- فتوی نمبر: 36-246
- تاریخ: 29 ستمبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
2005 میں زلزلہ آیا تھا جس میں میرے سسر، ساس، ایک سالی اور سالے کا ایک ساتھ انتقال ہوگیا تھا، یہ معلوم نہیں کہ کون پہلے فوت ہوا او ر کون بعد میں۔ میرے سسر کی تین بیٹیاں حیات ہیں میرے سسر کے والدین میرے سسر سے پہلے ہی فوت ہوگئے تھے۔ اور میرے سسر کے 5 بھائی تھے۔ میرے سسر کے ایک بھائی کا انتقال میرے سسر کے انتقال کے 8 سال بعد ہوا۔سسر کےفوت شدہ بھائی کے ورثاء میں بیوی تین بیٹے، اور تین بیٹیاں حیات ہیں۔ میرے سسر کی کوئی بہن نہیں ہے۔میرے سسر کی وراثت میں دس مرلے کا ایک پلاٹ ہے۔ اب یہ پلاٹ ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم کی کل جائیداد کے 1080 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو 240 حصے (22.222 فیصد فی کس) ، مرحوم کے ہر ایک بھائی کو72 حصے (6.666 فیصد فی کس)اور مرحوم کا جو بھائی فوت ہوا اس کی بیوی کو 9 حصے (0.833 فیصد) ، ہر بیٹے کو 14 حصے (1.296 فیصد فی کس) اور ہر بیٹی کو 7حصے (0.648 فیصد فی کس) ملیں گے ۔
نوٹ: ایک ساتھ مرنے والوں کی میراث ان کے زندہ ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے۔ان کو ایک دوسرے کی وراثت میں سے کچھ نہیں ملتا۔
الجوہرۃ النیرۃ(6/256) میں ہے:
(قوله وإذا غرق جماعة أو سقط عليهم حائط ولم يعلم من مات منهم أولا فمال كل واحد منهم للأحياء من ورثته) ولا يرث بعضهم من بعض؛ لأنه يحكم بموتهم معا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved