- فتوی نمبر: 35-176
- تاریخ: 10 مئی 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > اجارہ فاسدہ کے احکام
استفتاء
میرا ایک دوست ہے اس کو کینیڈا کے ایک بندے کی طرف سے جاب (ملازمت) کی آفر ملی کہ وہ اس شخص کے پرسنل اسسٹنٹ کے طور پر کام کرے گا اور اس شخص کا کام یہ ہے کہ وہ بینک اور کمپنیوں کے درمیان معاہدے کرواتا ہے اور اس پر اپنا کمیشن لیتا ہے ۔دوست کا کام یہ ہے کہ وہ یہ کاغذات تیار کرے گا اور اسی طرح کے دیگر مختلف کام اس کے ذمے ہوں گے۔ تو کیا میرے اس دوست کے لیے اس شخص کے پرسنل اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنا جائز ہے ؟
وضاحت مطلوب ہے: 1۔کمپنیاں کافر وں کی ہوتی ہیں یا مسلمانوں کی ؟2۔معاہدے کس چیز کے کرواتا ہے؟
جواب وضاحت:1۔ جی کافروں کی ہوتی ہیں ۔ 2۔ انشورنس اور قرضوں کے معاہدے ہوتے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ نوکری کرنا جائز نہیں ہے ۔
تو جیہ:مذکورہ صورت میں انشورنس اور سودی قرضوں کے معاملے ہوتے ہیں اور یہ دونوں سودی معاملے ہیں لہٰذا مسلمان کے لیے نہ خود یہ معاملات کرنا جائز ہیں اور نہ ہی ان کا واسطہ بننا جائز ہے۔
صحیح مسلم (1598) میں ہے:
عن جابر قال: « لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء ».
تکملہ فتح الملہم(1/383)میں ہے:
قوله وكاتبه لأن كتابة الربا اعانة عليه ومن هنا ظهر ان التوظف في البنوك الربوية لا يجوز إن كان عمل الموظف في البنك ما يعين على الربا كالكتابة أو الحساب لإنه اعانة على المعصية.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved