• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

طلاق کو زمین نہ لانے پر معلق کرنا

استفتاء

زید نے اپنی زوجہ کو کہا کہ “اپنے میکے سے زمین لے کر آؤ اگر نہیں لے کر آئی تو میری طرف سے طلاق ہے” اس مسئلے کو تقریبا 10 سال ہو چکے ہیں اب واپس رجوع کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اگر کیا جا سکتا ہے تو کس صورت میں؟

وضاحت مطلوب ہے: 1۔سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟ 2۔ بیوی زمین لیکر آئی یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیااس کے بعد وہ شوہر کے پاس آئی تھی؟

جواب وضاحت:1۔ سائل بیٹا ہے۔2۔ بیوی دس سال سے وہاں بیٹھی ہے ، آئی ہی نہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں   فی الحال کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی لہٰذا وہ اب بھی  اپنے شوہر کی بیوی ہے اور شوہر اسے واپس لانا چاہے تو واپس لا سکتا ہے۔

توجیہ:طلاق کو جب کسی کام کے نہ کرنے پرمعلق کیا جائے اور کوئی مدت متعین نہ کی جائے تو طلاق اس وقت واقع ہوتی ہے جب اس کام کو کرنا ممکن نہ رہے۔ مذکورہ صورت میں موت سے پہلے عورت کا زمین لانا ممکن ہے لہذا فی الحال کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

المبسوط للسرخسی (6/ 161) میں ہے:

«إن لم تمسي السماء بيدك، أو إن لم تحولي هذا الحجر ذهبا فهي طالق ساعة تكلم به بخلاف ما لو قال: إن لم تدخلي الدار فإن هناك لا تطلق حتى تموت»

(قال): ولو قال: ‌أنت ‌طالق ‌إن ‌لم ‌تصنعي كذا وكذا لعمل يعلم أنها لا تصنعه أبدا نحو: أن يقول: إن لم تمسي السماء بيدك، أو إن لم تحولي هذا الحجر ذهبا فهي طالق ساعة تكلم به بخلاف ما لو قال: إن لم تدخلي الدار فإن هناك لا تطلق حتى تموت؛ لأن الشرط فوات الدخول، ولا يتحقق ذلك إلا عند موتها، فإن الدخول منها يتأتى ما دامت حية، فأما هنا الشرط عدم مس السماء منها، أو تحويل الحجر ذهبا، وذلك متحقق في الحال من حيث الظاهر، ولأنه لا فائدة في الانتظار هنا؛ لأنه لا يحصل به عجز لم يكن ثابتا قبله بخلاف مسألة الدخول على ما بينا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved