• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

عمرہ کے دوران چہرہ ڈھاپنے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ تقریباً 10 سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہا، میری بیوی نے اس دوران بہت سارے عمرے کیے (تعداد یاد نہیں)۔ ان عمروں میں شروع کے کچھ عمروں  کی ادائیگی کے دوران اپنا چہرہ کھلا رکھتی تھی، پھر کسی نے بتایا کہ چہرہ کا پردہ بھی واجب ہے۔ تو اس کے بعد جتنے عمرے ادا کیے، وہ چہرہ پر پردہ کر کے ادا کیے، یعنی نقاب کر کے اور وہ سارا عمل یعنی عمرہ دو تین گھنٹے میں ادا کر لیتی تھی۔ اب معلوم ہوا کہ اس طرح کرنے سے دم واجب ہوتا ہے۔ ان کی ادائیگی کی کیا صورت ہو گی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چونکہ احرام کی حالت میں نقاب صرف دو تین گھنٹے رہا ہے۔ اس لیے مذکورہ صورت میں دم تو نہیں آئے گا۔ البتہ صدقہ آئے گا، جس کی مقدار گندم کے لحاظ سے پونے دو  کلو گندم یا اس کی قیمت ہے۔ لہذا مذکورہ صورت میں جتنے عمرے نقاب کر کے کیے ہیں ان کا اندازہ لگا کر ہر عمرے کے عوض پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت کسی مستحق زکوٰة کو ادا کر دی جائے۔

أو ستر رأسه  بمعتاد و أما بحمل إجانة أو عدل فلا شيء عليه، يوماًو ليلةً كاملاً، و في الأقل صدقة. قال الشامي تحت قوله: (و في الأقل صدقة) نصف صاع من برّ و شمل الأقل الساعة الواحدة الفلكية و ما دونها. (رد المحتار: 3/ 657)

و ليس للمرأة أن تتنقب و تغطي وجهها فإن فعلت يوماً فعليها دم، و في الأقل صدقة. (غنية الناسك: 255)

و في الأقل من يوم و كذا من ليلة صدقة. (مناسك ملا علي قاري: 307)

و الثاني عشر: يتصدق به علی من يجوز التصدق عليه أي من الفقراء و المساكين و لو من مساكين غير الحرم إذا كانوا من المصارف. (مناسك ملا علي قاري: 395)

جنایت احرام میں جس جگہ صدقہ مطلق طور پر واجب ہوتا ہے، اس سے مراد صدقہ فطر کی مانند نصف صاع گہیوں یا ایک صاع جَو یا کھجور ہے، اور جس جگہ صدقہ کی مقدار معین ہے وہاں صدقہ سے مراد خاص وہی مقدار ہوتی ہے۔ (عمدة الفقہ: 4/ 472) فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved