- فتوی نمبر: 37-81
- تاریخ: 20 اکتوبر 2026
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > زکوۃ ادا کرنے کا بیان
استفتاء
ایک شخص لاعلمی کی وجہ سے زکوۃ ادا نہیں کرتا تھا بعد میں جب زکوۃ کے مسائل کا علم ہوا تو یکم رمضان کو زکوۃ کی تاریخ مقرر کر کے زکوۃ ادا کرنا شروع کی پھر آہستہ آہستہ کاروبار بڑھتا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ اب رمضان میں تمام اموال تجارت کا پورا پورا حساب کرنا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ رمضان سیزن کا مہینہ ہوتا ہے اور اس میں کسٹمرز کو سنبھالنا اور حساب کرنا دونوں مشکل بلکہ تقریبا ناممکن ہے اور بندہ صحیح حساب کرکے شرعی رہنمائی کے مطابق زکوۃ ادا کرنے کی خواہش رکھتا ہے لہذا صحیح حساب کرکے زکوۃ ادا کرنے کے سلسلے میں مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں :
1۔کیا اس شخص کے لیے اپنی زکوۃ کے سال کی ابتدا کی تاریخ تبدیل کرنے کی شرعا اجازت ہے؟
2۔اگر اجازت نہیں ہے تو پھر اس شخص کو اور اس کے جیسے کاروبار کرنے والے ہر مسلمان تاجر کو زکوۃ کی وجہ سے اپنا کاروبار تبدیل کرنا پڑے گا کیا شریعت اس قسم کے تاجروں کو اپنا کاروبار تبدیل کرنے کا حکم دیتی ہے؟
3۔اگر اس شخص کو زکوۃ کے سال کی تاریخ تبدیل کرنے کی اجازت ہے تو اس کی زکوۃ کے حساب کا طریقہ بتا دیں مثلا اگر یہ شخص یکم رمضان ۱۴۴۷ھ کو گزشتہ ایک سال کی زکوۃ ادا کر چکا ہے اور اس کا زکوۃ کا نیا سال یکم رمضان ۱۴۴۷ھ سے شروع ہو چکا ہے اب زکوۃ کے نئے سال کے شروع ہونے کے چار ماہ اور دس دن کے بعد 10 محرم ۱۴۴۸ھ کو اس کے پاس موجود کل قابل زکوۃ مال کی ویلیو ایک کروڑ روپیہ ہے اور اسی دن اس کی زکوۃ ادا کرنا چاہتا ہے تو کیا وہ اس چار ماہ دس دن کی زکوۃ میں ایک کروڑ روپیہ کا ڈھائی فیصد یعنی ڈھائی لاکھ روپے ادا کرے گا یا کسی اور شرح سے زکوۃ ادا کرے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ زکوٰۃ کی تاریخ شرعاً تبدیل نہیں کرسکتے ۔ زکوۃ کا حساب کرنے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ اسلامی مہینے کی جس تاریخ کو سال پورا ہو رہا ہو اسی تاریخ کو ہر ہر چیز کی الگ الگ قیمت کا حساب کرکے زکوۃ ادا کردی جائے البتہ کسی وجہ سے ہر ہر چیز کی الگ الگ قیمت کا حساب کرنا مشکل ہو تو کل سامان تجارت کی تھوک کے لحاظ سے قیمت فروخت کا اندازہ لگا کر اندازے سے کچھ زیادہ زکوۃ ادا کر دی جائے ۔
2۔نہ شریعت اپنا کاروبار تبدیل کرنے کا حکم دیتی ہے اور نہ کاروبار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
3۔ جب تاریخ تبدیل نہیں ہوسکتی تو حساب لگانے کے مذکورہ طریقے کی بھی ضرورت نہیں۔
ردالمحتار (2/295) میں ہے:
وحاصله أنه يتحرى في مقدار المؤدى: كما لو شك في عدد الركعات، فما غلب على ظنه أنه أداه سقط عنه وأدى الباقي، وإن لم يغلب على ظنه شيء أدى الكل
درمختار ( 2/295) میں ہے:
(وحولها) أى الزكاة (قمرى) بحر عن القنية (لا شمسى)
البحر الرائق (2/299) میں ہے:
وفي القنية: العبرة في الزكاة للحول القمري
آپ کے مسائل اور ان کا حل (5/93) میں ہے:
سوال: دکان کی زکوۃ اندازاً ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ یعنی اگر کپڑا ہو تو اس کو پورا ناپنا چاہیے یا اندازاً ادا کر دیا جائے؟
جواب: زکوۃ پورا حساب کرکے دینی چاہیے اگر اندازہ کم رہا تو زکوۃ کا فرض ذمہ رہے گا اگر پورے طور پر حساب کرنا ممکن نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ کا اندازہ لگانا چاہیے۔
فقہی مقالات ، مفتی تقی عثمانی صاحب(3/163) میں ہے:
جب ایک مرتبہ جو تاریخ مقرر کرلے تو پھر ہر سال اسی تاریخ کو اپنا حساب لگائے اور یہ دیکھے کہ اس تاریخ میں میرے کیا کیا اثاثے موجود ہیں، اس تاریخ میں نقد رقم کتنی ہیں اگر سونا موجود ہے تو اسی تاریخ کو سونے کی قیمت لگائے اگر شیئرز ہیں تو اسی تاریخ کو ان شیئرز کی قیمت لگائے اگر سٹاک کی قیمت لگانی ہے تو اسی تاریخ کو اسٹاک کی قیمت لگائے اور پھر ہر سال اسی تاریخ کو حساب کرکے زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے اس تاریخ سے آگے پیچھے نہیں کرنا چاہیے۔
فقہی مقالات (3/163) میں ہے:
سوال: اگر کوئی شخص اپنی زکوٰۃ کی تاریخ بدلنا چاہتا ہے تو وہ بدل سکتا ہے یا نہیں؟
جواب: جیساکہ پہلے بتایا تھا کہ ہر شخص کی زکوٰۃ کی تاریخ وہ ہے جب وہ پہلی بار صاحب نصاب بنا لیکن جب ایک تاریخ بن گئی تو پھر آئندہ اس کو وہی تاریخ رکھنی چاہیے اس کو بدلنا درست نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved