- فتوی نمبر: 32-176
- تاریخ: 04 اپریل 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > اسلامی عقائد
استفتاء
سوال یہ ہے کہ اگر میت رکھی ہو تو وہاں پر اجتماعی دعا کروانا جائز ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: “میت رکھی ہو” سے کیا مراد ہے؟
جواب وضاحت: میت گھر میں رکھی ہو اور خواتین جمع ہوں، کوئی ایک عورت دعا کروائے تو کیا یہ جائز ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر کبھی اتفاقاً ایسا کرلیا گیا ہو تو جائز ہے بشرطیکہ عورت کی آواز غیر محرم مردوں تک نہ جائے ۔ باقی اس کو مستقل معمول بنانا درست نہیں۔
فتاویٰ حقانیہ (3/460) میں ہے:
سوال: بعض علاقوں میں دستور ہے کہ بآواز بلند میت اور اس کے اہل خانہ کے لیے دعا کرتے ہیں اور حاضرین بآواز بلند آمین کہتے ہیں ، دعا ختم ہونے کے بعد جنازہ اٹھایا جاتا ہے اس عمل کا شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب: میت اور اس کے اہل خانہ کے لیے دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جنازہ اٹھانے سے قبل اور اس کے بعد انفرادی طور پر دعا کی جاسکتی ہے البتہ اجتماعی طور پر بآواز بلند امام مسجد کا دعا کرنا اور حاضرین کا آمین کہنا سلف وصالحین سے اور ائمہ مجتہدین سے ثابت نہیں ہے اس لیے صورت مسئولہ میں دعا کا درج شدہ طریقہ کراہت سے خالی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved