• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

والدہ کے ترکہ کی تقسیم کی ایک صورت

استفتاء

میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، والدہ کے ترکہ میں ایک مکان  ہے، والدہ کے ورثاء میں شوہر،7 بیٹے اور 6 بیٹیاں ہیں، 6 بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کا انتقال والدہ کی زندگی میں ہوگیا تھا، اب 5 بیٹیاں حیات ہیں۔ میری والدہ کے والدین کا انتقال والدہ کی زندگی میں ہوگیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ والدہ کا ترکہ ان کے ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں کل مکان کے 76 حصے کیے جائیں گے جن میں سے شوہر کو 19 حصے (25 فیصد) ، سات بیٹوں میں سے ہر ایک  بیٹے کو 6 حصے (7.894 فیصد فی کس) اور پانچ بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو 3 حصے (3.947 فیصد فی کس) ملیں گے۔

نوٹ: جو بیٹی والدہ سے پہلے فوت ہوگئی اس کو  یا اس کی اولاد کو  مرحومہ  کی وراثت میں سے شرعاً حصہ نہیں ملے گا۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

4×19=76

شوہر7 بیٹے5 بیٹیاں
4/1عصبہ
13
1×193×19
1957
196+6+6+6+6+6+63+3+3+3+3

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved