• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دادا کی میراث میں سے اگر ورثاء پوتوں کو حصہ دے دیں

استفتاء

میرے والد صاحب جاپان ہوتے تھے، وہ پاکستان آئے تو کورونا کے دنوں میں ان کا انتقال ہوگیا، ان کے انتقال کے وقت ہمارے دادا محترم زندہ تھے اور ٹھیک ٹھاک تھے، والد صاحب کے انتقال کے سال بعد اچانک دادا جی کا بھی انتقال ہوگیا، دادا جی کی وفات کے وقت ان کے تین بیٹے (جن میں میرے والد صاحب بھی تھے) اور دو بیٹیاں اور بیوی ورثاء تھے، دادا جی کے والدین بہت پہلے فوت ہوگئے تھے۔ دادا جی نے اپنی زمین وغیرہ تینوں بیٹوں کے استعمال میں دی ہوئی تھی لیکن مالک وہ خود ہی تھے ۔میرے والد کے پاس اپنے حصہ سے زائد زمین تھی جس پر وہ کاشت کرتے تھے ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ دادا اور دادی میرے والد صاحب کے گھر میں رہتے تھے، ان کی وفات تک ساری دیکھ بھال ہم کرتے تھے۔ دادی ابھی بھی زندہ ہیں بہت ضعیف ہیں، چلنے پھرنے کے قابل نہیں اور نہ کسی کو پہچانتی ہیں۔ دادا جی کے انتقال کے بعد جب وراثت تقسیم ہوئی تو دادی کا حصہ نہیں نکالا گیا، اور نہ کسی کو خیال آیا کہ ان کا بھی حصہ نکلے گا۔ خیر میرے والد صاحب کا بھی حصہ نکالا گیا  جب دادا جی کی وراثت تقسیم ہوئی تو کسی چچا پھوپھی نے کسی قسم کی کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے بخوشی دادا کی وراثت میں سے میرے والد کا حصہ نکالا،جو ہم میں تقسیم ہوا۔ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں اور ہماری والدہ زندہ ہے، میری والدہ نے کہیں سے سنا کہ دادی کا حصہ بنتا ہے اس لیے ایک مفتی صاحب سے پوچھ کر ہمارے والد کے حصے میں جتنا دادی کا  حصہ بنتا تھا وہ ہم نے دادی کے نام کا رکھ دیا جو ابھی بھی امانت کے طور پر رکھا ہے۔ باقی چچا اور پھوپھیوں کو ہم نے بتا دیا تھا لیکن ان کا معاملہ ان کے ساتھ ہے۔ ہمیں نہیں پتہ کہ وہ کیا کریں گے۔ میرے والد صاحب کی اپنی جائداد بھی تھی اس میں سے بھی دادا اور دادی کا حصہ نکالا تھا۔ اب مسئلہ یہ ہوا کہ میں نے ایک بیان سنا ہے کہ دادا کی وراثت میں پوتوں پوتیوں کا حصہ نہیں ہوتا، اگر دادا گفٹ کردے تو الگ بات ہے۔ مفتی صاحب ہمارے والد کا جب انتقال ہوا تو دادا جی کی ساری دیکھ بھال والد کرتے تھے اور والد کے انتقال کے بعد بھی دادا ہمارے پاس رہے دادی ابھی بھی ہمارے پاس ہیں، کیا ہم پوتوں پوتیوں کا حصہ نہیں بنتا؟ میرے والد چونکہ مالی اعتبار سے سب سے زیادہ کماتے تھے تو باقی سب بہن بھائیوں کو سپورٹ بھی کرتے تھے، والد کی وفات کے بعد دادا جی کو ایک دفعہ کسی نے کہا تھا کہ یہ پوتے آپ کا اتنا خیال رکھتے ہیں ان کے نام کچھ کر جاؤ، تو انہوں نے کہا کہ ان کو ان کے والد کا حصہ مل ہی جائے گا۔ بلکہ ایک دفعہ مجھے یاد آیا کہ دادا جی نے خود مجھے کہا تھا کہ میں نے پٹواری سے پوچھا کہ میرے پوتوں کو حصہ ملے گا یا نہیں؟ تو پٹواری نے کہا تھا کہ ملے گا اس لیے تمہارا حصہ ہے۔ اور دو تین دفعہ یہ بھی کہا تھا کہ مجھے کچہری لے چلو میں نے تمہارے نام کا سٹام لکھوانا ہے تاکہ تمہیں میرے بعد کوئی پریشانی نہ ہو تو میں چونکہ بڑا بھائی ہوں تو میں نے کہا کہ دادا جی سٹام کس چیز کا، کیا ضرورت ہے؟

اب میرا سوال یہ ہے کہ: 1۔ دادا دادی کی ساری دیکھ بھال میرے والد صاحب کے گھر تھی اور دادی کی اب بھی ہے، 2۔ دادا جی نے خود کہا تھا کہ میں نے پٹواری سے پوچھا ہے، تمہیں حصہ ملے گا، 3۔ تقسیم کے وقت کسی چچا پھوپھی نے کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ ان کو شاید مسئلے کا علم ہی نہ ہوگا اور اب تک سب کے ساتھ الحمد للہ ہمارے معاملات بالکل ٹھیک ہیں کبھی کسی نے بات نہیں کی۔ 4۔ دادا جی کو اگر علم ہوتا کہ پوتوں کو حصہ گفٹ کرنے سے ملے گا تو سو فیصد بات ہے کہ وہ گفٹ کر جاتے، ان وجوہات کی بنا پر کیا ہمارا حصہ لینا جائز تھا؟ اگر جائز نہیں تھا تو اب ہم کیا کریں؟ اگر چچا وغیرہ کو دینا ضروری ہے؟ تو کیا یہ کہہ کر دینا ہوگا کہ ہمارا حصہ نہیں بنتا تھا اس لیے واپس دے رہے ہیں یا گفٹ وغیرہ کہہ کر ان کو ان کا حصہ واپس کرسکتے ہیں؟ فی الحال ہمارے لیے سب کا حصہ دینا ممکن بھی نہیں کیا تھوڑا تھوڑا کر کے دے سکتے ہیں۔ یا ان کے سامنے یہ مسئلہ ذکر کیے بغیر یہ کہ دیں کہ لین دین معاف کردیں اور کہہ دیں کہ ہم نے معاف کیا تو کیا معاف ہو جائے گا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں   اگر آپ کا غالب گمان یہ ہے کہ چچاؤں اور پھوپھیوں نے آپ کے والد کا  حصہ آپ لوگوں کو اپنی دلی رضامندی سے دیا تھا تو اب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں اور اگر آپ کو تردد اور شک ہے کہ دلی رضامندی سے دیا تھا یا نہیں تو اب اپنے چچاؤں اور پھوپھیوں سے پوچھ لیں کہ انہوں نے آپ لوگوں کو آپ کے والد کا جو حصہ دیا تھا کیا وہ اپنی دلی رضامندی  سے دیا تھا ؟اگر وہ کہہ دیں کہ دلی رضامندی سے دیا تھا تو  پھر بھی مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں  اور اگر وہ کہہ دیں کہ دلی رضامندی سے نہیں  دیا تھا تو ان کو ان کا حصہ واپس کردیں خواہ تھوڑا تھوڑا کرکے واپس کریں ۔

توجیہ :مذکورہ صورت میں دادا نے پوتوں کو ان کے والد کا حصہ دینے کا ارادہ تو کیا تھا لیکن عملاً دیا نہیں تھا لہٰذا ان کے والد کا حصہ شرعاً  ان پوتوں کا نہیں ہے بلکہ وہ حصہ  بھی داداکے موجود ورثاء یعنی سائل کے چچاؤں اور پھوپھیوں کا تھا لہٰذ اگر انہوں نے وہ حصہ اپنی دلی رضامندی سے دیا تھا تب  تو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ورنہ وہ حصہ ان کو واپس کرنا ضروری ہے ۔

فتاوی ہندیہ  (4/ 374) میں ہے:

“وأما ركنها فقول الواهب: وهبت؛ لأنه تمليك وإنما يتم بالمالك وحده، والقبول شرط ثبوت الملك للموهوب له حتى لو حلف أن لا يهب فوهب ولم يقبل الآخر حنث، كذا في محيط السرخسي”.

تبیین  الحقائق شرح كنز الدقائق (6/ 234) میں ہے:

قال رحمه الله (ويحجب بالابن) أي ولد الابن ‌يحجب بالابن ذكورهم وإناثهم فيه سواء لأن الابن أقرب، وهو عصبة فلا يرثون معه بالعصوبة، وكذا بالفرض لأن بنات الابن يدلين به فلا يرثن مع أصلهن.

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 1974) میں ہے:

 قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ ‌إلا ‌بطيب نفس منه (” لا يحل مال امرئ “) أي: مسلم أو ذمي (” ‌إلا ‌بطيب نفس “) أي: بأمر أو رضا منه.»

کفایت المفتی (8/292) میں ہے:

سوال:   زید کے دولڑکے تھے بنام عمرو، بکر، عمر و زید کی زندگی میں فوت ہوگیا اور ایک شیر خوار بچہ بنام عبداللہ چھوڑا پانچ سال کے بعد خود زید فوت ہوگیا تو زید کی جائیداد میں عبداللہ کو حصہ وراثت ملے گا یا نہیں؟

جواب: جبکہ کوئی متوفی  اپنا لڑکا اور پوتا  چھوڑے تو متوفی  کی میراث لڑکے کو ملے گی اور پوتا محروم رہے گا کیونکہ وراثت میں قرابت قریبہ قرابت بعیدہ کو محروم کردیتی ہے۔ یہی  اصول اس صورت میں بھی جاری ہے کہ بیٹوں کے سامنے پوتے  محروم ہوں گے خواہ ان پوتوں کے باپ زندہ ہوں  یا وفات پاچکے ہوں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved