• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کلمہ میں آپﷺ کے نام کے بعد درود پڑھنا

استفتاء

السلام علیکم گزارش یہ ہے کہ کلمہ طیبہ کے الفاظ “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ”ہیں  لیکن لوگ اسے “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم “تک بڑھا دیتے ہیں ۔کیا یہ صحیح طریقہ ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

کلمہ تو “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ہی ہے لیکن چونکہ آنحضرت ﷺ کے اسم گرامی کےبعد درود شریف پڑھنا احادیث سے ثابت ہے اس لیے کلمہ کے بعد “صلی اللہ علیہ وسلم”لہجہ کچھ بدل کر پڑھ لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔

فتاوی عثمانی (1/54) میں ہے:

سوال:  کیا کلمہ طیبہ کے ساتھ  ﷺ پڑھنا جائز ہے یا کلمہ طیبہ صرف  لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہی ہے؟ بندہ کلمہ کے ساتھ زیادتی کی بناء پر  ﷺ پڑھنے سے رکتا ہے، صرف اس خدشے سے کہ کلمہ میں اضافہ جائز نہیں ہے۔ کیا میرا یہ رکنا جائز ہے یا نا جائز؟

جواب:  کلمہ تو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہی ہے، لیکن چونکہ آنحضرت  ﷺ کا اسم گرامی جب بھی لیا جائے اس پر درود شریف پڑھنا احادیث سے ثابت ہے، اس لئے اگر کلمہ کے بعد صلی اللہ علیہ وسلم  پڑھ  دیا جائے تو کوئی مضائقہ  نہیں البتہ اس میں یہ احتیاط کرنی چاہیے کہ “صلی اللہ علیہ وسلم”کہتے وقت لہجہ کچھ بدل لیا جائے تا کہ کلمہ پر اضافے کا شبہ نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved