- فتوی نمبر: 36-329
- تاریخ: 06 اکتوبر 2026
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > زکوۃ ادا کرنے کا بیان
استفتاء
1۔ایک خاتون دو تولہ سونا اور دو ہزار نقدی کی وجہ سے 21 محرم الحرام کو صاحب نصاب ہوئی ، اب سال گزرنے کے بعد 21 محرم الحرام کو صرف دو تولہ سونا تھا نقدی نہیں تھی لیکن ایک ہفتہ بعد 28 محرم الحرام کو اس کے پاس پھر نقدی آئی ، اب یہ خاتون اگلے سال کس تاریخ کو زکوٰۃ کا حساب لگائے گی ؟
2۔زکوٰۃ کی تاریخ کب بدلتی ہے؟
3۔مذکورہ بالا صورت میں اگر خاتون کے پاس دو تولہ سونا اور دو ہزار روپے ہیں لیکن اس خاتون پر دو ہزار قرض ہے جو اس نے ادا کرنا ہے تو اب پہلے یہ دو ہزار قرض میں شمار کرکے ہم یہ کہیں گے کہ گویا اس کے پاس نقدی نہیں ہے لہذا زکوٰۃ نہیں یا پہلے نقدی اور سونے کی قیمت کو جمع کریں گے پھر قرض کے پیسے منہا کرکے زکوٰۃ ادا کرے گی ؟
4۔سابقہ سالوں کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہو تو کیسے ادا کریں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔اگر ایک سال بعد 21 محرم کو اس کے پاس بالکل بھی نقدی نہیں تھی حتی کہ ایک روپیہ بھی نہیں تھا تو اب یہ خاتون 28 محرم کی تاریخ سے اپنا سال دوبارہ شروع کرے گی اور اگلے سال 28 محرم کو زکوٰۃ کا حساب لگائے گی ۔
2۔دوران سال اگر ہلاک نصاب ہو جائے یعنی جن اموال زکوۃ کی وجہ سے کوئی شخص صاحب نصاب ہوا ہے ان میں سے کوئی بھی مال کسی بھی مقدار میں باقی نہ رہے تو سابقہ تاریخ ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد یہ شخص جب دوبارہ صاحب نصاب بنے گا آئندہ کے لیے یہ تاریخ مقرر ہو جائے گی اسی طرح اگر سال کی آخری تاریخ کو نقصان نصاب ہو جائے یعنی جن اموال کی وجہ سے کوئی شخص صاحب نصاب بنا تھا وہ اموال مقدار نصاب سے کم ہو جائیں تو اس صورت میں بھی سابقہ تاریخ ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد یہ شخص جب دوبارہ صاحب نصاب ہوگا تو آئندہ کے لیے یہ نئی تاریخ مقرر ہو جائے گی۔
3۔پہلے دونوں کی قیمت کو جمع کریں گے اس کے بعد قرض کو منہا کریں گے قرض منہا کرنے کے بعد بھی اگر قیمت نصاب کے بقدر ہو تو زکوۃ واجب ہوگی ورنہ واجب نہ ہوگی۔
4۔سابقہ سالوں کی زکوۃ ادا کرنے کی دو صورتیں ہیں ایک صورت یہ ہے کہ ہر ہر سال میں اموال زکوۃ کی جو قیمت تھی اس کا چالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد) ادا کر دیں دوسری صورت یہ ہے کہ ادائیگی کے وقت اموال زکوۃ کی جو قیمت ہو اس کا چالیسواں حصہ ( ڈھائی فیصد) ادا کر دیں باقی یکمشت ادا کرنے کی استطاعت نہ ہو تو تھوڑی تھوڑی کر کے ادا کردیں۔
بدائع الصنائع (3/32)میں ہے:
قال: ولو أن رجلا له مائتا درهم فضاع نصفها قبل كمال الحول بيوم ثم أفاد مائة فتم الحول وعنده مائتا درهم فعليه الزكاة لأن المعتبر كمال النصاب في آخر الحول مع بقاء شيء منه في خلال الحول وقد وجد والمستفاد لو كان قبل هلاك بعض النصاب كان مضموما إلى النصاب لعلة المجانسة فكذلك بعد هلاك بعض النصاب لبقاء حكم الحول في الموضعين فإن تم الحول ولم يستفد هذه المائة ثم مضت السنة الثانية إلا يوما ثم استفاد مائة ثم تم الحول فلا شيء عليه في الحولين لأنه تم الحول الأول وماله دون النصاب فلم تلزمه الزكاة ولم ينعقد الحول الثاني على ماله لنقصان النصاب في أول هذا الحول وإنما استفاد المائة وليس على ماله حول ينعقد فلا تلزمه الزكاة ولكن ينعقد الحول من حين استفاد المائة لأنه تم نصابه الآن فإذا تم الحول من هذا الوقت زكى المائتين
شامی (3/278) میں ہے:
(و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة)
(قوله ويضم إلخ) أي عند الاجتماع. أما عند انفراد أحدهما فلا تعتبر القيمة إجماعا بدائع؛ لأن المعتبر وزنه أداء ووجوبا كما مر. وفي البدائع أيضا أن ما ذكر من وجوب الضم إذا لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان أقل، فلو كان كل منها نصابا تاما بدون زيادة لا يجب الضم بل ينبغي أن يؤدي من كل واحد زكاته، فلو ضم حتى يؤدي كله من الذهب أو الفضة فلا بأس به عندنا، ولكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء رواجا وإلا يؤد من كل منهما ربع عشره
بدائع الصنائع (2/7) میں ہے:
إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرون مثقال ذهب فلم يؤد زكوته سنتين يزكي السنة الأولى و كذا هكذا في مال التجارة و كذا في السوائم”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved