• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

تقسیم سے قبل کرائے پر گھر یا کرائے دیے ہوئے دکانوں کے کرایہ میں بیٹیوں کا حصہ

استفتاء

1۔تقسیم اور قرضوں کی ادائیگی سے قبل موصول ہونے والے کرایوں میں مرحوم کی بیٹیوں کا بھی حصہ ہو گا؟ برابر ہے کہ آج تک ان کی طرف سے صراحتاً، اشارتاً، کنایتاً یا عرفاً بھی مطالبہ نہ ہوا ہو، یا مطالبہ ہوا ہو۔

2۔تقسیم جائیداد سے قبل قرضے ادا ہو جانے کے بعد بھی موصول ہونے والے کرایوں میں مرحوم کی بیٹیوں کا بھی حصہ ہو گا؟ حاصل ہونے کرایوں کے علاوہ تا حال جس گھر میں مرحوم کی زوجہ اور بیٹوں کی رہائش ہے، اس گھر کا نفع بیٹیوں کو نہیں مل رہا، بلکہ صرف زوجہ اور بیٹوں کو ہی مل رہا ہے۔ کیا بیٹیوں کو بھی اس گھر میں بطور کرایہ کچھ ملنے کا حق ہے؟ اگر ہے تو اس کرایہ کا اعتبار قرضوں سے خلاصی کے بعد کیا جائے گا یا مرحوم کی وفات سے ہی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

2۔1۔ الف: تقسیم اور قرضوں کی ادائیگی سے قبل، یا تقسیم جائیداد سے قبل اور قرضے ادا ہو جانے کے بعد موصول ہونے والے کرایوں میں مرحوم کی بیٹیوں کا حصہ ہو گا۔ کیونکہ یہ کرایہ مِلک مشترک سے حاصل ہوا ہے۔ اور اگر اسے غصب مانیں تو پھر بھی بیٹیوں کا اس کرایہ میں حصہ ہو گا۔ کیونکہ ایک گھر اور چار دکانیں معد للاستغلال تھیں۔ چنانچہ فتاویٰ شامی میں ہے:

منافع الغضب استوفاها أو عطلها فإنه لا يضمن عندنا … إلا أن يكون وقفاً … أو مال يتيم … أو معداً للاستغلال بأن بناه لذلك أو اشتراه لذلك، قيل أو آجره ثلاث سنين علی الولاء. (9/ 346)

اور دوسری جگہ ہے:

لو غصب داراً معداً للاستغلال و آجرها و سكنها المستأجر يلزمه المسمی. (9/ 347)

ب: رہائشی گھر  چونکہ نہ تو معد للاستغلال ہے اور نہ ہی بیٹیوں کی طرف سے آج تک کرائے کے بارے میں کسی قسم کا مطالبہ  کیا گیا، اس لیے اس گھر میں سے بطور کرایہ کے بیٹیوں کو کچھ نہ ملے گا۔ چنانچہ فتاویٰ شامی میں ہے:

و هذا كله (أي عدم ضمان منافع الدار إذا لم يكن للاستغلال) إذا لم يطالبه بالأجر و إلا فيجب و لو لم يكن معداً للاستغلال. (9/ 347)

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved