ‌لو ‌وهب ‌لأجنبية، ثم تزوجها إلخ) قال في الهداية وكذلك ما وهب أحد الزوجين للآخر قال الأتقاني أي لا رجوع فيما وهب أحدهما لصاحبه لما روى محمد بن الحسن عن إبراهيم في كتاب الآثار قال الزوج والمرأة بمنزلة القرابة أيهما وهب لصاحبه فليس له أن يرجع فيه. اهـ

ہندیہ (4/375) میں ہے:

‌وأما ‌الألفاظ ‌التي تقع بها الهبة فأنواع ثلاثة: نوع تقع به الهبة وضعا، ونوع تقع به الهبة كناية وعرفا، ونوع يحتمل الهبة والعارية مستويا. أما الأول فكقوله: وهبت هذا الشيء لك، أو ملكته لك، أو جعلته لك، أو هذا لك، أو أعطيتك، أو نحلتك هذا، فهذا كله هبة

فتاوی محمودیہ (12/107) میں ہے:

سوال  : زوج نے اپنی زوجہ کو طلاق دیدی ، اب اس کے پاس جو زیور نقر ئی یا طلائی شوہر کی طرف سے دیا ہوا موجود ہے، اس کا حقدار شرعا کون ہے؟ ………….الخ

الجواب حامداً ومصلياً :اگر وہ زیور شوہر کی طرف سے عورت کو تملیکا دیا گیا تھا تو وہ عورت کا ہے اور اگر عاریۃ دیا گیا تھا تو وہ عورت کا نہیں ہے بلکہ شوہر کا ہے۔ اور اگر دیتے وقت کوئی تصریح تملیک یا عاریت کی نہیں کی گئی تھی تو رواج اور عرف کا اعتبار ہوگا ، اگر رواج تملیک کا ہے تو وہ زیور عورت کا ہے، اگر رواج عاریت کا ہے تو شوہر کا ، اگر رواج دونوں طرح کا ہے اور گواہ عورت کے پاس تملیک کے موجود نہیں تو شوہر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا ۔

احسن الفتاوی (7/208) میں ہے:

سوال : زید ایک سرکاری ملازم ہے، اس کا انتقال ہو گیا ہے ، مرحوم کی بیوہ اور ایک کمسن بچہ کے علاوہ بھائی اور والدین بھی حیات ہیں ، سوال یہ ہے کہ مرحوم کی بیوہ کو جو زیورات بوقت عقد سسرال یا دوسرے رشتہ داروں کی طرف سے ملے تھے وہ کس کی ملک ہیں ؟ ان میں وراثت جاری ہوگی یا نہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:سسرال کے دیے ہوئے زیورات میں یہ تفصیل ہے کہ دیتے وقت اگر سسرال نے کچھ وضاحت کی تھی تو اسکے مطابق عمل ہوگا ورنہ فیصلہ کا مدار عرف پر ہوگا، یعنی اگر اس خاندان یا اس شہر میں زیور بطور ملک دینے کا رواج ہو تو بیوہ مالکہ ہوگی ورنہ نہیں ……………الخ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved