- فتوی نمبر: 35-175
- تاریخ: 10 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وصیت کے احکام
استفتاء
زید صاحب ؒ ہمارے اساتذہ میں سے تھے اور روحانی باپ کی حیثیت رکھتے تھے۔ گھریلو اور خارجی امور میں سب سے زیادہ حتی کہ حقیقی اولاد سے بھی زیادہ بندہ خالد پر اعتماد کرتے تھے ا ور مشاورت کرتے تھے ۔
(1) زیدصاحب نے مجھے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میں وصیت تحریر کروں گا کہ میرےمکان میں میری بیوی تا حیات رہے گی اور میری جائیداد کے تہائی حصے کے اندر اندر جائیداد دار العلوم جامعہ اسلامیہ و مسجد ابرار کو دی جائے اور باقی جائیداد ورثا میں شریعت کے مطابق تقسیم کی جائے ۔ ( ان کی وصیت کی تحریر ساتھ لف ہے )۔اس وصیت کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور یہ وصیت کن چیزوں کو شامل ہوگی؟ اور کیا اسی مسجد ومدرسہ میں دینا ضروری ہوگا؟
(2)زید صاحب نے مجھے بتایا تھا کہ میری جائیداد میں میرا رہائشی مکان ساڑھے تین مرلہ غازی آباد اور ہر بنس پورہ میں ڈھائی مرلہ مکان ہے ۔اور میری چھوٹی بیٹی کے ذمہ 21 لاکھ روپے قرض ہیں متعدد مرتبہ تقاضا کیا لیکن بیٹی نے بندوبست نہ ہونے کا عذر کیا اور زید صاحب نے وہ رقم معاف بھی نہیں کی اور قرض کے حساب میں ہی رکھی اب اس بات کا اقرار حقیقی ورثا بھی کر چکے ہیں ۔اس قرض کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا وصیت میں قرض کی رقم بھی شامل ہوگی؟
(3) کیا زید صاحب کی وراثت میں گھر کے بستر ،برتن ، بجلی پانی کےکنکشن اور گیس کے میٹر اور نقد رقم وغیرہ شمار ہوں گے ؟
(4)زید صاحب نے بندہ کے پاس مبلغ ڈیڑھ لاکھ روپے رکھوائے تھے کہ یہ آپ کو میں نے اس لیے دیے ہیں کہ ان میں غسل ، کفن اور تدفین اور کھانے کا انتظام کیا جائے اور اولاد میں سے کوئی غسل کفن تدفین اور کھانے میں شریک ہونا چاہے تو ٹھیک ورنہ تمام اخراجات میری رقم سے کرنا اور بقایا رقم میری نمازوں اور روزوں کے فدیہ میں دارالعلوم میں دے دینا اور میری اولاد کو نہیں دینا بلکہ یہ پیسے مدرسے کے ہیں۔ مرحوم کے ورثاء بھی اس وصیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
نوٹ: تقریباً اکیس ہزار (21,000) روپے تجہیز وتکفین پر خرچ ہوگئے ہیں، باقی کھانے وغیرہ کا انتظام ورثاء نے خود کیا تھا باقی رقم بچ گئی ہے۔
براہ کرم درج بالا امور میں شریعت کا حکم کیا ہے رہنمائی فرمائیں ۔
نیز عرض ہے کہ حقیقی ورثاء میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں ابھی بھی حیات ہیں ۔
تنقیح : زید صاحب کی اہلیہ یہ وصیت لکھنے کے بعد زید صاحب کی حیات میں ہی وفات پاگئی تھیں ۔
مرحوم کے بیٹے عمر کا بیان :
والد صاحب نے اس وصیت کے متعلق کبھی ہم سے کوئی تذکرہ نہیں کیا ۔ ان کی وفات کے بعد مولانا خالد صاحب کے بتانے پر جب ہم نے ان کی ڈائری دیکھی تو اس میں وصیت کی تحریر والد صاحب کی لکھائی میں درج تھی ۔ ہمیں اس کے علاوہ اس وصیت کے متعلق کچھ نہیں معلوم ۔ ہم بھائیوں کے معاشی حالات اگرچہ بہت تنگ ہیں لیکن ہم ان شاء اللہ ان کی وصیت کو پورا کریں گے ۔( بیٹے کی طرف سے بھی ایک سوال استفتاء نمبر 26/714 کے تحت وراثتی امور سے متعلق جمع کروایا گیا ہے ۔)
وصیت نامہ کی عبارت:
………………… ميرے بعد میری اہلیہ تاحیات موجودہ رہائش گاہ میں رہے گی۔ نیر میری جائیداد کا تیسرا حصہ دارالعلوم جامعہ اسلامیہ اور جامع مسجد ابرار گلی نمبر 56 تاجپورہ روڈ غازی آباد مغل پورہ لاہور میں دیا جائے۔ باقی جائیداد شریعت کے مطابق تقسیم ہو۔
وضاحت مطلوب ہے: مرحوم نے کسی کو بتایا تھا کہ ان کے ذمے کتنے روزوں اور نمازوں کی قضا ہے؟
جواب وضاحت: مجھے کوئی تعداد نہیں بتائی اور ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ اگر روزہ قضا ہوجاتا تھا تو رمضان کے فوراً بعد رکھ لیتے اور نماز بھی فوراً لوٹا لیتے تھے، بظاہر والد صاحب کے ذمے نمازیں اور روزے نہیں ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1) مذکورہ صورت میں ایک تہائی میں وصیت جاری ہوگی اور صرف مکان اور پلاٹ کو شامل ہوگی، نیز غیر منقولہ جائیداد کا تیسرا حصہ اسی مسجد ومدرسہ کو دینا ہوگا جس کا نام لکھا ہے کسی اور مسجد ومدرسہ کو دینا درست نہیں ہے۔
(2) مذکورہ صورت میں مذکورہ تحریر بیٹی یا اس کے شوہر کے ذمے قرض ثابت کرنے لیے کافی نہیں جب تک کہ بیٹی یا اس کا شوہر خود اقرار نہ کریں یا جب تک بیٹوں کے پاس اس قرض کو ثابت کرنے کے لیے معتبر گواہ نہ ہوں۔ یہ دنیاوی حکم ہے تاہم اگر واقعتاً قرض لیا تھا اور وہ نہ اد اکیا اور نہ مرحوم نے معاف کیا تو آخرت میں دینا پڑے گا۔ نیز مذکورہ وصیت قرض کو شامل نہ ہوگی کیونکہ ہمارے عرف میں جائیداد کا لفظ عموماً غیر منقولہ اشیاء پر بولا جاتا ہے۔
(3) یہ سب وراثت میں شمار ہوگا۔
(4) مذکورہ رقم میں سے غسل ، کفن اور تدفین کے بعد جو رقم بچ گئی ہے وہ ورثاء میں تقسیم ہوگی ہے کیونکہ زید صاحب نے کسی کو نہیں بتایا کہ ان کے ذمے کتنے روزوں اور نمازوں کی قضا ہے اور ان کے بیٹوں کے بیان کے مطابق وہ نماز اور روزوں کی قضا فوراً کرلیتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved