- فتوی نمبر: 35-384
- تاریخ: 22 جون 2026
- عنوانات: عبادات > قسم اور منت کا بیان > نذر و منت کے احکام
استفتاء
حضرات مفتیان کرام امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں نے مسئلہ یہ عرض کرنا تھا کہ 2024 میں میں نے منت مانی تھی کہ میں ہر روز 10 نفل پڑھا کروں گا پھر کچھ عرصہ تو میں نے اس کی پابندی کی لیکن اس کے بعد وقت نہ ملنے کی وجہ سے یہ میرے لیے مشکل ہو گیا، اب تقریبا سال ڈیڑھ سال ہو گیا ہے میں نے اس منت کو پورا نہیں کیا یعنی روزانہ نہیں پڑھے جاتے تو اب جو سال میں نے نہیں پڑھے اس کا کیا حکم ہے ؟ اور آئندہ کے لیے کیا حکم ہے ؟ کیا ابھی یہ منت کسی طریقے سے مجھ سے دور ہو سکتی ہے؟
تنقیح: 1۔میں نے منت کیلئے یہ الفاظ بولے تھے : ” یا اللہ میں روزانہ دس نفل پڑھوں گا”۔
2۔ میں نے مطلقا ً یہ بولا تھا کسی شرط کے ساتھ مشروط نہیں کیا تھا ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت منت و نذر کی نہیں کیونکہ اس میں نہ تعلیق ہے اور نہ الزام کا صیغہ ہے لہذا روزانہ دس نفل پڑھنا ضروری نہیں۔
بدائع الصنائع (4/226) میں ہے:
فركن النذر هو الصيغة الدالة عليه وهو قوله: ” لله عز شأنه علي كذا، أو علي كذا، أو هذا هدي، أو صدقة، أو مالي صدقة، أو ما أملك صدقة، ونحو ذلك.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved