- فتوی نمبر: 35-50
- تاریخ: 04 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
ایک شخص کی دو بیویاں ہیں اور اس نے دونوں کو تین تین پتھر دیے کہ یہ تمہاری طلاق ہے۔یہ سب کچھ بطور مزاح اس نے کیا۔اس کی نیت انہیں ڈرانے/ دھمکانے کی تھی نہ کہ حقیقی طلاق کی۔ اس کے بارے میں ہمیں حدیث اور قرآن کی روشنی میں اپنی حقیقی رائے سے آگاہ فرمایئے گا ۔
وضاحت مطلوب ہے: شوہر کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔
جواب وضاحت: شوہر کا رابطہ نمبر یہ ہے: *******
دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے درج ذیل بیان دیا:
میں نے مذاق میں دونوں بیویوں کو تین، تین پتھر دیئے اور کہا کہ یہ تمہاری سون ہے۔”سون” بلوچی زبان میں “طلاق ” کو کہتے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں دونوں بیویوں پر تین تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے دونوں بیویاں شوہر پر حرام ہو چکی ہیں لہٰذا اب نہ صلح ہوسکتی ہے اور نہ رجوع کی گنجائش ہے۔
توجیہ :مذکورہ صورت میں مرد نے تین تین پتھر دونوں بیویوں کو دیے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ” یہ تمہاری طلاق ہے” لہذا دونوں کو طلاقیں ہو چکی ہیں نیز شوہر نے مذکورہ الفاظ اگرچہ مزاح میں کہےہیں تاہم مزاح اور ڈرانے دھمکانے کے طور پر بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا دونوں بیویاں شوہر پر حرام ہو چکی ہیں۔
سنن ابی داؤد (2/225) میں ہے:
حدثنا القعنبي، حدثنا عبد العزيز يعني ابن محمد عن عبد الرحمن ابن حبيب، عن عطاه بن أبي رباح، عن ابن ماهك عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة”
ہندیہ (1/372) میں ہے:
ولو قال أنت طالق هكذا وأشار بأصبع واحدة فهي واحدة وإن أشار بأصبعين فهي ثنتان وإن أشار بثلاث فثلاث ويعتبر في الأصابع المنشورة دون المضمونة
المحیط البرہانی (3/221) میں ہے:
ولو قال لها أنت طالق هكذا وأشار بإصبع واحدة فهي واحدة وإن أشار بثنتين فهي ثنتان وإن أشار بالثلاثة فهي ثلاث لأن الإشارة بالأصابع بمنزلة التصريح بالعدد وإن أشار بثلاثة أصابع
شامی (3/230) میں ہے:
أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه
شامی (3/247) میں ہے:
فلا يقع بإلقاء ثلاثة أحجار إليها أو بأمرها بحلق شعرها وإن اعتقد الإلقاء والحلق طلاقا كما قدمناه لأن ركن الطلاق اللفظ أو ما يقوم مقامه مما ذكر كما مر
بدائع الصنائع (3/275) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر
فتاوی حقانیہ (4/453) میں ہے:
سوال : ایک شخص نے بیوی کو ایک مرتبہ طلاق کا لفظ استعمال کیا ہے البتہ ہاتھ میں تین پتھر لے کر پھینکے ہیں کیا ایسی حالت میں الفاظ کا اعتبار ہے کہ جس سے بیوی پر ایک طلاق واقع ہو ایک کنکریوں کا اعتبار کر کے تین طلاق معتبر ہوگی؟
جواب : طلاق کے وقوع میں بنیادی حیثیت الفاظ کی ہے پتھر پھینکنا بذات خود کوئی طلاق نہیں اس لیے اگر کسی نے بیوی کی طرف صرف پتھر پھینکا اور زبان پر کسی تلفظ سے باز رہا تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی البتہ زبان پر تلفظ کرتے وقت پتھر پھینکنے سے مافی ضمیر کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے اس لیے اگر تین پتھر پھینکتے ہوئے “تو طلاق ہے “کہہ دیا تو تین کی نیت کرتے ہوئے تین طلاق واقع ہو سکتی ہے ورنہ ایک طلاق واقع ہو کر منکوحہ قابل رجوع ہے ۔
قال العامة ابن عابدين وكذا لو القى ثلاثه أحجار إليها ولم يذكر لفظ الطلاق ونوى بهالطلاق الثلاث لم يقع لعدم الركن وهو اللفظ والنيه انما تصح في الملفوظ او ما يقوم مقامه (رد المحتار 2/465)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved